ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی امامت کراتے ہوئے دیکھا جبکہ (آپ کی نواسی ) امامہ بنت ابی العاص آپ کے کندھے پر تھیں ، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں (کندھے سے) اتار دیتے اور جب سجدوں سے سر اٹھاتے تو پھر انہیں اٹھا لیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کو دوران نماز جمائی آئے تو جس قدر ہو سکے اسے روکے کیونکہ (منہ کھلا ہو تو) شیطان داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
اور ابوہریرہ ؓ سے مروی صحیح بخاری کی روایت میں ہے :’’ جب تم میں سے کسی شخص کو دوران نماز جمائی آئے ، تو جس قدر ہو سکے اسے روکے ، ہا ہا نہ کرے ، یہ تو محض شیطان کی طرف سے ہے ، وہ اس پر ہنستا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گزشتہ رات اچانک ایک سرکش جن آیا تاکہ میری نماز خراب کر دے ، لیکن اللہ نے مجھے اس پر اختیار عطا فرمایا تو میں نے اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ کیا حتیٰ کہ تم سب اسے دیکھ لیتے ، تو پھر مجھے میرے بھائی سلیمان ؑ کی دعا یاد آ گئی : میرے رب ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کے لائق نہ ہو ، پس میں نے اسے ذلیل کر کے بھگا دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو نماز میں کوئی عارضہ پیش آ جائے تو وہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ کہے ، ہاتھ پر ہاتھ مارنا تو خواتین کے لیے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے جبکہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا خواتین کے لیے ہے ۔‘‘
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ہجرت حبشہ سے پہلے ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا کرتے تھے ، اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے ، جب ہم سر زمین حبشہ سے واپس (مکہ) آئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز مکمل کر چکے تو فرمایا :’’ اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنا حکم ظاہر کرتا ہے ، اور اب جو نیا حکم آیا ہے وہ یہ ہے کہ تم نماز میں بات نہ کرو ۔‘‘ پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
اور فرمایا :’’ نماز تو قراءت قرآن اور اللہ کے ذکر کے لیے ہے ، پس جب تم اس (نماز) میں ہو تو تمہارے پیش نظر بھی یہی کچھ ہونا چاہیے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے بلال ؓ سے پوچھا : جب صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ انہیں کیسے جواب دیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، نسائی کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور بلال کی جگہ صہیب کا ذکر کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
رفاعہ بن رافع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو مجھے چھینک آ گئی تو میں نے کہا : ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے ، حمد بہت زیادہ ، خالص اور با برکت ، جیسے ہمارے رب کو پسند اور محبوب ہے ، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ کر ہماری طرف رخ کیا تو فرمایا :’’ نماز میں بولنے والا کون تھا ؟‘‘ کسی نے جواب نہ دیا ، پھر آپ نے دوسری مرتبہ پوچھا : تو پھر کسی نے جواب نہ دیا پھر آپ نے تیسری مرتبہ پوچھا تو رفاعہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے بات کی تھی ، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تیس سے کچھ زیادہ فرشتے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان میں سے کون انہیں اوپر لے کر چڑھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دوران نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے ، پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ مقدور بھر اسے روکنے کی کوشش کرے ۔‘‘ ترمذی اور اسی کی دوسری روایت اور ابن ماجہ میں ہے :’’ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے ۔‘‘ صحیح ۔
کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کر کے مسجد کے قصد سے روانہ ہو تو وہ (راستے میں) اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں داخل نہ کرے ، کیونکہ وہ (حکماً) نماز ہی میں ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب بندہ نماز میں ہوتا ہے تو جب تک وہ ادھر ادھر نہ دیکھے تو اللہ عزوجل اس پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے ، جب وہ ادھر ادھر دیکھتا ہے تو پھر وہ اس سے رخ موڑ لیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انس ! اپنے سجدہ کی جگہ پر نظر رکھو ۔‘‘ بیہقی نے حسن عن انس ؓ کی سند سے اپنی سنن الکبیر میں مرفوع روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ بیٹا ! نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے احتیاط کرو ، کیونکہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا باعث ہلاکت ہے ، پس اگر ضرور ہی دیکھنا ہو تو پھر نفل میں ہے لیکن فرض میں نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوران نماز گردن موڑے بغیر دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
عدی بن ثابت اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے مرفوع روایت کرتے ہیں ، فرمایا :’’ دوران نماز چھینکیں ، اونگھ ، جمائی ، حیض ، قے کا آنا نیز نکسیر کا پھوٹنا شیطان کی طرف سے ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
مطرف بن عبداللہ بن شخیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے تو رونے کی وجہ سے آپ کے پیٹ سے ہنڈیاں کے ابلنے کی سی آواز آ رہی تھی ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ سے آپ کے سینے میں چکی چلنے کی سی آواز آ رہی تھی ۔ احمد ، اور امام نسائی نے پہلی روایت کی ہے اور امام ابوداؤد نے دوسری ۔ صحیح ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکریوں کو ہاتھ نہ لگائے کیونکہ اس وقت اسے رحمت کا سامنا ہوتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے افلح نامی غلام کو دیکھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ افلح ! اپنے چہرے کو مٹی لگنے دو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دوران نماز کمر (کوکھ) پر ہاتھ رکھنا ، جہنمیوں کا انداز راحت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔