محمد بن ابراہیم ؒ ، قیس بن عمرو ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز فجر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز فجر دو رکعت ہے ، دو رکعت ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : میں نے ان سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں پڑھی تھیں ، میں نے انہیں اب پڑھا ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے ۔ ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ، اور انہوں نے فرمایا : اس حدیث کی سند متصل نہیں ، کیونکہ محمد بن ابراہیم نے قیس بن عمرو ؓ سے نہیں سنا ۔ شرح السنہ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں قیس بن قہد سے اسی طرح مروی ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
جبیر بن معطم ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بنو عبد مناف ! دن یا رات کے کسی بھی وقت بیت اللہ کا طواف کرنے اور اس میں نماز پڑھنے سے کسی کو منع نہ کرنا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابوخلیل ؒ ، ابوقتادہ سے روایت کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن کے سوا نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا نا پسند فرمایا کرتے تھے حتیٰ کہ سورج ڈھل جاتا ، اور فرمایا : جمعہ کے دن کے سوا جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے ۔ ابوداؤد اور انہوں نے فرمایا : ابوخلیل کی ابوقتادہ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ ضعیف ۔
عبداللہ صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک سورج اس حال میں طلوع ہوتا ہے کہ شیطان کے سینگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں ، پس جب وہ بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ پھر جب وہ برابر (نصٖف النہار پر) ہو جاتا ہے تو وہ اس سے آ ملتے ہیں ، پس جب وہ ڈھل جاتا ہے تو وہ پھر الگ ہو جاتے ہیں ، اور جب وہ غروب کے قریب ہوتا ہے تو وہ پھر اس کے ساتھ آ ملتے ہیں ، اور جب غروب ہو جاتا ہے تو وہ الگ ہو جاتے ہیں ۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک و احمد و النسائی ۔
ابوبصرہ غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام مخمص پر ہمیں نماز عصر پڑھائی تو فرمایا :’’ یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا ۔ پس جو شخص اس کی حفاظت کرے گا تو اسے اس کا دس گنا اجر ملے ، اور اس کے بعد طلوع ’’ شاہد ‘‘ تک کوئی نماز نہیں ۔‘‘ اور ’’ شاہد ‘‘ سے ستارے مراد ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
معاویہ ؓ نے فرمایا : بے شک تم (عصر کے بعد دو رکعت) نماز پڑھتے ہو ، حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے ، ہم نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ان یعنی عصر کے بعد دو رکعتوں سے منع فرمایا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
ابوذر ؓ نے کعبہ کی سیڑھی پر چڑھ کر فرمایا : جو مجھے پہچانتا ہے تو پس وہ مجھے پہچانتا ہے ، اور جو مجھے نہیں پہچانتا تو میں جندب ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : مکہ کے سوا (تین مرتبہ فرمایا) نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز (پڑھنا درست) نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ با جماعت نماز ، اکیلے شخص کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں ، وہ اکٹھی ہو جائیں تو پھر میں نماز کے متعلق حکم دوں ، اس کے لیے اذان دی جائے ، پھر میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں ، اور ایک روایت میں ہے ، جو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے نہیں آتے تو میں ان کے گھروں سمیت انہیں جلا دوں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ان میں سے کسی کو پتہ چل جائے کہ وہ (مسجد میں) گوشت والی ہڈی یا دو بہترین پائے پائے گا تو وہ نماز عشاء میں ضرور حاضر ہو ۔‘‘ بخاری ۔ مسلم میں بھی اسی طرح روایت ہے ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک نابینا شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے مسجد تک پہنچانے کے لیے میرے پاس کوئی آدمی نہیں ، اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ اسے رخصت عنایت فرما دیں کہ وہ گھر میں نماز پڑھ لیا کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رخصت عنایت فرما دی ، جب وہ واپس مڑا تو آپ نے اسے بلا کر پوچھا :’’ کیا تم نماز کے لیے اذان سنتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تو پھر اسے قبول کرو (مسجد میں آؤ) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات جب سردی تھی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ، اذان کہی ، پھر فرمایا سن لو ! اپنے گھروں میں نماز پڑھو ، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرد اور برسات والی رات مؤذن کو حکم فرمایا کرتے تھے کہ وہ کہے :’’ اپنے گھروں میں نماز پڑھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب شام کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو پہلے شام کا کھانا کھا لو ، اور کوئی شخص جلدی نہ کرے حتیٰ کہ اس سے فارغ ہو جائے ۔‘‘ ابن عمر ؓ کے لیے کھانا لگا دیا جاتا اور نماز کھڑی کر دی جاتی تو آپ اس سے فارغ ہو کر ہی نماز کے لیے آیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ امام کی قراءت سن رہے ہوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کھانے کے (سامنے) ہوتے ہوئے نماز ہوتی ہے نہ اس وقت کہ جب دو خبیث چیزیں (بول و براز) اسے روک رہی ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو پھر فرض نماز کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کی اہلیہ مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے منع نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو وہ خوشبو نہ لگائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو عورت خوشبو لگائے (خوشبو کی دھونی لے) تو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء پڑھنے کے لیے نہ آئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی خواتین کو مساجد میں آنے سے منع نہ کرو ، جب کہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عورت کا اپنے گھر کے اندر نماز پڑھنا ، گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ، اور اس کا گھر کے اندر کسی کوٹھری میں نماز پڑھنا ، اس کے کھلے مکان میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔‘‘ ضعیف ۔