مجاہد ؒ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی شخص اپنے اہل خانہ کو مسجد جانے سے نہ روکے ۔‘‘ (یہ سن کر) عبداللہ بن عمر ؓ کے ایک بیٹے نے کہا : ہم انہیں ضرور روکیں گے ۔ اس پر عبداللہ ؓ نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں ، اور تم یہ کہہ رہے ہو ، راوی بیان کرتے ہیں : عبداللہ ؓ نے زندگی بھر اس سے کلام نہیں کیا ۔ ضعیف ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری صفوں کو ایسا برابر کیا کرتے تھے گویا ان کے ساتھ تیروں کو برابر کرتے ہوں ، حتیٰ کہ آپ نے سمجھ لیا کہ ہم آپ سے سیکھ چکے ہیں ۔ پھر ایک روز آپ تشریف لائے تو کھڑے ہو گئے ، قریب تھا کہ آپ تکبیر کہتے کہ آپ نے ایک آدمی کو دیکھا ، اس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے بندو ! صفیں برابر کیا کرو ، ورنہ اللہ تمہارے اندر اختلاف پیدا فرما دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا :’’ صفیں درست رکھو اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو ، کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔‘‘ بخاری ۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صفیں مکمل کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری و مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی صفیں برابر کرو ، بے شک صفوں کا برابر کرنا نماز قائم کرنے سے ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ البتہ صحیح مسلم میں :’’ نماز مکمل کرنے سے ہے ۔‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ متفق علیہ ۔
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں اپنے ہاتھ ہمارے کندھوں پر رکھتے اور فرماتے :’’ برابر ہو جاؤ ، اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے ، اور تم میں سے صاحب عقل و دانش حضرات میرے قریب کھڑے ہوا کریں ، پھر جو ان کے قریب ہیں پھر جو ان کے قریب ہیں ۔‘‘ اور ابومسعود ؓ نے فرمایا : اور تم آج سخت اختلاف کا شکار ہو ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے صاحب عقل و دانش حضرات میرے قریب کھڑے ہوا کریں ، پھر جو ان سے قریب ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ایسے فرمایا اور بازاروں کے شور (مسائل) سے بچو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کا (پہلی صف سے) پیچھے ہٹنا ملاحظہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ آگے بڑھو ، میری اقتدا کرو اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتدا کریں ، لوگ پیچھے ہٹتے رہیں گے حتیٰ کہ اللہ انہیں (اپنی رحمت میں) پیچھے کر دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے ہمیں مختلف حلقوں میں دیکھ کر فرمایا :’’ کیا وجہ ہے میں تمہیں متفرق دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا :’’ تم ویسے صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، فرشتے اپنے رب کے ہاں کیسے صفیں بناتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ پہلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور صف میں باہم مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مردوں کی صفوں میں سے پہلی صف ، بہترین صف ہے اور ان کی آخری صف کمتر ہے ، جبکہ عورتوں کی آخری صف ان کی بہترین صف ہے ، اور ان کی پہلی صف بدتر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی صفوں کو خوب ملاؤ اور انہیں باہم قریب بناؤ ، گردنوں کو برابر و مقابل رکھو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ؟ میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ بکری کے بچے کی طرح صفوں کے شگاف میں داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگلی صف کو پورا کرو ، پھر اس کو جو اس کے بعد ہے ، پس جو کمی ہو وہ آخری صف میں ہونی چاہیے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں جو پہلی صفوں کو ملاتے ہیں ، اللہ کو وہ قدم انتہائی محبوب ہے جو صف میں ملنے کے لیے اٹھایا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے صفوں کی دائیں جانب والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری صفیں برابر فرماتے ، جب ہم برابر ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ اکبر کہتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دائیں جانب فرماتے :’’ برابر ہو جاؤ ، صفیں درست کرو ۔‘‘ اور اپنی بائیں جانب بھی فرماتے :’’ برابر ہو جاؤ ، صفیں درست کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز میں کندھے نرم رکھنے والا شخص تم میں سب سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ برابر ہو جاؤ ، برابر ہو جاؤ ، برابر ہو جاؤ ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اپنی پشت سے تمہیں اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے میں تمہیں اپنے سامنے دیکھتا ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! دوسری پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! دوسری پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! دوسری پر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دوسری پر ۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی صفیں برابر کرو ، کندھے برابر رکھو ، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شگاف بند کرو کیونکہ شیطان بکری کے بچے کی طرح تمہارے درمیانی شگاف میں داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی صفیں قائم کرو ، کندھے برابر رکھو ، شگاف بند کرو ، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں کے لیے نرم ہو جاؤ ، شیطان کے لیے شگاف (خالی جگہ) نہ چھوڑو اور جو شخص صف ملائے گا اللہ (اپنی رحمت کے ساتھ) اسے ملائے گا اور جو اسے قطع کرے گا ، اللہ اسے (اپنی رحمت سے) قطع کر دے گا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور امام نسائی ؒ نے ((من وصل صفا)) سے آخر تک ان سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ امام کو وسط میں جگہ دو اور شگاف بند کرو ۔‘‘ ضعیف ۔