علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا اس کا کان کٹا ہوا ہو ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کن جانوروں کی قربانی میں احتیاط کرنی چاہیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے چار کا ذکر فرمایا :’’ ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو ، ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ، مریض جس کا مریض ہونا ظاہر ہو ، اور لاغر جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سینگوں والا ، موٹا تازہ صحت مند اور کالی آنکھوں والا ، سیاہ منہ والا اور کالی ٹانگوں والا مینڈھا قربانی کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
بنو سلیم قبیلے سے تعلق رکھنے والے مجاشع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ جہاں دو دانت والے بکرے کی قربانی کفایت کرتی ہے وہاں ایک سال کے مینڈھے کی قربانی بھی کفایت کرتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایک سال کے مینڈھے کی قربانی اچھی قربانی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ عید الاضحی آ گئی تو ہم گائے میں سات افراد شریک ہوئے اور اونٹ میں دس ۔ ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قربانی کے دن ، ابن آدم کا قربانی کرنا اللہ کو انتہائی محبوب ہے ، بے شک وہ (جانور) روز قیامت اپنے سینگوں ، بالوں ، اور کھروں سمیت آئے گا ، بے شک قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے ، پس تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ذوالحجہ کے دس دنوں کی عبادت اللہ کو انتہائی محبوب ہے اس عشرہ کے ہر دن کے روزے کا ثواب سال بھر کے روزوں اور اس کی ہر رات کا قیام ، شب قدر کے قیام کے برابر ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔
جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عید الاضحی ادا کی ، آپ نے صرف نماز پڑھ کر سلام ہی پھیرا تھا (ابھی خطبہ ارشاد نہیں فرمایا تھا) کہ آپ نے قربانی کا گوشت دیکھا جسے آپ کے نماز پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا گیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ دیکھ کر) فرمایا :’’ جس شخص نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے جانور ذبح کیا ہے وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن نماز پڑھائی ، پھر خطبہ ارشاد فرمایا ، پھر جانور ذبح کیا ، اور فرمایا :’’ جس شخص نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کی ہے ۔ وہ اس کی جگہ ایک اور جانور ذبح کرے ، اور جس نے جانور ذبح نہیں کیا ، وہ اللہ کے نام پر جانور ذبح کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا : قربانی کے دن کے دو دن بعد تک قربانی کرنا جائز ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
امام مالک ؒ فرماتے ہیں : علی بن ابی طالب ؓ سے بھی اسی طرح کی روایت مجھے پہنچتی ہے ۔ حسن ، رواہ مالک ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کرتے رہے ۔ ضعیف ۔
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ قربانی کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے اس میں کیا (ثواب) ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اون کے بارے میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اون کے ہر ریشے پر ایک نیکی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فرع کوئی چیز ہے نہ عتیرہ ۔‘‘ ’’ فرع ‘‘ اونٹ کے پہلے بچے کو کہتے ہیں جسے مشرکین اپنے بتوں کے نام پر ذبح کیا کرتے تھے ، جبکہ ’’ عتیرہ ‘‘ اس بکری کو کہتے ہیں جس کی رجب کے مہینے میں قربانی کی جاتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
مخنف بن سلیم ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے ، میں نے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگو ! ہر اہل خانہ پر ہر سال ایک قربانی کرنا اور ایک عتیرہ واجب ہے ۔ کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے ؟ وہی جسے تم رجبیہ کہتے ہو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ، ضعیف الاسناد ہے ۔ امام ابوداؤد ؒ نے فرمایا : عتیرہ منسوخ ہو چکا ہے ۔ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس امت کے لیے اضحی کے دن کو عید قرار دوں ۔‘‘ کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر میں دودھ دینے والی بکری ، جو کہ مجھے کسی نے عطیہ کی ہے ، کے سوا کوئی جانور نہ پاؤں تو کیا میں اسے ذبح کر دوں ؟ فرمایا :’’ نہیں ، لیکن تم (عید کے روز) اپنے بال اور ناخن کٹاؤ ، مونچھیں کتراؤ اور زیر ناف بال مونڈ لو ، اللہ کے ہاں یہ تمہاری مکمل قربانی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے منادی کرنے والے کو بھیجا کہ وہ یوں اعلان کرے : نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ، (جب لوگ جمع ہو گئے) آپ آگے بڑھے اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے ، عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے اس سے لمبا رکوع و سجود کبھی نہیں دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز خسوف میں بلند آواز سے قراءت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے تقریباً سورۃ البقرۃ کی قراءت کے برابر طویل قیام فرمایا ، پھر طویل رکوع فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے تو آپ نے طویل قیام فرمایا لیکن وہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر آپ نے طویل رکوع فرمایا ، لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر کھڑے ہوئے ، پھر سجدہ کیا ، پھر کھڑے ہوئے تو آپ نے طویل قیام فرمایا ، جبکہ وہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر طویل رکوع فرمایا ، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر کھڑے ہوئے تو طویل قیام فرمایالیکن وہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر طویل رکوع فرمایا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر سجدہ کیا ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک آفتاب و ماہتاب اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں گہناتے ، جب تم ، دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ جیسے آپ اپنی اسی جگہ سے کوئی چیز پکڑنا چاہتے ہیں ۔ پھر ہم نے آپ کو الٹے پاؤں واپس آتے ہوئے دیکھا ، آپ نے فرمایا :’’ میں نے جنت دیکھی ، میں نے اس سے انگوروں کا گچھا لینا چاہا ، اگر میں اسے لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے ، اور میں نے جہنم دیکھی ، میں نے آج کے دن کی طرح کا خوفناک منظر کبھی نہیں دیکھا ، اور میں نے وہاں اکثریت عورتوں کی دیکھی ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان کی ناشکری کی وجہ سے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں ؟ فرمایا :’’ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں ، وہ (خاوند کے) احسان کی ناشکری کرتی ہیں ، اگر تم نے ان میں سے کسی سے زندگی بھر حسن سلوک کیا ہو ، پھر اگر وہ تمہاری طرف سے کوئی ناگوار چیز دیکھ لے تو وہ کہے گی : میں نے تو تمہاری طرف سے کبھی کوئی خیر دیکھی ہی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے ، ابن عباس ؓ کی مثل حدیث مروی ہے ، انہوں نے فرمایا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا ، تو سجدوں کو لمبا کیا ، پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، فرمایا :’’ آفتاب و ماہتاب اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔‘‘ یہ کسی کی موت و حیات سے نہیں گہنائے ، پس جب تم یہ دیکھو تو اللہ سے دعائیں کرو ، اس کی کبریائی بیان کرو ، نماز پڑھو اور صدقہ کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کی قسم ! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے ۔ امت محمد ! اللہ کی قسم ! اگر تم اس بات کو جان لو جو میں جانتا ہوں ، تو تم بہت ہی کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔