Back to Mishkat Al-Masabih

Prayer

كتاب الصلاة

Chapter 4

Hadith 1204
sahih
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ» قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ لِعُمَرَ: «مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا» وَقَالَ لِعُمَرَ: «اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وروى التِّرْمِذِيّ نَحوه
Urdu

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات تشریف لائے تو دیکھا کہ ابوبکر ؓ پست آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ۔ اور حضرت عمر ؓ کے پاس سے گزرے تو وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، جب وہ دونوں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر ؓ سے فرمایا ’’ میں تمہارے پاس سے گزرا اور تم آہستہ آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے جس سے سرگوشی کی اس کو سنا دیا ۔ (یعنی اللہ پاک کو) اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمؑ نے عمر ؓ سے فرمایا :’’ میں تمہارے پاس سے گزرا تھا اور تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں سوئے لوگوں کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر ! تم اپنی آواز کچھ بلند کرو ، اور عمر ؓ سے فرمایا :تم اپنی آواز کچھ پست رکھو ۔‘‘ ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

Hadith 1205
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ: (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإنَّك أَنْت الْعَزِيز الْحَكِيم) رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہی آیت تلاوت کرتے ہوئےصبح کر دی ۔ اور وہ آیت یہ تھی :’’ اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 1206
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ على يَمِينه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی صبح کی دو رکعتیں پڑھے تو وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1207
sahih
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: الدَّائِمُ قُلْتُ: فَأَيُّ حِينَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُومُ إِذا سمع الصَّارِخ
Urdu

مسروق ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : جس پر دوام ہو ۔ میں نے پوچھا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے کس وقت تہجد پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : جب آپ مرغ کی آواز سنتے تب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تہجد پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1208
sahih
وَعَن أنس قَالَ: مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِما إِلَّا رَأَيْنَاهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رات تہجد پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو ہم آپ کو (اس حالت میں) دیکھ لیتے تھے ، اور اگر ہم آپ کو سویا ہوا دیکھنا چاہتے تو ہم آپ کو (سویا ہوا) دیکھ لیتے تھے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔

Hadith 1209
sahih
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ لَأَرْقُبَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ حَتَّى أَرَى فِعْلَهُ فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الْعَتَمَةُ اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الْأُفُقِ فَقَالَ: (رَبنَا مَا خلقت هَذَا بَاطِلا) حَتَّى بَلَغَ إِلَى (إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ) ثُمَّ أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فِرَاشِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ سِوَاكًا ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَحٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهُ مَاءً فَاسْتَنَّ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى حَتَّى قُلْتُ: قَدْ صَلَّى قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى قُلْتُ قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
Urdu

حمید بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی صحابی نے بیان کیا ، کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا ، اس دوران میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز دیکھنے کے لیے آپ کو غور سے دیکھتا رہوں گا حتیٰ کہ میں آپ کا فعل دیکھ سکوں ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز عشاء پڑھ لی تو آپ رات دیر تک سوئے رہے ، پھر بیدار ہوئے تو افق پر نظر ڈال کر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی :’’ ہمارے پروردگار ! تو نے یہ ناحق پیدا نہیں فرمایا ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہاں تک پہنچے :’’ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بستر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور وہاں سے مسواک نکالی ، پھر کسی برتن سے پیالے میں پانی ڈالا اور مسواک کی ، پھر نماز پڑھی حتیٰ کہ میں نے کہا : آپ جتنی دیر سوئے تھے اس قدر نماز پڑھی پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ میں نے (دل میں) کہا : آپ نے جس قدر نماز پڑھی اسی قدر سو گئے ، پھر آپ بیدار ہوئے تو پہلی مرتبہ کی طرح عمل دہرایا ، اور آپ نے وہی آیات تلاوت کیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فجر سے پہلے تین مرتبہ ایسے کیا ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔

Hadith 1210
sahih
وَعَن يَعْلَى بْنِ مُمَلَّكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ؟ فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتُهُ؟ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
Urdu

یعلی بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ ؓ سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت اور نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : تم ان کی نماز کے متعلق پوچھ کر کیا کرو گے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر آپ نے جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی ، اتنی دیر سو جاتے تھے ، پھر جس قدر سوئے اسی قدر نماز پڑھتے ، پھر جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی اسی قدر سو جاتے تھے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی ، پھر انہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت کے متعلق بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کی قراءت کا ایک ایک حرف واضح ہوتا تھا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔

Hadith 1211
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا إِلَهَ غَيْرك»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تہجد پڑھتے تو (اللہ اکبر کہنے کے بعد) یہ دعا پڑھتے : اے اللہ ! ہر قسم کی حمد تیرے ہی لیے ہے ، زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے انہیں تو ہی قائم رکھنے والا ہے ، ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے ، زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کا تو ہی نور ہے ، ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں ہے اس کا تو ہی مالک ہے ، ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے تو حق ہے ، تیرا وعدہ حق ہے ، تیری ملاقات حق ہے ، تیری بات حق ہے ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے ، تمام انبیا علیہم السلام حق ہیں ، محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) حق ہیں ، اور قیامت حق ہے ، اے اللہ ! میں تیرے سامنے جھک گیا ، تجھ پر ایمان لایا ، تجھ پر توکل کیا ، تیری طرف رجوع کیا ، میں نے تیری ہی توفیق سے جھگڑا کیا ، میں نے تجھے ہی اپنا حاکم تصور کیا ، پس تو میرے اگلے پچھلے ، ظاہر و پوشیدہ اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے وہ سارے گناہ معاف فرما دے ، تو ہی ترقی اور تنزلی دینے والا ہے ، صرف تو ہی معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1212
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ اپنی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے تھے :’’ اے اللہ ! جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کے رب ! زمین و آسمان کو عدم سے وجود میں لانے والے حاضر و غائب کے جاننے والے ، تو ہی اپنے بندوں کا ان امور میں فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں ، ان اختلافی امور میں اپنی توفیق سے تو ہی میری راہنمائی فرما ، بے شک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف راہنمائی فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1213
sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ: ثمَّ دَعَا استيجيب لَهُ فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص رات کو اٹھ کر یہ دعا پڑھے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اور ہر قسم کی حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ پاک ہے ، حمد اللہ ہی کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے ، پھر وہ یہ کہے : میرے رب مجھے بخش دے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ پھر اس نے دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ، اگر وہ وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1214
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوتے تو آپ یہ دعا پڑھتے : ((لا الہ الا انت ،،،،، انک انت الوھاب)) ’’ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو پاک ہے ، اے اللہ ! اپنی حمد کے ساتھ ، میں اپنے گناہوں کی تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور تیری رحمت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! میرے علم میں اضافہ فرما ، بے شک تو ہی عطا فرمانے والا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1215
sahih
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا فَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْل فَيسْأَل اللَّهُ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
Urdu

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو مسلمان اللہ کا ذکر کرتے ہوئے با وضو سو جائے اور پھر وہ رات کے کسی وقت بیدار ہو کر اللہ سے کسی خیر و بھلائی کا سوال کرے تو اللہ وہی خیر اسے عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

Hadith 1216
sahih
وَعَنْ شَرِيقٍ الْهَوْزَنِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا: بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَتْ: سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ كَانَ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمِدَ اللَّهَ عَشْرًا وَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَشْرًا» وَقَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» عشرا واستغفر عشرا وَهَلل عَشْرًا ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» عَشْرًا ثمَّ يفْتَتح الصَّلَاة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

شریق الہوزنی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ کے پاس حاضر ہو کر ان سے دریافت کیا ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدار ہوتے تو آپ کس (ذکر) سے آغاز فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : تم نے ایسی چیز کے بارے میں مجھ سے سوال کیا ہے جس کے متعلق تم سے پہلے کسی نے مجھ سے دریافت نہیں کیا ، جب آپ رات کو بیدار ہوتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دس مرتبہ ((اللہ اکبر)) ، دس مرتبہ ’’ الحمدللہ ‘‘، دس مرتبہ ’’ سبحان اللہ وبحمدہ ‘‘، دس مرتبہ ’’ سبحان الملک القدوس ‘‘ دس مرتبہ ’’ استغفر اللہ ‘‘ اور دس مرتبہ ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھتے ، پھر دس مرتبہ دعا فرماتے :’’ اے اللہ میں دنیا میں روز قیامت کی سختیوں اور تکلیفوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ پھر آپ نماز (تہجد) شروع فرماتے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1217
sahih
عَن أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ثُمَّ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادٌ أَبُو دَاوُدَ بَعْدَ قَوْلِهِ: «غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ثَلَاثًا وَفِي آخر الحَدِيث: ثمَّ يقْرَأ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے اٹھتے تو اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھتے :’’ پاک ہے تو اے اللہ ! اپنی حمد کے ساتھ ، با برکت ہے نام تیرا ، بلند ہے شان تیری اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ اللہ بہت ہی بڑا ہے ۔‘‘ پھر فرماتے :’’ میں اللہ سمیع و علیم کی پناہ کا طلب گار ہوں شیطان مردود سے ، اس کے وسوسے ، اس کے کبر اور اس کے جادو سے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ، ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی اور ابوداؤد نے ((غیرک)) کے بعد یہ اضافہ نقل کیا ہے ، کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین مرتبہ فرماتے : ((لالہ الا اللہ)) ، اور حدیث کے آخر میں ہے : پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قراءت کرتے ۔

Hadith 1218
sahih
وَعَن ربيعَة بن كَعْب الْأَسْلَمِيّ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ من اللَّيْل يَقُول: «سُبْحَانَ رب الْعَالمين» الْهَوِي ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» الْهَوِيِّ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَلِلتِّرْمِذِيِّ نَحْوُهُ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح
Urdu

ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجرے کے قریب رات بسر کیا کرتا تھا ، جب آپ رات تہجد کے لیے اٹھتے تو میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیر تک یہ پڑھتے ہوئے سنتا ۔’’ پاک ہے تمام جہانوں کا رب ۔‘‘ اور :’’ پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ ۔‘‘ نسائی ۔ ترمذی میں بھی اسی طرح ہے ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی و الترمذی ۔

Hadith 1219
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ. فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طيب النَّفس وَإِلَّا أصبح خَبِيث النَّفس كسلانا
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے ، وہ ہر گرہ پر یہ فسوں پھونک دیتا ہے ابھی تو بہت رات ہے ، سو جاؤ ، اگر تو وہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، پھر اگر وضو کر لیتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے ، اور وہ صبح کو ہشاش بشاش ہوتا ہے ، جبکہ بصورت دیگر وہ غمگین و پریشان اور سستی کا شکار ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1220
sahih
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»
Urdu

مغیرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ، آپ سے عرض کیا گیا ، آپ یہ (طویل قیام) کیوں کرتے ہیں ؟ جبکہ آپ کی اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تو پھر کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1221
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقيل لَهُ مازال نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ مَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: «ذَلِكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ» أَو قَالَ: «فِي أُذُنَيْهِ»
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ شخص صبح ہونے تک سویا رہتا ہے اور نماز بھی نہیں پڑھتا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شیطان ایسے آدمی کے کان یا فرمایا اس کے کانوں میں پیشاب کر دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1222
sahih
وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ؟ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ» يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ «لِكَيْ يُصَلِّينَ؟ رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَة» أخرجه البُخَارِيّ
Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے تو فرمایا :’’ سبحان اللہ ! آج رات کس قدر خزانے نازل کیے گئے اور کس قدر فتنے (عذاب) نازل کیے گئے ، ان حجرے والیوں کو کون جگائے گا ؟‘‘ یعنی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ازواج مطہرات کے بارے میں فرما رہے تھے :’’ تاکہ وہ نماز تہجد پڑھیں ، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں تو لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں لیکن وہ آخرت میں برہنہ ہوں گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1223
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ: «مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلَا ظَلُومٍ؟ حَتَّى ينفجر الْفجْر»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر رات جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو ہمارا رب تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ، اور پوچھتا ہے : کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے ، میں اس کی دعا قبول کروں ، کوئی ہے جو مجھ سے مانگے ، میں اسے عطا کروں اور کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اسے بخش دوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے : کوئی ہے جو عطا کرنے والے سخی اور انصاف کرنے والے کو قرض عطا کرے (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے ۔‘‘