عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فجر کی دو رکعتیں ، دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ، سے بہتر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ، نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ۔‘‘ تیسری مرتبہ اس اندیشے کے پیش نظر کہ لوگ اسے سنت نہ بنا لیں ، فرمایا :’’ جو کوئی چاہے (پڑھے) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعت پڑھے ۔‘‘ مسلم اور انہی کی دوسری روایت میں ہے :’’ جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو وہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ۔ رواہ مسلم ۔
ام حبیبہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتوں اور اس کے بعد چار رکعتوں پر دوام اختیار کرتا ہے تو اللہ اسے جہنم پر حرام قرار دے دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ظہر سے پہلے چار رکعتوں کے لیے ، جن میں سلام نہ پھیرا گیا ہو ، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن سائب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوال آفتاب کے بعد نماز ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ وہ گھڑی ہے جب آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی عمل صالح اوپر جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ ، عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھنے والے شخص پر رحم فرمائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقرب فرشتوں ، اور ان کی اتباع کرنے والے مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فرق کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہؓ بیان کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور وہ ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو اس کے لیے بارہ سال کی عبادت کے برابر ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عمر بن ابی خثعم سے مروی حدیث کے حوالے سے جانتے ہیں جبکہ میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری ؒ) کو فرماتے ہوئے سنا : وہ منکر حدیث ہے ، اور انہوں نے اسے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔ اسنادہ موضوع ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی عشاء پڑھ کر میرے پاس تشریف لاتے تو آپ چار یا چھ رکعت نماز نفل ادا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ستاروں کے ڈوبنے کے بعد سے مراد فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور سجدوں کے بعد سے مغرب کے بعد دو رکعتیں ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ زوال آفتاب کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتوں کا ثواب نماز تہجد کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر ہے ، اس وقت ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ان کے سائے دائیں سے اور بائیں سے لوٹتے رہتے ہیں ، اللہ کے سامنے جھکتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں میرے ہاں کبھی ترک نہیں کیں ۔ بخاری ۔ مسلم ، اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے ، انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دی ! آپ نے زندگی بھر یہ دو رکعتیں نہیں چھوڑیں ۔ متفق علیہ ۔
مختار بن فلفل ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس بن مالک ؓ سے نماز عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : عمر ؓ نماز عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے پر ہاتھوں پر مارا کرتے تھے ، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پڑھا کرتے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں انہیں پڑھتے دیکھا کرتے تھے لیکن آپ نے ہمیں حکم فرمایا نہ منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مدینہ میں تھے ، جب مؤذن نماز مغرب کے لیے اذان کہتا تو صحابہ ستونوں کی طرف دوڑتے اور دو رکعتیں پڑھتے ، حتیٰ کہ کوئی اجنبی شخص مسجد میں آتا تو وہ ان رکعتوں کو پڑھنے والوں کی کثرت دیکھ کر سمجھتا کہ نماز ہو چکی ہے ۔ رواہ مسلم ۔
مرثد بن عبداللہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں عقبہ جہنی ؓ کے پاس آیا تو میں نے کہا : کیا بنو تمیم کے متعلق میں تمہیں تعجب انگیز بات نہ بتاؤں کہ وہ نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں ، تو عقبہ ؓ نے فرمایا : ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ان پر عمل پیرا تھے ، میں نے کہا :اب تمہیں کون سی چیز مانع ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مشغولیت ۔ رواہ البخاری ۔
کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عبدالاشہل قبیلے کی مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے وہاں نماز مغرب ادا کی ، جب وہ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد انہیں نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ یہ گھروں (میں پڑھی جانے) والی نماز ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے : لوگ کھڑے ہو کر نفل پڑھنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم یہ نماز گھروں میں پڑھا کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے بعد دو رکعتوں میں قراءت لمبی کیا کرتے تھے حتیٰ کہ نمازی چلے جاتے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔