عمیر مولیٰ ابی اللحم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زوراء کے قریب مقام احجارزیت کے پاس کھڑے ہو کر بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا ، آپ اپنے چہرے کے سامنے ہاتھ بلند کیے ہوئے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے ، اور وہ (ہاتھ) آپ کے سر سے بلند نہیں تھے ۔ ابوداؤد ۔ امام ترمذی اور امام نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرانے کپڑے پہن کر ، تواضع اختیار کر کے خشوع و خضوع اور تضرع کرتے ہوئے بارش طلب کرنے کے لیے نکلے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش طلب کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! اپنے بندوں اور جانوروں کو سیراب فرما ، اپنی رحمت کو عام کر دے اور اپنے مردہ شہروں کو زندگی عطا فرما ۔‘‘ ضعیف ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہاتھ اوپر اٹھا کر یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا :’’ اے اللہ ! ہمیں پانی پلا ، ہم پر ایسی بارش نازل فرما جو ہماری پیاس بجھا دے ، ہلکی پھواریں بن کر غلہ اگانے والی ، نفع دینے والی ، نقصان پہنچانے والی نہ ہو ، جلد آنے والی ہو ، دیر لگانے والی نہ ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : فوراً ہی آسمان پر بادل چھا گئے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قحط سالی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر کا حکم فرمایا تو اسے آپ کے لیے عید گاہ میں رکھ دیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے ایک معین دن کا وعدہ فرمایا ، وہ اس روز باہر نکلے ، عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے گئے ، آپ منبر پر بیٹھ گئے اللہ کی کبریائی اور حمد بیان کی ، پھر فرمایا :’’ تم نے اپنے علاقوں کی قحط سالی اور بروقت بارشوں کے نہ ہونے کی شکایت کی ہے ، اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے دعا کی قبولیت کا تم سے وعدہ کر رکھا ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ، جو بہت مہربان نہایت رحم والا ، روز جزا کا مالک ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے ، اے اللہ ! تو اللہ ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو غنی ہے اور ہم فقراء ، ہم پر بارش برسا ، اور جو تو (بارش) نازل فرمائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور (مقاصد تک) پہنچنے کا ذریعہ بنا ۔‘‘ پھر آپ نے ہاتھ بلند کیے اور انہیں بلند کرتے رہے حتیٰ کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، پھر آپ نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر دی اور اپنی چادر پلٹی ، اور آپ نے ابھی تک ہاتھ اٹھائے رکھے ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، اور نیچے اتر کر دو رکعتیں پڑھیں ، پس اللہ نے بادل کی ایک ٹکڑی بھیجی ، گرج چمک پیدا ہوئی تو پھر اللہ کے حکم سے بارش ہونے لگی ، آپ ابھی اپنی مسجد تک تشریف نہیں لائے تھے کہ نالے بہنے لگے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی جھونپڑیوں کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا تو آپ ہنسنے لگے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب ؓ قحط سالی کا شکار ہوتے تو عباس بن عبد المطلب کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے اور یوں عرض کرتے : اے اللہ ! ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے تو ہم پر بارش برساتا تھا ، اور اب ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کی دعا کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے ہیں ، تو ہم پر بارش نازل فرما ، چنانچہ بارش ہونے لگتی ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ انبیا علیہم السلام میں سے ایک نبی لوگوں کے ساتھ بارش طلب کرنے کے لیے روانہ ہوئے انہوں نے اچانک دیکھا کہ ایک چیونٹی اپنی نحیف سی ٹانگیں آسمان کی طرف اوپر اٹھائے ہوئے (دعا کر رہی) ہے پس اس نبی ؑ نے فرمایا : واپس پلٹ جاؤ ، اس چیونٹی کی وجہ سے تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارقطنی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بادِصبا کے ذریعے میری نصرت کی گئی جبکہ قوم عاد بادِ دبور (مغربی ہوا) کے ذریعے ہلاک کر دی گئی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے گلے کا کوّا نظر آ جائے آپ تو بس تبسم فرمایا کرتے تھے ، جب آپ باد یا آندھی دیکھتے تو اس کے (خوف کے) اثرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر نمایاں ہو جاتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب تیز آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ میں اس کی خیر کا اس میں جو خیر ہے اس کا اور اس کے ساتھ جو بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اس میں جو شر ہے اس کا اور جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس کے شر کی تجھ سے پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اور جب آسمان پر بارش کے آثار ظاہر ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ تبدیل ہو جاتا ، آپ کبھی گھر سے باہر آتے اور کبھی اندر جاتے ، کبھی آگے آتے اور کبھی پیچھے ہٹتے ، اور جب بارش ہو جاتی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خوف زائل ہوتا ، عائشہ ؓ نے ان کی یہ کیفیت پہچان کر آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! شاید کہ یہ ایسے نہ ہو جیسے قوم عاد نے کہا تھا : جب انہوں نے عذاب کو ابر کی صورت میں اپنے میدانوں کے سامنے آتے دیکھا تو کہنے لگے : یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے : جب آپ بادل دیکھتے تو فرماتے :’’ اسے رحمت بنا دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۔‘‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ بے شک قیامت کا علم اسی کے پاس ہے اور وہی بارش برساتا ہے ،،،،،۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو ، بلکہ قحط سالی یہ ہے کہ تم پر بار بار بہت زیادہ بارش تو ہو لیکن زمین کوئی چیز نہ اگائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہوا ، اللہ کی رحمت ہے کبھی یہ رحمت کے ساتھ آتی ہے اور کبھی یہ عذاب کے ساتھ ، پس اسے برا بھلا نہ کہو ، اور اس کی خیر کے متعلق درخواست کرو اور اس کے شر سے (اللہ تعالیٰ کی) پناہ طلب کرو ۔ صحیح ، رواہ الشافعی و ابوداؤد و ابن ماجہ و البیھقی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہوا کو ملعون کہا تو آپ نے فرمایا :’’ ہوا کو لعن طعن نہ کرو کیونکہ وہ تو حکم کی پابند ہے ، جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے جو اس کی اہل نہیں تو پھر لعنت اس شخص پر لوٹ آتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہوا کو برا بھلا نہ کہو ، پس جب تم ناگوار چیز دیکھو ، تو یوں کہو : اے اللہ ! بے شک ہم اس ہوا کی خیر ، اس میں موجود خیر ، اس چیز کی خیر کا تجھ سے سوال کرتے ہیں جس کا اسے حکم دیا گیا ہے ۔ ہم اس کے شر ، اس میں موجود شر اور جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ، اس کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں جب کبھی بھی ہوا چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر یوں دعا کرتے :’’ اے اللہ ! اسے رحمت بنا ، اسے عذاب نہ بنا ، اے اللہ ! اسے باد رحمت بنا اور اسے باعث عذاب ہوا نہ بنا ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے :’’ ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی ۔‘‘ اور :’’ ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی ۔‘‘ ’’ ہم نے ابر اٹھانے والی ہوائیں بھیجیں ۔‘‘ اور :’’ وہ تمہیں خوشخبری سنانے کے لیے ہوائیں بھیجتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان پر بادل دیکھتے تو آپ اپنا کام کاج چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہو جاتے اور دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! میں اس میں موجود شر میں تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اگر وہ اسے دور کر دیتا تو آپ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ، اور اگر بارش ہو تی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ہمیں نفع مند سیرابی عطا فرما ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور شافعی ۔ الفاظ امام شافعی ؒ کے ہیں ۔ صحیح ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو دعا فرماتے تھے :’’ اے اللہ ! ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ کرنا نہ اپنے عذاب سے ہلاک کرنا اور ہمیں اس سے پہلے ہی عافیت عطا فرمانا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔
عامر بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ جب وہ گرج کی آواز سنتے تو بات چیت ترک کر دیتے اور فرماتے : رعد (گرج) اور فرشتے اس کے خوف سے اس کی حمد بیان کرتے ہیں ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔