براء ؓ سے روایت ہے کہ عید کے روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کمان پیش کی گئی تو آپ نے اس پر ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا ۔ ضعیف ۔
عطاء ؒ مرسل روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ اپنے چھوٹے نیزے پر ٹیک لگاتے تھے ۔ ضعیف ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عید کے روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، تو آپ نے خطبہ سے پہلے اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھی ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلال ؓ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، لوگوں کو وعظ و نصیحت کی ، انہیں یاد دہانی کرائی ، اور اپنی اطاعت کی ترغیب دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلال ؓ کے ساتھ خواتین کی طرف گئے تو انہیں اللہ کا تقوی اختیار کرنے کا حکم فرمایا اور وعظ و نصیحت کی اور یاد دہانی کرائی ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عید کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ عید کے روز بارش ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز عید مسجد میں پڑھائی ۔ ضعیف ۔
ابوالحویرث ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن حزم ؓ کے نام نجران خط لکھا کہ عید الاضحی کی نماز جلدی پڑھو اور عید الفطر کی نماز دیر سے پڑھو اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرو ۔ ضعیف ۔
ابوعمیر بن انس اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، کہ کچھ سوار نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے کل چاند دیکھا تھا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں روزہ افطار کرنے کا حکم فرمایا ، اور انہیں فرمایا کہ کل عید گاہ پہنچیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن جریج ؒ بیان کرتے ہیں ، عطاء ؒ نے ابن عباس ؓ اور جابر بن عبداللہ ؓ کے واسطہ سے مجھے بتایا ، انہوں نے فرمایا : عید الفطر اور عید الاضحی کے لیے اذان نہیں کہی جاتی تھی ۔ پھر میں نے کچھ مدت بعد عطاء سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے مجھے بتاتے ہوئے کہا : جابر بن عبداللہ ؓ نے مجھے بتایا کہ نماز عید الفطر کے لیے ، امام کے آنے سے پہلے یا اس کے آنے کے بعد کوئی اذان نہیں ہوتی تھی ، اذان و اقامت والی کوئی چیز ہی نہیں تھی ، اس روز اذان تھی نہ اقامت ۔ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کے لیے تشریف لاتے تو آپ سب سے پہلے نماز پڑھتے ، جب آپ نماز پڑھ لیتے تو آپ کھڑے ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ، جبکہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوتے تھے ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا تذکرہ فرماتے ، یا اس کے علاوہ کوئی اور ضرورت ہوتی تو آپ اس کے متعلق انہیں حکم فرماتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ صدقہ کرو ، صدقہ کرو ، صدقہ کرو ۔‘‘ اور خواتین سب سے زیادہ صدقہ کیا کرتی تھیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے جاتے ، یہ معمول ایسے ہی رہا حتیٰ کہ مروان بن حکم کا دور حکومت آیا تو میں مروان کی کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز عید کے لیے روانہ ہوا حتیٰ کہ ہم عید گاہ پہنچ گئے ، وہاں دیکھا کہ کثیر بن صلت ؒ نے گارے اور اینٹوں سے ایک منبر تیار کر رکھا تھا ، مروان مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچ رہا تھا گویا وہ مجھے منبر کی طرف لے جانا چاہتا تھا جبکہ میں اسے نماز کی طرف لانا چاہتا تھا ، جب میں نے اس کا یہ عزم دیکھا تو میں نے کہا : نماز سے ابتدا کرنا کہاں چلا گیا ؟ اس نے کہا : نہیں ، ابوسعید ! جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہ وہ طریقہ متروک ہو چکا ، میں نے کہا : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میرے علم کے مطابق تم خیرو بھلائی پر نہیں ہو ، انہوں نے تین مرتبہ ایسے ہی فرمایا پھر وہ منبر سے دور چلے گئے ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’ بسم اللہ و اللہ اکبر ‘‘ پڑھ کر اپنے دست مبارک سے چتکبرے ، سینگوں والے دو مینڈھے ذبح کیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ان کے پہلو پر اپنا قدم رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ رہے تھے :((بسم اللہ و اللہ اکبر)) ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم فرمایا جس کی ٹانگیں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ تھیں ، اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تاکہ آپ اسے قربان کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! چھری لاؤ ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اسے پتھر پر تیز کرو ۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری پکڑ کر مینڈھے کو لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو یوں دعا کی :’’ اللہ کے نام پر ، اے اللہ ! اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ذبح کیا ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صرف دو دانت والا جانور ذبح کرو ، اگر تمہیں (اس کا ملنا) مشکل ہو تو پھر ایک سال کا مینڈھا ذبح کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے آپ کے صحابہ ؓ میں تقسیم کر دی جائیں ۔ (تقسیم کے بعد) بکری کا ایک سال کا بچہ باقی رہ گیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اسے ذبح کر لو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں : میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے حصے میں جذع (ایک سال سے زائد عمر کا جانور) آیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اسے ذبح کر لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گائے اور اونٹ عید گاہ میں ذبح کیا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گائے اور اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کے لیے کافی ہے ۔‘‘ مسلم ، ابوداؤد اور الفاظ حدیث ابوداؤد کے ہیں ۔ رواہ مسلم و ابوداؤد ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب ذوالحجہ کا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور جلد سے کوئی چیز نہ اتارے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ اپنے بال کٹوائے نہ ناخن ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھ لے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال کٹوائے نہ ناخن ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ باقی دنوں میں کیے گئے عمل کی نسبت ان دس ایام میں کیا گیا عمل اللہ کو انتہائی پسندیدہ ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی اتنا پسندیدہ نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہاد بھی نہیں ، الا یہ کہ کوئی شخص اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کے لیے جائے اور اس کی کوئی چیز واپس نہ آئے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الاضحی کے روز سینگوں والے چتکبرے دو خصی مینڈھے ذبح کیے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ دعا پڑھی :’’ بے شک میں نے ابراہیم جو کہ یکسو تھے کے دین پر ہوتے ہوئے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ، بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں ، اے اللہ ! (یہ قربانی کا جانور) تیری عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے ، اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما ، اللہ کے نام سے اور اللہ بہت بڑا ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذبح فرمایا ۔ احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور احمد ، ابوداؤد اور ترمذی کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کیا ، اور یہ دعا پڑھی :’’ اللہ کے نام سے ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ، اے اللہ ! یہ میری اور میری امت کے اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ۔‘‘ ضعیف ۔
حنش ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے علی ؓ کو دو مینڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے دریافت کیا ، یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں ، سو میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں ۔ ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی ؒ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیا کریں ، اور ہم ایسا جانور ذبح نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو یا پیچھے سے کٹا ہو ، اور اس میں کوئی سوراخ تک نہ ہو ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، دارمی ، ابن ماجہ اور ابن ماجہ کی روایت ((الاذن)) تک ختم ہو جاتی ہے ۔ ضعیف ۔