امام احمد نے سعد بن معاذ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک انصاری شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ہمیں جمعہ کے دن کے متعلق بتائیں کہ اس میں کیا خبر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس میں پانچ خصوصیات ہیں ،،،،،۔‘‘ اور باقی حدیث آخر تک (اسی طرح) بیان کی ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا ، جمعہ کے دن کے نام کی وجہ سے تسمیہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ اس روز آپ کے باپ آدمؑ کے خمیر کو تیار کیا گیا ، اسی میں نفخہ اولی (پہلی بار صور پھونکا جانا) اور نفخہ ثانیہ ہے ۔ اسی میں حشر کا میدان سجے گا ۔ اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو شخص اس میں دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے روز مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو ۔ کیونکہ وہ مشہود ہے ، اس پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ جب تم میں سے کوئی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے تو اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اس سے فارغ ہو جائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اور وفات کے بعد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے انبیا علیہم السلام کے اجساد کو کھانا زمین (مٹی) پر حرام کر دیا ہے ۔ اللہ کے نبی ؑ زندہ ہوتے ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہو جاتا ہے تو اللہ اسے فتنہ قبر سے بچا لیتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور اس کی سند متصل نہیں ۔ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے ۔ کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی :’’ آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے ۔‘‘ تو اس وقت ان کے پاس ایک یہودی تھا ، اس نے کہا : اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس (یوم نزول) کو عید بنا لیتے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ تو عیدین کے روز نازل ہوئی ہے ، جمعہ کے دن اور عرفہ کے دن ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ماہ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ہمارے لیے رجب و شعبان میں برکت فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ جمعہ کی رات ، چمک دار رات ہے اور جمعہ کا دن ترو تازہ دن ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر کی سیڑھیوں پر فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگ جمعے چھوڑنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور پھر وہ غافلین میں سے ہو جائیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوجعد ضمری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص عدم توجہ کی بنا پر تین جمعے چھوڑے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Hadith 1372
sahih
وَرَوَاهُ مَالك عَن صَفْوَان بن سليم
Urdu
امام مالک نے اسے صفوان بن سلیم ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بلا عذر جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے اگر وہ نہ پائے تو نصف دینار ۔‘‘ ضعیف ۔
Hadith 1375
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu
عبداللہ بن عمرو ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا :’’ جو شخص اذان سنے اس پر جمعہ فرض ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص رات اپنے اہل و عیال کے پاس واپس آ سکتا ہو اس پر جمعہ فرض ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس حدیث کی اسناد ضعیف ہیں ۔ ضعیف ۔
طارق بن شہاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر مسلمان پر با جماعت جمعہ ادا کرنا فرض ہے ۔ سوائے چار کے ، عبد مملوک ، عورت ، بچے ، یا مریض کے ۔‘‘ ابوداؤد اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ سے بنووائل کے ایک شخص کی سند سے مروی ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے بارے میں فرمایا :’’ میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پھر میں جمعہ سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو گھروں سمیت آگ لگا دوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بلا عذر جمعہ ترک کر دے تو اسے ایسی کتاب میں منافق لکھ دیا جاتا ہے جو مٹائی جا سکتی ہے نہ تبدیل کی جاسکتی ہے ۔‘‘ اور بعض روایات میں تین جمعوں کا ذکر ہے ۔ ضعیف ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جبکہ مریض یا مسافر یا عورت یا بچہ یا مملوک نہ ہو اس پر جمعہ کے روز جمعہ پڑھنا فرض ہے ۔ اور جو شخص کھیل یا تجارت کی وجہ سے بے اعتنائی برتے تو اللہ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ بے نیاز قابل تعریف ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح مقدور بھر صفائی کرے اور تیل لگائے اور اپنے گھر میں موجود خوشبو لگائے ، پھر اپنے گھر سے (جمعہ کے لیے) روانہ ہو ، اور (مسجد میں آ کر) دو بیٹھے ہوئے آدمیوں کو (ان کی جگہ سے) نہ ہٹائے ، پھر جس قدر مقدور ہو نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کر دے تو پھر خاموش ہو جائے تو اس کے اس حاضر اور دوسرے جمعہ کے درمیان والے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص غسل کر کے جمعہ کے لیے آئے اور جتنی مقدر میں ہو نماز پڑھے ۔ پھر خطبہ مکمل ہونے تک خاموش رہے اور پھر امام کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کے اس اور دوسرے جمعہ کے درمیان والے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کر کے جمعہ کے لیے آئے اور خاموشی سے غور کے ساتھ خطبہ سنے تو اس کے اس اور دوسرے جمعہ کے درمیان والے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ اور جو کنکریوں سے کھیلتا رہے تو اس نے لغو کام کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔