علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے مجھے حدیث بیان کی ، اور ابوبکر ؓ نے سچ فرمایا ، انہوں نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ کر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (والذین اذا فعلوا ،،،، فاستغفروا لذنوبھم) ’’ اور وہ لوگ جب کوئی برا کام کر گزرتے ہیں یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتے ہیں ، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں ، پھر اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، البتہ ابن ماجہ نے آیت ذکر نہیں کی ۔ اسنادہ حسن ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوراً نفل نماز کا اہتمام فرماتے ۔ ضعیف ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کے وقت بلال ؓ سے پوچھا :’’ کس عمل کی وجہ تم مجھ سے پہلے جنت میں چلے گئے میں جب بھی جنت میں گیا تو میں نے تمہارے جوتوں کی آواز اپنے آگے سنی ،‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں جب بھی اذان کہتا ہوں تو دو رکعتیں پڑھتا ہوں ، اور جب میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے تو میں فوراً وضو کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے دو رکعتیں پڑھنا مجھ پر لازم ہیں (لہذا میں دو رکعتیں پڑھتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انہی دو کی وجہ سے (تم اس مقام کو پہنچے ہو) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو اللہ سے کوئی حاجت و ضرورت ہو یا کسی انسان سے کوئی کام ہو تو وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے ، پھر اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوٰۃ پڑھے پھر یوں دعا کرے :’’ اللہ حلیم و کریم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، عرش عظیم کا رب پاک ہے ، ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ، میں تجھ سے ان اعمال و اسباب کی درخواست کرتا ہوں جو تیری رحمت اور تیری مغفرت کو واجب و مؤکد کر دیں ، میں ہر نیکی کو غنیمت جاننے اور ہر گناہ سے بچنے کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں ، سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ! میرے تمام گناہ معاف فرما دے ، میرے تمام غم دور کر دے اور ہر ضرورت جو تیری رضا کا باعث بنے اسے پورا فرما دے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے فرمایا :’’ اے چچا جان عباس ! کیا میں آپ کو کچھ عطا نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو کچھ عنایت نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو کوئی خبر نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں عطا نہ کروں کہ جب آپ ان پر عمل کریں تو اللہ آپ کے اگلے پچھلے ، قدیم و جدید ، سہواً کیے گئے یا عمداً ، چھوٹے بڑے ، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہ معاف فرما دے ، وہ یہ کہ آپ چار رکعت نماز پڑھیں ، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں ، جب آپ پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں اور ابھی قیام میں ہوں تو آپ پندرہ مرتبہ ’’ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ‘‘ پڑھیں ، پھر آپ رکوع کریں اور رکوع میں یہی تسبیح دس مرتبہ پڑھیں ، پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں ، پھر سجدہ کریں اور سجدہ میں دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں ، پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں ، پھر سجدہ کریں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں اور پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور دس مرتبہ یہی کلمات پڑھیں ، اس طرح ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ کلمات ہوں گے ، آپ یہ عمل چار رکعتوں میں دہرائیں ، اگر آپ ہر روز اسے پڑھ سکیں تو پڑھیں ، اگر ایسے نہ ہو سکے تو پھر ہر جمعہ (یعنی ہفتہ میں ایک بار) پڑھیں ، اگر ایسے نہ کر سکیں تو پھر سال میں ایک مرتبہ پڑھیں ، اگر ایسے بھی نہ کر سکیں تو پھر اپنی زندگی میں ایک بار ہی پڑھ لیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و البیھقی ۔
امام ترمذی نے ابورافع سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بندے سے روز قیامت اس کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا ، اگر وہ صحیح و درست ہوئی تو وہ فلاح و نجات پا گیا اور اگر وہ صحیح و درست نہ ہوئی تو پھر وہ ناکام و نا مراد ہو گا ، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی ہوئی تو رب تبارک و تعالی فرمائے گا : دیکھو ، کیا میرے بندے کے کچھ نوافل ہیں ، تو اس طرح فرائض کی کمی کو ان (نوافل) سے پورا کر دیا جائے گا ، پھر باقی اعمال کا حساب اسی طرح ہو گا ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ پھر زکوۃ کا حساب بھی اسی طرح ہو گا اور پھر باقی اعمال کا حساب بھی اسی (مذکور مثال کی) طرح ہو گا ۔‘‘ حسن واللفظ مرکب ، رواہ ابوداؤد ۔
امام احمد نے (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے) کسی ایک سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بندہ جب دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے اور جب تک بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے تو نیکی (رحمت) اس بندے کے سر پر سایہ کرتی رہتی ہے ، اور بندہ اللہ کے کلام یعنی قرآن کے ذریعے جس قدر اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے ویسا کسی اور چیز کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتا ۔‘‘ ضعیف ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت (پوری نماز) ادا کی اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت (قصر نماز) ادا کی ۔ متفق علیہ ۔
حارثہ بن وہب خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں منی ٰمیں دو رکعتیں پڑھائیں ، حالانکہ اس سے پہلے ہم کبھی نہ تو اتنی کثیر تعداد میں تھے اور نہ کبھی اس قدر پر امن تھے ۔ متفق علیہ ۔
یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عمر بن خطاب ؓ سے کہا : اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا :’’ (انتقصروا ،،،، الذین کفروا) اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں کسی مصیبت میں ڈال دیں گے تو تم نماز میں کچھ کمی کر لو ۔‘‘ اب تو لوگ پر امن ہیں (کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں)، عمر ؓ نے فرمایا : جیسے آپ کو تعجب ہوا ہے ویسے مجھے بھی تعجب ہوا تھا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا :’’ ایک قسم کا صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے ، تم اس کی طرف سے صدقہ قبول کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ ہمارے مدینہ واپس پہنچنے تک دو دو رکعتیں (نماز قصر) پڑھاتے رہے ، ان سے پوچھا گیا کہ تم نے مکہ میں کچھ قیام بھی کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہم نے وہاں دس روز قیام کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سفر کیا (فتح مکہ کا سفر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انیس دن قیام کیا اور آپ دو دو رکعتیں پڑھاتے رہے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم مدینہ اور مکہ کے درمیانی فاصلے پر انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں ، جب ہم اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو ہم چار رکعتیں (پوری نماز) پڑھتے ہیں ۔ رواہ البخاری ۔
حفص بن عاصم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں طریق مکہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا ، آپ ؓ نے ہمیں ظہر دو رکعت پڑھائی ، پھر اپنی قیام گاہ میں آ کر بیٹھ گئے ، آپ نے کچھ لوگوں کو قیام کرتے (نماز پڑھتے) ہوئے دیکھا تو فرمایا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : نفل پڑھ رہے ہیں ، انہوں نے فرمایا : اگر میں نے نفل پڑھنے ہوتے تو میں اپنی نماز پوری پڑھتا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر ؓ و عمر ؓ اور عثمان ؓ کے ساتھ رہا ہوں وہ سفر میں دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کرتے تو ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوران سفر اپنی سواری پر جس طرف وہ رخ کرتی ، نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اور آپ رکوع و سجود کے لیے سر کا اشارہ فرماتے تھے ۔ آپ فرائض کے علاوہ نماز تہجد اور نماز وتر اپنی سواری پر ادا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوران سفر) ہر طرح کی نماز پڑھی ۔ آپ نے قصر بھی پڑھی اور پوری بھی ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں میں غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک رہا ۔ اور فتح مکہ کے موقع پر بھی میں آپ کے ساتھ موجود تھا ۔ آپ نے مکہ میں اٹھارہ روز قیام فرمایا ، آپ دو رکعتیں پڑھ کر فرماتے :’’ اہل مکہ تم چار رکعتیں پڑھو ، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے دوران سفر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر دو رکعت پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : میں نے سفر و حضر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے ۔ میں نے حضر میں آپ کے ساتھ ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں ۔ اور میں نے دوران سفر آپ کے ساتھ ظہر دو رکعت پڑھی اور دو رکعتیں اس کے بعد پڑھیں ۔ اور عصر دو رکعت پڑھی اور اس کے بعد کچھ نہ پڑھا ۔ جبکہ مغرب سفر و حضر دونوں حالتوں میں تین رکعت پڑھیں ۔ سفر ہو یا حضر ان میں کمی نہیں کی جاتی ۔ اور یہ دن کے وتر ہیں ۔ اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں ۔ ضعیف ۔