Back to Mishkat Al-Masabih

Prayer

كتاب الصلاة

Chapter 4

Hadith 1124
sahih
وَعَن سَلامَة بنت الْحر قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
Urdu

سلامہ بنت حر ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مسجد والے نماز پڑھانے سے جان چھڑائیں گے وہ نماز پڑھانے کے لیے کوئی امام نہیں پائیں گے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1125
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر امیر کی معیت میں جہاد کرنا تم پر فرض ہے ، خواہ وہ نیک ہو یا فاجر ، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو ، اور ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا تم پر واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا فاجر ، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو اور ہر مسلمان پر نماز پڑھنا واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا فاجر ، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1126
sahih
عَن عَمْرو بن سَلمَة قَالَ: كُنَّا بِمَاء ممر النَّاس وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ نَسْأَلُهُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا لِلنَّاسِ؟ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ يَزْعُمُ أَنَّ الله أرْسلهُ أوحى إِلَيْهِ أَو أوحى الله كَذَا. فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمُ الْفَتْحَ فَيَقُولُونَ اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهُ فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ حَقًّا فَقَالَ: «صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِين كَذَا وصلوا صَلَاة كَذَا فِي حِينِ كَذَا فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فليؤذن أحدكُم وليؤمكم أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي لَمَّا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتِّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ فَاشْتَرَوْا فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيص. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عمرو بن سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک چشمہ پر رہائش پذیر تھے جو لوگوں کے لیے عام گزر گاہ تھا ، قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم ان سے پوچھتے رہتے کہ اب لوگوں کا کیا حال ہے ؟ اور اس شخص کی کیا کیفیت ہے ؟ تو وہ کہتے : اس شخص کا خیال ہے کہ اللہ نے اسے رسول بنا کر بھیجا ہے ، اس کی طرف یہ یہ وحی کی گئی ہے ، میں ان سے یہ باتیں یاد کر لیتا ، گویا وہ میرے دل میں گھر کر گئی ہیں ، اور عرب اسلام قبول کرنے کے بارے میں فتح مکہ کے منتظر تھے ، وہ کہتے تھے : اسے اور اس کی قوم کو (اس کے حال پر) چھوڑ دو ، اگر وہ ان پر غالب آ گیا تو وہ سچا نبی ہے ، جب مکہ فتح ہوا تو ہر قوم نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی ، اور میرے والد نے بھی اسلام قبول کرنے میں اپنی قوم سے جلدی کی ، جب وہ واپس پہنچے تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں سچے نبی کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں ، انہوں نے فرمایا :’’ یہ نماز اس وقت پڑھو اور یہ نماز اس وقت پڑھو ، تم میں سے کوئی ایک شخص اذان کہہ دے اور تم میں سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تمہاری امامت کرائے ۔‘‘ انہوں نے جائزہ لیا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہیں تھا ، کیونکہ میں قافلوں سے سن کر قرآن کا علم حاصل کر چکا تھا ، انہوں نے مجھے اپنا امام بنا لیا ، میں اس وقت چھ یا سات برس کا تھا ، میرے اوپر ایک چادر ہی تھی ، جب میں سجدہ کرتا تو وہ سکڑ جاتی ، (اور میرا ستر کھل جاتا ، یہ دیکھ کر) قبیلے کی ایک عورت نے کہا : تم اپنے امام کا سرین ہم سے کیوں نہیں چھپاتے ہو ؟ انہوں نے (کپڑا) خریدا اور میرے لیے قمیض بنائی ، میں جتنا اس قمیض سے خوش ہوا اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 1127
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْمَدِينَةَ كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَفِيهِمْ عُمَرُ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأسد. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب اول مہاجرین مدینہ تشریف لائے تو ابوحذیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سالم ان کی امامت کرایا کرتے تھے جبکہ عمر ؓ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد ؓ ان میں موجود تھے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 1128
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرْفَعُ لَهُم صلَاتهم فَوق رؤوسهم شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگ ہیں ، جن کی نمازیں ان کے سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتیں : وہ امام جس کے مقتدی اس سے ناراض ہوں ، وہ عورت جو اس حال میں رات بسر کرے کہ اس کا خاوند اس سے ناراض ہو اور باہم قطع تعلق کر لینے والے دو بھائی ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1129
sahih
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أمه
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سی بہت ہلکی اور بہت کامل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی ، جب آپ کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو اس اندیشے کے پیش نظر کہ اس کی والدہ کسی آزمائش سے دوچار ہو جائے گی ، نماز ہلکی کر دیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1130
sahih
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وجد أمه من بكائه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں لمبی نماز پڑھنے کے ارادے سے نماز شروع کرتا ہوں ، لیکن پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز میں تخفیف کر دیتا ہوں ، اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ اس کے رونے کی وجہ سے اس کی والدہ غمگین ہوتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1131
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا صلى أحدكُم النَّاس فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ. وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے ، کیونکہ ان میں بیمار ، ضعیف اور بوڑھے ہوتے ہیں ، اور جب تم میں سے کوئی شخص اکیلا نماز پڑھے تو پھر جس قدر چاہے لمبی پڑھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1132
sahih
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ: فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِير وَذَا الْحَاجة
Urdu

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، ابومسعود ؓ نے مجھے بتایا کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اللہ کی قسم ! میں فلاں شخص کی وجہ سے نماز فجر دیر سے پڑھتا ہوں ، کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وعظ نصیحت کرتے وقت اس دن سے زیادہ ناراض کبھی نہیں دیکھا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک تم میں کچھ نفرت دلانے والے بھی ہیں ، پس تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ اختصار سے کام لے کیونکہ ان میں ضعیف ، بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1133
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصَلُّونَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ (امام) تمہیں نماز پڑھائیں گے ، چنانچہ اگر انہوں نے درست پڑھائی تو تمہارے لیے اجر ہے ، اور اگر انہوں نے غلطی کی تو تمہارے لیے اجر ہے اور ان پر گناہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1134
sahih
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «أُمَّ قَوْمَكَ» . قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ: «ادْنُهْ» . فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ثُمَّ قَالَ: «تَحَوَّلْ» . فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ ثُمَّ قَالَ: «أُمَّ قَوْمَكَ فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فيهم الْكَبِير وَإِن فيهم الْمَرِيض وَإِن فيهم الضَّعِيف وَإِن فهيم ذاالحاجة فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ»
Urdu

عثمان بن ابی العاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجھے آخری وصیت یہ تھی :’’ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ ۔‘‘ مسلم ۔ انہی سے مروی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اپنے دل میں کچھ وسوسہ پاتا ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قریب ہو جاؤ ۔‘‘ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ میری چھاتی پر رکھ دیا ، پھر فرمایا :’’ پہلو بدلو ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میری پشت پر رکھا ، پھر فرمایا :’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ، جو شخص کسی قوم کی امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے ، کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں ، ان میں مریض ہوتے ہیں ، ان میں ضعیف ہوتے ہیں ، اور ان میں کوئی حاجت مند ہوتے ہیں ، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو پھر جیسے چاہے پڑھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1135
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا ب (الصافات) رَوَاهُ النَّسَائِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیا کرتے تھے ، جبکہ آپ سورۃ الصافات سے ہماری امامت کرایا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔

Hadith 1136
sahih
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» . لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم جَبهته على الأَرْض
Urdu

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے ، جب آپ ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ فرماتے تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی کمر نہ جھکاتا حتیٰ کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1137
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ: فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمن خَلْفي . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا :’’ لوگو ! میں تمہارا امام ہوں ، تم رکوع و سجود ، قیام اور نماز سے فارغ ہونے میں مجھ سے سبقت نہ کیا کرو ، کیونکہ میں اپنے آگے اور پیچھے سے تمہیں دیکھتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1138
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فكبروا وَإِذا قَالَ: وَلَا الضَّالّين. فَقُولُوا: آمِينَ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَك الْحَمد إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ لَمْ يَذْكُرْ: وَإِذَا قَالَ: وَلَا الضَّالّين
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ امام سے سبقت نہ کرو ، جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو ، جب وہ (ولاالضالین) کہے تو تم آمین کہو ، جب رکوع کرے تو رکوع کرو ، جب ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہے تو تم ’’ ربنا لک الحمد ‘‘ کہو ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ لیکن امام بخاری نے :’’ اور جب (ولا الضالین) کہے ۔‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1139
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِما فصلوا قيَاما فَإِذا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبنَا وَلَك الْحَمد وَإِذا صلى قَائِما فصلوا قيَاما وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَوْلُهُ: «إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا» هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَاتَّفَقَ مُسْلِمٌ إِلَى أَجْمَعُونَ. وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: «فَلَا تختلفوا عَلَيْهِ وَإِذا سجد فاسجدوا»
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے ، جس سے آپ کی دائیں جانب خراشیں آ گئیں ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی ، تو ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ ، جب وہ ((سمع اللہ لمن حمدہ)) کہے تو تم ((ربنا لک الحمد)) کہو ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔‘‘ حمیدی ؒ کہتے ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان ، آپ کے مرض قدیم کے وقت کا ہے ، پھر اس کے بعد نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی تو صحابہ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی ، آپ نے انہیں بیٹھنے کا حکم نہیں فرمایا ، اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آخری فعل بطور حجت لیا جاتا ہے ، یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں ، اور امام مسلم نے ((اجمعون)) تک اتفاق کیا ہے ، اور ایک روایت میں اضافہ نقل کیا ہے :’’ اس سے اختلاف نہ کرو ، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1140
sahih
وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَال يوذنه لصَلَاة فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ» فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ يخطان فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بكر حسه ذهب أخر فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن لَا يتَأَخَّر فجَاء حَتَّى يجلس عَن يسَار أبي بكر فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مقتدون بِصَلَاة أبي بكر وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: يُسْمِعُ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِير
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوئے تو بلال ؓ آپ کو نماز کی اطلاع کرنے آئے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر ؓ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، چنانچہ ابوبکر ؓ نے ان ایام میں نماز پڑھائی ، پھر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ کو دو آدمیوں کے سہارے لایا گیا اس حال میں آپ کے پاؤں زمین پر لگ رہے تھے ، حتیٰ کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے ، جب ابوبکر ؓ نے آپ کی آمد محسوس کی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ، لیکن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں ، آپ تشریف لائے اور ابوبکر ؓ کی بائیں جانب بیٹھ گئے ، ابوبکر ؓ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر ، ابوبکر ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے جبکہ لوگ ابوبکر ؓ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے ۔ بخاری ، مسلم ، ان دونوں کی ایک روایت میں ہے ، ابوبکر ؓ لوگوں کو تکبیر سناتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1141
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حمَار»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ کہیں اس کے سر کو گدھے کا سر نہ بنا دے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1142
sahih
عَنْ عَلِيٍّ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَالْإِمَامُ عَلَى حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْإِمَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

علی ؓ اور معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے آئے تو وہ جس حال میں امام کو پائے تو وہ بھی اسی حالت میں ان کے ساتھ شامل ہو جائے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1143
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهُ شَيْئًا وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً فقد أدْرك الصَّلَاة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدہ کی حالت میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرو ، اور اسے کچھ بھی شمار نہ کرو ، جس نے ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی ۔‘‘ ضعیف ۔