Back to Mishkat Al-Masabih

Prayer

كتاب الصلاة

Chapter 4

Hadith 1264
sahih
وَعَن عبد الله بن أبي قيس قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاث عشرَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عبداللہ بن ابی قیس ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کتنی رکعتیں وتر پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : چار اور تین (سات)، چھ اور تین (نو)، آٹھ اور تین (گیارہ) اور دس اور تین (تیرہ) رکعت وتر پڑھا کرتے تھے ، آپ سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1265
sahih
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وتر ہر مسلمان پر واجب ہے ، جسے پسند ہو کہ وہ پانچ وتر پڑھے تو وہ پانچ پڑھے ، جو تین پڑھنا پسند کرے تو وہ تین پڑھے اور جسے ایک وتر پڑھنا پسند ہو تو وہ ایک پڑھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 1266
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ وتر (اپنی ذات و صفات میں یکتا) ہے ، وہ وتر کو پسند فرماتا ہے ، پس حاملین قرآن وتر پڑھا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1267
sahih
وَعَن خَارِجَة بن حذافة قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النِّعَمِ: الْوَتْرُ جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

خارجہ بن حذافہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے تمہیں ایک مزید نماز عطا فرمائی ہے اور وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ، اور وہ نماز وتر ہے جسے اللہ نے نماز عشاء اور طلوع فجر کے مابین پڑھنا مقرر کیا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1268
sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ وَتْرِهِ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلا
Urdu

زید بن اسلم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص وتر پڑھنا بھول جائے تو وہ صبح ہونے کے بعد وتر پڑھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 1269
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِ (سَبِّحِ اسْم رَبك الْأَعْلَى) وَفِي الثَّانِيَةِ بِ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) وَفَى الثَّالِثَةِ بِ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أحد) والمعوذتين وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

عبدالعزیز بن جریج ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ پہلی رکعت میں ، الاعلی ، دوسری میں الکافرون اور تیسری میں الاخلاص اور معوذتین پڑھا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1270
sahih
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى
Urdu

امام نسائی ؒ نے اس حدیث کو عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔

Hadith 1271
sahih
وَرَوَاهُ ألأحمد عَن أبي بن كَعْب
Urdu

امام احمد ؒ نے اس حدیث کو ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔

Hadith 1272
sahih
والدارمي عَن ابْن عَبَّاس وَلم يذكرُوا والمعوذتين
Urdu

امام دارمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، ابی بن کعب ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ نے ’’ معوذتین ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 1273
sahih
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوَتْرِ: «اللَّهُمَّ اهدني فِيمَن هديت وَعَافنِي فِيمَن عافيت وتولني فِيمَن توليت وَبَارك لي فِيمَا أَعْطَيْت وقني شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْك أَنه لَا يذل من واليت تَبَارَكت رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
Urdu

حسن بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کچھ کلمات سکھائے جن کو میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں ’’ اے اللہ ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ، اور مجھے بھی (ان لوگوں میں) عافیت عطا فرما جن کو تو نے عافیت عطا کی جن لوگوں کو تو نے اپنا دوست بنایا ہے ان میں مجھے بھی شامل کر کے اپنا دوست بنا لے ، جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت ڈال دے ، جس شر کا تو نے فیصلہ فرمایا ہے اس سے مجھے بچا لے ، بے شک تو ہی ہمارا فیصلہ صادر فرماتا ہے تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا ، اور جس کا تو والی و سر پرست بنا وہ کبھی رسوا نہیں ہو سکتا ، ہمارے رب ! تو بڑا ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 1274
sahih
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوتر قَالَ: «سُبْحَانَكَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ: ثَلَاث مَرَّات يُطِيل فِي آخِرهنَّ
Urdu

ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر پڑھ کر سلام پھیرتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے : ((سبحان الملک القدوس)) ’’ پاک ہے بادشاہ نہایت پاک ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ، اور انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے : تین مرتبہ لمبی آواز سے فرماتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 1275
sahih
وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ثَلَاثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بالثالثة
Urdu

اور عبدالرحمن بن ابزیٰ عن ابیہ کی سند سے نسائی کی روایت میں ہے : جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سلام پھیرتے تو تین مرتبہ ((سبحان الملک القدوس)) فرماتے اور تیسری مرتبہ اپنی آواز بلند فرماتے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔

Hadith 1276
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وَتْرِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ من سخطك وبمعافاتك من عُقُوبَتك وَأَعُوذ بك مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وتر کے آخر پر یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضی سے ، تیرے درگزر کے ذریعے تیری سزا سے پناہ چاہتا ہوں ، میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، جیسے تو نے اپنی ذات کی ثنا فرمائی ہے ویسے میں کوشش کے باوجود تیری ثنا بیان نہیں کر سکتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 1277
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أَمِير الْمُؤمنِينَ مُعَاوِيَة فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ إِنَّهُ فَقِيهٌ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کیا امیر المومنین معاویہ ؓ کے بارے میں آپ کے پاس کوئی جواب یا فتویٰ ہے کہ وہ صرف ایک وتر پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : وہ درست ہیں کیونکہ وہ ایک فقیہ شخص ہیں ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے : ابن ملیکہ ؒ نے فرمایا : معاویہ نے نماز عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی ، اور ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام آپ کے پاس تھے ، انہوں نے ابن عباس ؓ کے پاس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا : انہیں چھوڑ دو کیونکہ انہیں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت اختیار کرنے کا شرف حاصل ہے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 1278
sahih
وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ وتر حق (واجب) ہے ، جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ، وتر حق ہے ، پس جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ، وتر حق ہے پس جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1279
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من نَام عَن الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ أَوْ إِذا اسْتَيْقَظَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص نیند یا بھول کی وجہ سے وتر نہ پڑھے تو جب اسے یاد آئے یا جب وہ بیدار ہو تو وتر پڑھ لے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 1280
sahih
وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ: أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ. فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ وَعَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
Urdu

مالک ؒ کو روایت پہنچی کہ کسی شخص نے عبداللہ بن عمر ؓ سے وتر کے بارے میں دریافت کیا ، کیا وہ واجب ہے ؟ تو عبداللہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے بھی وتر پڑھے ، وہ آدمی بار بار مجھ سے پوچھتا رہا اور عبداللہ ؓ یہی جواب دیتے رہے : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے بھی وتر پڑھے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1281
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِثَلَاثِ سُوَرٍ آخِرُهُنَّ: (قل هوا لله أحد) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین وتر پڑھا کرتے تھے ، اور ان میں ہر رکعت میں تین سورتوں کے حساب سے مفصل سورتوں میں سے نو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور سب سے آخر پر سورۂ اخلاص پڑھا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1282
sahih
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُغَيِّمَةٌ فَخَشِيَ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ انْكَشَفَ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْح أوتر بِوَاحِدَة. رَوَاهُ مَالك
Urdu

نافع ؒ بیان کرتے ہیں ، میں ابن عمر ؓ کے ساتھ مکہ میں تھا ، آسمان ابر آلود تھا ، انہوں نے صبح کے اندیشے کے پیش نظر ایک رکعت وتر پڑھا ، پھر جب موسم صاف ہو گیا تو انہوں نے دیکھا کہ ابھی تو رات باقی ہے ، تو انہوں نے ایک رکعت پڑھ کر نماز کو جفت بنا لیا ، پھر انہوں نے دو رکعتیں (تہجد) پڑھیں ، پھر جب صبح ہونے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔

Hadith 1283
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ وَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے قراءت کرتے تھے ، پھر جب تیس یا چالیس آیات کے برابر تلاوت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر قراءت کرتے ، پھر رکوع کرتے ، پھر سجدہ کرتے اور پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔