ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں کھڑے ہوئے جیسے قیامت آ گئی ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور اس قدر قیام و رکوع اور سجدوں کو طویل کر کے نماز پڑھی کہ میں نے آپ کو ایسے کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں ہوتیں ، لیکن ان کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ، جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو تم اس کے ذکر ، اس سے دعا کرنے اور اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف توجہ کرو (اور اس کی پناہ حاصل کرو) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی وفات کے روز ، سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ (دو رکعت) نماز پڑھائی ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی ۔ رواہ مسلم ۔
علی ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔ رواہ مسلم ۔
عبدالرحمن بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں مدینہ میں تیر اندازی کر رہا تھا کہ اچانک سورج گرہن ہوا ، میں نے وہ تیر (ادھر ہی) پھینکے اور کہا : اللہ کی قسم میں دیکھوں گا کہ سورج گرہن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا نئی تعلیم ارشاد فرماتے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ ہاتھ اٹھائے کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ، آپ تسبیح و تہلیل ، تکبیر و تحمید اور دعا کرنے لگے ، حتیٰ کہ سورج گرہن ختم ہو گیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں ادا فرمائیں ۔ صحیح مسلم اور شرح السنہ میں عبدالرحمن بن سمرہ ؓ سے مروی ہے جبکہ مصابیح کے نسخوں میں جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے ۔ رواہ مسلم والبغوی فی شرح السنہ ۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر ہمیں نماز پڑھائی تو ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں، ابن عباس ؓ کو بتایا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فلاں زوجہ محترمہ وفات پا گئی ہیں ۔ تو وہ (یہ سن کر) فوراً سجدہ ریز ہو گئے ، ان سے عرض کیا گیا ، آپ اس وقت سجدہ کرتے ہیں ؟ انہوں نے بیان کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو ۔‘‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے فوت ہو جانے سے بڑی نشانی کون سی ہو سکتی ہے ؟ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے صحابہ کو نماز پڑھائی پس آپ نے (پہلی رکعت میں) لمبی سورت تلاوت فرمائی ، پانچ رکوع اور دو سجدے کیے ، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورت تلاوت فرمائی ، پانچ رکوع اور دو سجدے کیے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ بیٹھ کر دعا کرتے رہے حتیٰ کہ سورج گرہن ختم ہو گیا ۔ ضعیف ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو رکعتیں پڑھتے اور (دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد) سورج گرہن کے متعلق پوچھتے حتیٰ کہ سورج گرہن ختم ہو گیا ۔ ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری نماز کی طرح ہمیں نماز پڑھائی ، آپ رکوع و سجود فرماتے تھے اور نسائی کی دوسری روایت میں ہے : سورج گرہن لگ چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی کے ساتھ مسجد میں تشریف لائے ، نماز پڑھائی حتیٰ کہ سورج گرہن ختم ہو گیا ، پھر فرمایا :’’ اہل جاہلیت کہا کرتے تھے : سورج اور چاند اہل زمین کی کسی عظیم شخصیت کی وفات پر ہی گہناتے ہیں ، جبکہ سورج اور چاند کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں گہناتے ، بلکہ وہ تو اللہ کی مخلوق ہیں ، اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہے سو کرتا ہے ۔ ان دونوں میں سے جو بھی گہنا جائے تو نماز پڑھو حتیٰ کہ وہ (گرہن) ختم ہو جائے یا اللہ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی خوش کن معاملہ درپیش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ ریز ہو جایا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
ابوجعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چھوٹے سے قد والے (بونے) شخص کو دیکھا تو آپ سجدہ ریز ہو گئے ۔ دارقطنی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ، اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ ضعیف ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مدینہ جانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے ۔ جب ہم عزوزاء کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے نیچے اترے ، کچھ دیر تک ہاتھ اٹھا کر کھڑے دعا کرتے رہے ، پھر سجدہ ریز ہو گئے ، پھر کافی دیر بعد آپ کھڑے ہوئے اور کچھ دیر تک ہاتھ اٹھائے اور پھر سجدہ ریز ہو گئے ، پھر کافی دیر بعد کھڑے ہوئے اور کچھ دیر تک ہاتھ اٹھائے اور پھر سجدہ ریز ہو گئے ، آپ نے فرمایا :’’ میں نے اپنے رب سے درخواست کی اور اپنی امت کے لیے شفاعت کی تو اس نے مجھے میری امت کے بارے میں ایک تہائی شفاعت کی اجازت عطا فرمائی ، تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا ، پھر میں نے سر اٹھایا تو اپنی امت کے لیے اپنے رب سے سوال کیا تو اس نے مزید میری ایک تہائی امت کی شفاعت کی مجھے اجازت عطا فرمائی تو میں شکر کے طور پر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا ، پھر میں نے سر اٹھایا تو میں نے اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اس نے آخری تہائی کی شفاعت کی مجھے اجازت عطا فرمائی تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے اس کے حضور سجدہ ریز ہو گیا ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش طلب کرنے کے لیے لوگوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی ، جس میں بلند آواز سے قراءت کی ، آپ قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر کو پلٹ لیا ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف بارش طلب کرنے کے موقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے ۔ آپ انہیں اس قدر اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش طلب کی تو آپ نے ہاتھوں کی پشت کو آسمان کی طرف کر کے (حالات کی تبدیلی) کا اشارہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش دیکھتے تو فرماتے :’’ اے اللہ ! نفع مند بارش برسا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم سے کچھ کپڑا اٹھایا حتیٰ کہ کچھ قطرے وہاں گرے تو ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے ایسے کیوں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ یہ ابھی نئی نئی اپنے رب سے آئی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ تشریف لائے تو آپ نے بارش طلب کی ، اور جس وقت قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر پلٹی ، آپ نے اس کے دائیں کنارے کو اپنے بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو اپنے دائیں کندھے پر کر لیا ، پھر اللہ سے دعا کی ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کی تو آپ پر کالی چادر تھی ، آپ نے اس کے نچلے حصے کو اوپر کرنا چاہا ، لیکن گراں ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے کندھوں پر ہی بدل لیا ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔