Back to Mishkat Al-Masabih

Prayer

كتاب الصلاة

Chapter 4

Hadith 1324
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ الله لَهُ ثمَّ قَرَأَ هَذِه الاية: (وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذكرُوا الله فاستغفروا لذنوبهم) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَه لم يذكر الْآيَة
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے مجھے حدیث بیان کی ، اور ابوبکر ؓ نے سچ فرمایا ، انہوں نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ کر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (والذین اذا فعلوا ،،،، فاستغفروا لذنوبھم) ’’ اور وہ لوگ جب کوئی برا کام کر گزرتے ہیں یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتے ہیں ، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں ، پھر اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، البتہ ابن ماجہ نے آیت ذکر نہیں کی ۔ اسنادہ حسن ۔

Hadith 1325
sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوراً نفل نماز کا اہتمام فرماتے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1326
sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: «بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهُ وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِهِمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کے وقت بلال ؓ سے پوچھا :’’ کس عمل کی وجہ تم مجھ سے پہلے جنت میں چلے گئے میں جب بھی جنت میں گیا تو میں نے تمہارے جوتوں کی آواز اپنے آگے سنی ،‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں جب بھی اذان کہتا ہوں تو دو رکعتیں پڑھتا ہوں ، اور جب میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے تو میں فوراً وضو کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے دو رکعتیں پڑھنا مجھ پر لازم ہیں (لہذا میں دو رکعتیں پڑھتا ہوں) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انہی دو کی وجہ سے (تم اس مقام کو پہنچے ہو) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 1327
sahih
وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى أحد من بني آدم فَليَتَوَضَّأ فليحسن الْوُضُوءَ ثُمَّ لْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لْيُثْنِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًى إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
Urdu

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو اللہ سے کوئی حاجت و ضرورت ہو یا کسی انسان سے کوئی کام ہو تو وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے ، پھر اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرے اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر صلوٰۃ پڑھے پھر یوں دعا کرے :’’ اللہ حلیم و کریم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، عرش عظیم کا رب پاک ہے ، ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ، میں تجھ سے ان اعمال و اسباب کی درخواست کرتا ہوں جو تیری رحمت اور تیری مغفرت کو واجب و مؤکد کر دیں ، میں ہر نیکی کو غنیمت جاننے اور ہر گناہ سے بچنے کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں ، سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ! میرے تمام گناہ معاف فرما دے ، میرے تمام غم دور کر دے اور ہر ضرورت جو تیری رضا کا باعث بنے اسے پورا فرما دے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1328
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّاهُ أَلَا أُعْطِيكَ؟ أَلَا أَمْنَحُكَ؟ أَلا أحبوك؟ أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً. فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ قُلْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْت أَن تصليها فِي كل يَوْم فَافْعَلْ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمْرِكَ مَرَّةً . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے فرمایا :’’ اے چچا جان عباس ! کیا میں آپ کو کچھ عطا نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو کچھ عنایت نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو کوئی خبر نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں عطا نہ کروں کہ جب آپ ان پر عمل کریں تو اللہ آپ کے اگلے پچھلے ، قدیم و جدید ، سہواً کیے گئے یا عمداً ، چھوٹے بڑے ، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہ معاف فرما دے ، وہ یہ کہ آپ چار رکعت نماز پڑھیں ، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں ، جب آپ پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں اور ابھی قیام میں ہوں تو آپ پندرہ مرتبہ ’’ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ‘‘ پڑھیں ، پھر آپ رکوع کریں اور رکوع میں یہی تسبیح دس مرتبہ پڑھیں ، پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں ، پھر سجدہ کریں اور سجدہ میں دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں ، پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں ، پھر سجدہ کریں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں اور پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں ، اس طرح ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ کلمات ہوں گے ، آپ یہ عمل چار رکعتوں میں دہرائیں ، اگر آپ ہر روز اسے پڑھ سکیں تو پڑھیں ، اگر ایسے نہ ہو سکے تو پھر ہر جمعہ (یعنی ہفتہ میں ایک بار) پڑھیں ، اگر ایسے نہ کر سکیں تو پھر سال میں ایک مرتبہ پڑھیں ، اگر ایسے بھی نہ کر سکیں تو پھر اپنی زندگی میں ایک بار ہی پڑھ لیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و البیھقی ۔

Hadith 1329
sahih
وروى التِّرْمِذِيّ عَن أبي رَافع نَحوه
Urdu

امام ترمذی نے ابورافع سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔

Hadith 1330
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عمله صلَاته فَإِن صلحت فقد أَفْلح وأنجح وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: نظرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُكَمَّلُ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ . وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلَ ذَلِك ثمَّ تُؤْخَذ الْأَعْمَال حسب ذَلِك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بندے سے روز قیامت اس کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا ، اگر وہ صحیح و درست ہوئی تو وہ فلاح و نجات پا گیا اور اگر وہ صحیح و درست نہ ہوئی تو پھر وہ ناکام و نا مراد ہو گا ، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی ہوئی تو رب تبارک و تعالی فرمائے گا : دیکھو ، کیا میرے بندے کے کچھ نوافل ہیں ، تو اس طرح فرائض کی کمی کو ان (نوافل) سے پورا کر دیا جائے گا ، پھر باقی اعمال کا حساب اسی طرح ہو گا ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ پھر زکوۃ کا حساب بھی اسی طرح ہو گا اور پھر باقی اعمال کا حساب بھی اسی (مذکور مثال کی) طرح ہو گا ۔‘‘ حسن واللفظ مرکب ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1331
sahih
وَرَوَاهُ أَحْمد عَن رجل
Urdu

امام احمد نے (نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب میں سے) کسی ایک سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

Hadith 1332
sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لَعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ» يَعْنِي الْقُرْآنَ. رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بندہ جب دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے اور جب تک بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے تو نیکی (رحمت) اس بندے کے سر پر سایہ کرتی رہتی ہے ، اور بندہ اللہ کے کلام یعنی قرآن کے ذریعے جس قدر اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے ویسا کسی اور چیز کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتا ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1333
sahih
عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْر بِذِي الحليفة رَكْعَتَيْنِ
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت (پوری نماز) ادا کی اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت (قصر نماز) ادا کی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1334
sahih
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَكْثَرُ مَا كُنَّا قَطُّ وآمنه بمنا رَكْعَتَيْنِ
Urdu

حارثہ بن وہب خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں منی ٰمیں دو رکعتیں پڑھائیں ، حالانکہ اس سے پہلے ہم کبھی نہ تو اتنی کثیر تعداد میں تھے اور نہ کبھی اس قدر پر امن تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1335
sahih
وَعَن يعلى بن أُميَّة قَالَ: قلت لعمر بن الْخطاب: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى (أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا) فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ. قَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صدقته» رَوَاهُ مُسلم
Urdu

یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عمر بن خطاب ؓ سے کہا : اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا :’’ (انتقصروا ،،،، الذین کفروا) اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں کسی مصیبت میں ڈال دیں گے تو تم نماز میں کچھ کمی کر لو ۔‘‘ اب تو لوگ پر امن ہیں (کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں)، عمر ؓ نے فرمایا : جیسے آپ کو تعجب ہوا ہے ویسے مجھے بھی تعجب ہوا تھا ۔ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا :’’ ایک قسم کا صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے ، تم اس کی طرف سے صدقہ قبول کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1336
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قِيلَ لَهُ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّة شَيْئا قَالَ: «أَقَمْنَا بهَا عشرا»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ ہمارے مدینہ واپس پہنچنے تک دو دو رکعتیں (نماز قصر) پڑھاتے رہے ، ان سے پوچھا گیا کہ تم نے مکہ میں کچھ قیام بھی کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہم نے وہاں دس روز قیام کیا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1337
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَافَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ نُصَلِّي فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَكَّةَ تِسْعَةَ عَشَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِك صلينَا أَرْبعا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سفر کیا (فتح مکہ کا سفر) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انیس دن قیام کیا اور آپ دو دو رکعتیں پڑھاتے رہے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم مدینہ اور مکہ کے درمیانی فاصلے پر انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں ، جب ہم اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو ہم چار رکعتیں (پوری نماز) پڑھتے ہیں ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 1338
sahih
وَعَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَاءَ رَحْلَهُ وَجَلَسَ فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ. قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي. صَحِبْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ وَأَبَا بكر وَعمر وَعُثْمَان كَذَلِك
Urdu

حفص بن عاصم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں طریق مکہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا ، آپ ؓ نے ہمیں ظہر دو رکعت پڑھائی ، پھر اپنی قیام گاہ میں آ کر بیٹھ گئے ، آپ نے کچھ لوگوں کو قیام کرتے (نماز پڑھتے) ہوئے دیکھا تو فرمایا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : نفل پڑھ رہے ہیں ، انہوں نے فرمایا : اگر میں نے نفل پڑھنے ہوتے تو میں اپنی نماز پوری پڑھتا ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابوبکر ؓ و عمر ؓ اور عثمان ؓ کے ساتھ رہا ہوں وہ سفر میں دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1339
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَين الظُّهْرِ وَالْعَصْر إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ وَيجمع بَين الْمغرب وَالْعشَاء. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کرتے تو ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 1340
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ على رَاحِلَته
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوران سفر اپنی سواری پر جس طرف وہ رخ کرتی ، نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اور آپ رکوع و سجود کے لیے سر کا اشارہ فرماتے تھے ۔ آپ فرائض کے علاوہ نماز تہجد اور نماز وتر اپنی سواری پر ادا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1341
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَرَ الصَّلَاةَ وَأَتَمَّ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (دوران سفر) ہر طرح کی نماز پڑھی ۔ آپ نے قصر بھی پڑھی اور پوری بھی ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 1342
sahih
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ يَقُولُ: «يَا أَهْلَ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفْرٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں میں غزوات میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ شریک رہا ۔ اور فتح مکہ کے موقع پر بھی میں آپ کے ساتھ موجود تھا ۔ آپ نے مکہ میں اٹھارہ روز قیام فرمایا ، آپ دو رکعتیں پڑھ کر فرماتے :’’ اہل مکہ تم چار رکعتیں پڑھو ، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1343
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا وَالْمَغْرِبُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءٌ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ وَلَا يَنْقُصُ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ وَهِيَ وِتْرُ النَّهَارِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے دوران سفر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر دو رکعت پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : میں نے سفر و حضر میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے ۔ میں نے حضر میں آپ کے ساتھ ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں ۔ اور میں نے دوران سفر آپ کے ساتھ ظہر دو رکعت پڑھی اور دو رکعتیں اس کے بعد پڑھیں ۔ اور عصر دو رکعت پڑھی اور اس کے بعد کچھ نہ پڑھا ۔ جبکہ مغرب سفر و حضر دونوں حالتوں میں تین رکعت پڑھیں ۔ سفر ہو یا حضر ان میں کمی نہیں کی جاتی ۔ اور یہ دن کے وتر ہیں ۔ اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں ۔ ضعیف ۔