Back to Mishkat Al-Masabih

Prayer

كتاب الصلاة

Chapter 4

Hadith 1344
sahih
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ: إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوہ تبوک (کے سفر) میں جب آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر و عصر کو جمع کر لیتے اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے حتیٰ کہ عصر کے لیے پڑاؤ ڈالتے ۔ اسی طرح مغرب میں کرتے کہ جب کوچ کرنے سے پہلے سورج غروب ہو جاتا تو آپ مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھ لیتے اور اگر غروب آفتاب سے پہلے کوچ کر لیتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مغرب کو مؤخر فرماتے حتیٰ کہ نماز عشاء کے لیے پڑاؤ ڈالتے ۔ پھر انہیں جمع فرما لیتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

Hadith 1345
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ وَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ بِنَاقَتِهِ فَكَبَّرَ ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ وَجهه ركابه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوران سفر نفل پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنی سواری پر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ کر نماز پڑھتے اور سواری جس رخ چاہتی چلتی جاتی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1346
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخفض من الرُّكُوع. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کسی کام کے لیے مجھے بھیجا ۔ جب میں آیا تو آپ اپنی سواری پر مشرق کی سمت نماز پڑھ رہے تھے ۔ اور آپ رکوع کی نسبت سجود کے لیے زیادہ جھک کر اشارہ کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1347
sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمنى رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانُ صَدَرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى بَعْدُ أَرْبَعًا فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا وَإِذَا صلاهَا وَحده صلى رَكْعَتَيْنِ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منیٰ میں دو رکعتیں (یعنی نماز قصر) پڑھیں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد ابوبکر ؓ ، ابوبکر ؓ کے بعد عمر ؓ اور عثمان ؓ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں دو رکعتیں ہی پڑھیں ۔ پھر اس کے بعد عثمان ؓ نے چار رکعتیں پڑھیں ۔ جب ابن عمر ؓ امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو آپ چار رکعتیں (مکمل نماز) پڑھتے اور جب اکیلے پڑھتے تو پھر دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1348
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُرِضَتْ أَرْبَعًا وَتُرِكَتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الْأُولَى. قَالَ الزُّهْرِيُّ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا بَال عَائِشَة تتمّ؟ قَالَ: تأولت كَمَا تَأَول عُثْمَان
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، شروع میں نماز دو رکعتیں فرض کی گئی تھی ۔ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجرت کی تو دو سے چار رکعتیں فرض کر دی گئی ۔ اور نماز سفر کو پہلی حالت فرضیت پر برقرار رکھا گیا ۔ زہری ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عروہ ؒ سے کہا ، عائشہ ؓ کو کیا ہوا کہ وہ پوری پڑھتی ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بھی عثمان ؓ کی طرح تاویل کی ہے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1349
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْف رَكْعَة. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ نے تمہارے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان پر حضر میں چار رکعتیں ، سفر میں دو رکعتیں اور حالت خوف میں ایک رکعت فرض کی ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 1350
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَا: سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سنة. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سفر دو رکعت مشروع فرمائی اور وہ دو رکعت (ثواب کے لحاظ سے) پوری ہیں ، کم نہیں جبکہ دوران سفر وتر پڑھنا سنت ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1351
sahih
وَعَن مَالك بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقْصُرُ فِي الصَّلَاة فِي مثل مَا يكون بَين مَكَّة والطائف وَفِي مثل مَا يكون بَيْنَ مَكَّةَ وَعُسْفَانَ وَفَى مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَجُدَّةَ قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
Urdu

امام مالک ؒ بیان کرتے ہیں مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ابن عباس ؓ مکہ اور طائف ، مکہ اور عسفان اور مکہ اور جدہ کے درمیان مسافت جتنے فاصلے پر قصر پڑھا کرتے تھے ۔ اور امام مالک نے فرمایا : اور یہ چار بُرد مسافت ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔

Hadith 1352
sahih
وَعَن الْبَراء قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اٹھارہ مرتبہ شریک سفر رہا ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سورج ڈھلنے کے بعد نماز ظہر سے پہلے دو رکعتیں چھوڑتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

Hadith 1353
sahih
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَرَى ابْنَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ يَتَنَفَّلُ فِي السَّفَرِ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ
Urdu

نافع ؒ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن عمر ؓ اپنے بیٹے عبیداللہ کو دوران سفر نفل پڑھتے ہوئے دیکھتے تو آپ اس پر روک ٹوک نہیں کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1354
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكُتَّابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ من بعدهمْ ثمَّ هَذَا يومهم الَّذِي فرض عَلَيْهِم يَعْنِي يَوْم الْجُمُعَةَ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَد» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بيد أَنهم» . وَذكر نَحوه إِلَى آخِره
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (ہم دنیا میں) سب سے آخر پر آئے ہیں لیکن قیامت کے روز سب سے آگے ہوں گے ۔ تاہم انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ۔ پھر یہی یعنی جمعہ کا دن ان پر فرض کیا گیا تھا ۔ مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ، اور اللہ نے ہمیں اس کی راہنمائی فرما دی اسی لیے باقی لوگ ہم سے پیچھے ہو گئے ۔ یہود کل (ہفتہ کے روز) اور عیسائی اس سے اگلے روز (اتوار کے روز عبادت کرتے ہیں) ۔‘‘ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے ، فرمایا : (ہم دنیا میں) سب سے آخر پر ہیں لیکن روز قیامت سب سے پہلے ہوں گے ۔ اور سب سے پہلے ہم جنت میں جائیں گے ۔‘‘ باقی روایت انہوں نے آخر تک حدیث سابق کی طرح بیان کی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1355
sahih
وَفِي رِوَايَة لمُسلم عَن أبي هُرَيْرَة وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمقْضِي لَهُم قبل الْخَلَائق»
Urdu

صحیح مسلم ہی کی ابوہریرہ ؓ اور حذیفہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے ۔ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیث کے آخر پر فرمایا :’’ ہم دنیا والوں میں سب سے آخر پر آئے لیکن روز قیامت مقدم ہوں گے اور ساری مخلوق سے پہلے ہمارے متعلق فیصلہ کیا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1356
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيه أخرج مِنْهَا وَلَا تقوم السَّاعَة لَا فِي يَوْم الْجُمُعَة» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمام ایام سے بہترین دن ، جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم ؑ پیدا کیے گئے اسی روز جنت میں داخل کیے گئے اسی روز اس سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ ہی کے روز قائم ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1357
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاه. وَزَاد مُسلم: «وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ» . وَفِي رِوَايَةِ لَهُمَا قَالَ: «إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِم يُصَلِّي يسْأَل لاله يخرا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاه»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جب کوئی مسلمان بندہ اس گھڑی میں اللہ سے کوئی خیر طلب کرتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ امام مسلم ؒ نے اضافہ نقل کیا ہے فرمایا :’’ وہ مختصر گھڑی ہے ۔‘‘ صحیحین کی روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جب مسلمان ٹھیک اس گھڑی میں نماز کے دوران یا نماز کی جگہ نماز کے انتظار میں بیٹھ کر اللہ سے کوئی خیر طلب کرتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطا کر دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1358
sahih
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ: «هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَن تقضى الصَّلَاة» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوبردہ بن ابوموسی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو :’’ جمعہ کی اس گھڑی کا وقت بیان کرتے سنا کہ وہ امام کے خطبہ کے لیے بیٹھنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1359
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفَيْهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا من دَابَّة إِلَّا وَهِي مسيخة يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وفيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يسْأَل الله شَيْئا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاهَا. قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ. فَقلت: بل فِي كل جُمُعَة قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْب وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْب: ذَلِك كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ. فَقُلْتُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَقلت لَهُ: فَأَخْبرنِي بهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَتلك السَّاعَة لَا يُصَلِّي فِيهَا؟» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقلت: بلَى. قَالَ: فَهُوَ ذَاك. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى أَحْمد إِلَى قَوْله: صدق كَعْب
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں طور کی طرف گیا تو میں کعب احبار سے ملا ، میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ اس نے مجھے تورات کے بارے میں بتایا اور میں نے اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث سنائیں ، میں نے اسے جو کچھ بتایا وہ وہی کچھ تھا جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمام ایام سے بہتر دن ، جمعہ کا دن ہے ۔ اس میں آدم ؑ کی تخلیق ہوئی ، اسی روز زمین پر اتارے گئے اسی روز ان کی توبہ قبول کی گئی ، اسی روز فوت ہوئے ، اسی روز قیامت قائم ہو گی ، جن و انس کے سوا تمام جانور جمعہ کے دن طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک قیامت قائم ہونے کے خوف سے چیختے رہتے ہیں ، اس میں ایک گھڑی ہے کہ جب مسلمان بندہ عین اس گھڑی میں دوران نماز اللہ سے جو مانگتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطا کر دیتا ہے ۔‘‘ کعب نے کہا : پورے سال میں ایک دن ایسا ہوتا ہے ۔ میں نے کہا ، نہیں بلکہ ہر جمعہ کے روز ہوتا ہے ۔ کعب نے تورات پڑھی تو اس نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سچ فرمایا ۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں عبداللہ بن سلام ؓ سے ملا تو میں نے کعب احبار کے ساتھ اپنی مجلس کے بارے میں اور میں نے جمعہ کے متعلق جو اسے بتایا تھا اس کے متعلق انہیں بتایا ، کہ کعب نے کہا : وہ پورے سال میں ایک دن ہوتا ہے ۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا ، کعب نے جھوٹ بولا ، میں نے انہیں بتایا کہ کعب نے پھر تورات پڑھی تو اس نے کہا : بلکہ وہ ہر جمعہ کے روز ہوتا ہے ۔ پھر عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا : کعب نے سچ کہا ۔ پھر عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ وہ کون سی گھڑی ہے ۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے کہا ، مجھے اس کے متعلق خبر دینے میں بخل نہ کریں ۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے کہا وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے ۔ جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے :’’ کوئی مسلمان بندہ نماز میں اسے پاتا ہے ۔‘‘ تو عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا کیا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا :’’ جو شخص کسی جگہ بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز پڑھنے تک (حکماً) نماز ہی میں ہوتا ہے ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے کہا کیوں نہیں ۔ انہوں نے فرمایا ، بس ! یہ وہی ہے ۔ مالک ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور امام احمد نے ’’ کعب نے سچ کہا ‘‘ تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

Hadith 1360
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِي وَيَوْم الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

انس ؓبیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس گھڑی کو تلاش کریں جس کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ وہ جمعہ کے روز بعد نماز عصر سے غروب آفتاب تک ہوتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 1361
sahih
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ فأكثرا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَليّ» فَقَالُوا يَا رَسُول الله وَكَيف تعرض صَلَاتنَا عَلَيْك وَقَدْ أَرَمْتَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير
Urdu

اوس بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک جمعہ کا دن تمہارے ایام میں سے افضل دن ہے ۔ اس روز آدم ؑ کی تخلیق ہوئی ، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی ، پہلی بار صور پھونکا جانا دوسری بار صور پھونکا جانا ہو گا ، اس روز مجھ پر کثرت سے درود پڑھو ، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جاتا ہے ، جبکہ آپ تو (مٹی میں) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے انبیا علیہم السلام کے اجساد کو زمین (یعنی مٹی) پر حرام کر دیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی و البیھقی ۔

Hadith 1362
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَهُوَ يضعف
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یوم موعود سے یوم قیامت ، یوم مشہود سے یوم عرفہ اور شاہد سے جمعہ کا دن مراد ہے ۔ وہ تمام ایام سے افضل ہے ۔ اس میں اللہ سے کوئی خیر طلب کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے ۔ اور وہ (بندہ مؤمن) جس چیز سے پناہ طلب کرتا ہے تو وہ اسے اس سے پناہ دے دیتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی اور امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور یہ صرف موسی بن عبیدہ کے واسطہ سے معروف ہے ، جبکہ وہ ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1363
sahih
عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَّامِ وَأَعْظَمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَهُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمُ إِلَى الْأَرْضِ وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِيَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ إِلَّا هُوَ مُشْفِقٌ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابولبابہ بن عبدالمنذ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک جمعہ کے دن اللہ کے ہاں سیدالایام اور باقی ایام سے عظیم تر ہے ۔ وہ اللہ کے ہاں یوم الاضحی اور یوم الفطر سے بھی عظیم تر ہے ۔ اس کو پانچ خصوصیات حاصل ہیں : اللہ نے آدم ؑ کو اسی روز تخلیق فرمایا ، اللہ نے اسی روز آدم ؑ کو زمین پر اتارا ، اللہ نے اسی روز آدم ؑ کو وفات دی ، اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں بندہ جو بھی حلال چیز طلب کرتا ہے ۔ وہ اسے مل جاتی ہے ۔ اور اسی روز قیامت قائم ہو گی ، مقرب فرشتے ، آسمان و زمین ، ہوا ، پہاڑ اور سمندر جمعہ کے دن سے خائف رہتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔