ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ ترمذی ، اور ابن ماجہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر ہی دو خفیف رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک وتر پڑھا کرتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، اور جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو پھر کھڑے ہو کر رکوع کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
ثوبان ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ بیداری ایک مشکل اور گراں کام ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص وتر پڑھ لے تو وہ دو رکعت ادا کرے ، اگر وہ رات کے وقت بیدار ہو جائے (تو پھر وہ نماز تہجد پڑھے) ورنہ وہ دو رکعتیں اس کے لیے کافی ہوں گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دو رکعتیں وتروں کے بعد بیٹھ کر ادا کرتے تھے ، اور آپ ان میں سورۃ الزلزال اور سورۃ الکافرون پڑھا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب (دوران نماز) کسی کے لیے بددعا یا کسی کے لیے دعا کا ارادہ فرماتے تو آپ رکوع کے بعد دعا کرتے ، بسا اوقات جب آپ ((سمع اللہ لمن حمدہ ، ربنا لک الحمد)) فرماتے تو پھر یوں دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ولید بن ولید ،سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ ؓ کو (کفار کی قید سے) رہائی عطا فرما ، اے اللہ ! قبیلہ مضر کی سخت گرفت فرما ، ان پر یوسف ؑ کے دور جیسا قحط مسلط فرما ۔‘‘ آپ بلند آواز سے یہ دعا کیا کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض نمازوں میں ایسے بھی کہا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! عرب کے فلاں فلاں قبیلے پر لعنت فرما ۔‘‘ حتیٰ کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی :’’ آپ کو اس معاملے میں کوئی اختیار حاصل نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عاصم احول ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس بن مالک ؓ سے نماز میں قنوت کے متعلق دریافت کیا کہ وہ رکوع سے پہلے تھا یا اس کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا : رکوع سے پہلے تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (فرض نماز) میں رکوع کے بعد صرف ایک ماہ قنوت کیا ، وہ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستر صحابہ کرام کو ، جو کہ قراء کے نام سے مشہور تھے ، بھیجا تو انہیں شہید کر دیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک ماہ تک قنوت کیا اور ان کے قاتلوں کے لیے بددعا کرتے رہے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد ایک ماہ تک مسلسل دعائے قنوت فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو سلیم ، رِعل ، ذکوان اور عصیہ قبائل کے لیے بددعا کرتے تھے اور جو آپ کے پیچھے ہوتے تھے وہ آمین کہتے تھے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ تک دعائے قنوت فرمائی ، پھر اسے ترک کر دیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابومالک اشجعی ؒ بیان کرتے ہیں میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان ! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابوبکر ؓ ، عمر ؓ اور عثمان ؓ کے پیچھے (مدینہ میں) اور تقریباً پانچ سال یہاں کوفہ میں علی ؓ کے پیچھے نمازیں پڑھیں ہیں ، کیا وہ قنوت کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : بیٹا ! یہ ( مسلسل ) کرتے رہنا ) بدعت ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
حسن بصری ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے لوگوں کو ابی ّ بن کعب ؓ کی امامت پر اکٹھا کیا ، وہ انہیں بیس رات نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے ، وہ صرف نصف باقی میں قنوت کرتے تھے اور جب آخری دس دن ہوتے تو وہ مسجد میں نہ آتے بلکہ گھر میں نماز تراویح پڑھتے ، تو نمازی کہتے : ابی ّ ؓ بھاگ گئے ۔ ضعیف ۔
انس بن مالک ؓ سے قنوت کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کیا ، اور ایک روایت میں ہے : رکوع سے پہلے بھی اور بعد بھی ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنا لیا ، اور آپ نے چند راتیں اس میں نماز پڑھی ، حتیٰ کہ لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہو گئے ، پھر ایک رات انہوں نے آپ کی آواز محسوس نہ کی اور انہوں نے گمان کیا کہ آپ سو چکے ہیں ، کچھ لوگ کھانسنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لے آئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو کچھ تم کرتے رہے میں نے اسے دیکھا یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اسے تم پر فرض نہ کر دیا جائے ، اور اگر تم پر فرض کر دی جاتی تو تم اس کا اہتمام نہ کر سکتے ، لوگو ! اپنے گھروں میں نماز پڑھو ، کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کا گھر نماز پڑھنا افضل ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی قطعی حکم دیے بغیر قیام رمضان کی ترغیب دیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے :’’ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو معاملہ اسی طرح تھا ، پھر ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کی خلافت کے شروع میں معاملہ اسی طرح تھا ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز ادا کرے تو وہ اس کا کچھ حصہ نفل وغیرہ اپنے گھر میں بھی ادا کرے ، کیونکہ اللہ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر و برکت فرمائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے ، آپ نے اس ماہ میں ہمیں تراویح نہ پڑھائی حتیٰ کہ سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمیں تراویح پڑھائی حتیٰ کہ تہائی رات بیت گئی ، جب چھٹی رات ہوئی تو آپ نے ہمیں تراویح نہ پڑھائی ، جب پانچویں رات ہوئی تو آپ نے ہمیں تراویح پڑھائی حتیٰ کہ نصف شب بیت گئی ۔ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کاش کہ آپ اس رات کے قیام کو بڑھا دیتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے حتیٰ کہ وہ فارغ ہوتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ جب چوتھی رات آئی تو آپ نے ہمیں نماز تراویح نہ پڑھائی حتیٰ کہ تہائی رات باقی رہ گئی ۔ جب تیسری رات آئی تو آپ نے اپنے اہل و عیال اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمیں نماز تراویح پڑھائی ، (اور اتنا لمبا قیام فرمایا) حتیٰ کہ ہمیں اپنی سحری فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوا (راوی کہتے ہیں) میں نے کہا :’’ فلاح ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : سحری ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہینے کے باقی ایام میں ہمیں تراویح نہ پڑھائی ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ، البتہ امام ترمذی نے ’’ آپ نے مہینے کے باقی ایام میں ہمیں تراویح نہیں پڑھائی ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (بستر پر) نہ پایا ، آپ اچانک بقیع (قبرستان) تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہیں اندیشہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور وہ (اس رات) کلب قبیلے کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اللہ ایسے لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے جو جہنم کے مستحق تھے ۔‘‘ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : میں نے محمد یعنی امام بخاری ؒ کو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا ۔
زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فرض نماز کے علاوہ آدمی کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
عبدالرحمن بن عبدالقاری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک رات عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ مسجد (نبوی) میں گیا تو وہاں لوگ متفرق طور پر ایک ایک ، دو دو اور کہیں چند افراد کی جماعت کی صورت میں نماز تراویح پڑھ رہے تھے ، یہ صورت دیکھ کر عمر ؓ نے فرمایا : اگر میں انہیں ایک امام کی اقتدا پر اکٹھا کر دوں تو وہ بہتر ہو گا ، پھر انہوں نے پختہ عزم کیا اور انہیں ابی بن کعب ؓ کی اقتدا پر جمع کر دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : میں کسی اور رات پھر ان کے ساتھ آیا تو لوگ اپنے قاری کی امامت میں نماز پڑھ رہے تھے ، (یہ دیکھ کر) عمر ؓ نے فرمایا : یہ نئی بات (با جماعت تراویح ) بہت اچھی ہے ۔ اور وہ نماز جس سے تم سو جاتے ہو وہ اس نماز کے پڑھنے سے افضل ہے ، (راوی کہتا ہے) اس سے عمر ؓ کی مراد رات کا آخری حصہ ہے ، جبکہ لوگ اول رات میں نماز پڑھتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
سائب بن یزید ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے ابی ّ بن کعب ؓ اور تمیم داری ؓ کو فرمایا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں گیارہ رکعت نماز تراویح پڑھائیں ، قاری (ایک رکعت) میں دو سو آیت تلاوت کرتا تھا حتیٰ کہ ہم لمبے قیام کی وجہ سے لاٹھیوں کا سہارا لیا کرتے تھے ، اور ہم طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے فارغ ہوتے تھے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
اعرج ؒ بیان کرتے ہیں ہم نے رمضان میں ہر شخص کو کافروں پر لعنت کرتے ہوئے پایا ، اور قاری آٹھ رکعتوں میں سورۂ بقرہ پڑھتے تھے ، اور جب اسے بارہ رکعتوں میں پڑھتے تو پھر لوگ اسے تخفیف سمجھتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک ۔