سعد ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے ، اور وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے بعد ان کے ذریعے تعوذ (پناہ) حاصل کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اور اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ مجھے نکمی (یعنی بڑھاپے کی) عمر کی طرف پھیر دیا جائے ، اور اسی طرح میں دنیاوی فتنوں اور عذاب قبر سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مہاجر فقراء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا : مال دار دائمی نعمتیں اور بلند درجات پا گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ کیسے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں ویسے وہ نماز پڑھتے ہیں ، جیسے ہم روزے رکھتے ہیں ، ویسے وہ روزے رکھتے ہیں ، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے ، وہ غلام آزاد کرتے ہیں ، ہم غلام آزاد نہیں کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں کوئی ایسی چیز نہ سکھاؤں جس کے ذریعے تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پا لو گے اور اپنے بعد والوں سے سبقت پا جاؤ گے ، اور تم سے صرف وہی (مال دار) شخص بہتر ہو گا جو تمہارے جیسا عمل کرے گا ؟ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ، ضرور بتائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار ((سبحان اللہ)) ، ((اللہ اکبر)) اور ((الحمدللہ)) پڑھ لیا کرو ۔‘‘ ابوصالح بیان کرتے ہیں ، مہاجر فقراء دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : ہمارے مال دار بھائیوں کو ہمارے عمل کا پتہ چل گیا ہے اور انہوں نے بھی وہی عمل شروع کر دیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ اللہ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے ۔ بخاری ، مسلم ، لیکن ابوصالح کا قول صرف صحیح مسلم میں ہے ۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے :’’ تم ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ ((سبحان اللہ)) ، دس مرتبہ ((الحمدللہ)) اور دس مرتبہ ((اللہ اکبر)) پڑھا کرو یہ الفاظ :’’ تینتیس کے متبادل فرمائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر فرض نماز کے بعد چند کلمات کہے جاتے ہیں ، ان کا کہنے والا ناکام اور نامراد نہیں ہو گا ، تینتیس مرتبہ ((سبحان اللہ)) تینتیس مرتبہ ((الحمدللہ)) اور چونتیس مرتبہ ((اللہ اکبر)) کہنا :‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ ((سبحان اللہ)) تنتیس مرتبہ ((الحمدللہ)) اور تینتیس مرتبہ ((اللہ اکبر)) کہا پس یہ ننانوے ہوئے ، اور :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ‘‘ سے سو پورا کر لیا تو اس کے گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تو بھی معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آخری نصف شب میں اور فرض نمازوں کے بعد کی گئی دعا ۔‘‘ ضعیف
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ہر (فرض) نماز کے بعد معوذات (سورۂ اخلاص ، الفلق اور الناس) کی تلاوت کیا کروں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و البیھقی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے نماز فجر سے طلوع آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنے والی جماعت کے ساتھ بیٹھنا ، اولاد اسماعیل ؑ سے تعلق رکھنے والے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے ، جبکہ مجھے ، نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنے والی جماعت کے ساتھ بیٹھنا ، چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص نماز فجر با جماعت ادا کرتا ہے ، پھر اسی جگہ بیٹھ کر طلوع آفتاب تک اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے ، پھر دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اس کے لیے مکمل حج و عمرہ کا ثواب ہے ۔‘‘ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا ۔ ضعیف ۔
ازرق بن قیس ؒ بیان کرتے ہیں ، ہمارے امام ابورمثہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے کہا : میں نے یہ نماز یا اس کی مثل نماز ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی تھی ، انہوں نے کہا : ابوبکر ؓ و عمر ؓ پہلی صف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے ہوا کرتے تھے ، ایک آدمی جو تکبیر اولی میں آ کر شامل ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ، پھر اپنے دائیں بائیں سلام پھیرا حتیٰ کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مڑے جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود مڑے ، پس وہ آدمی جو تکبیر اولی میں آپ کے ساتھ شریک ہوا تھا ، وہ کھڑا ہوا اور پھر نماز شروع کر دی ، تو عمر ؓ جلدی سے کھڑے ہوئے اور اسے اس کے کندھوں سے پکڑ کر خوب ہلایا ، پھر فرمایا : بیٹھ جاؤ ، کیونکہ اہل کتاب اسی لیے ہلاک ہوئے تھے کہ ان کی (فرض و نفل) نمازوں میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا تھا ، پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نظر اٹھائی تو فرمایا :’’ ابن خطاب ! اللہ نے تیری وجہ سے حق قائم کر دیا ۔‘‘ ضعیف ۔
زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ ((سبحان اللہ)) تینتیس دفعہ ((الحمدللہ)) اور چونتیس مرتبہ ((اللہ اکبر)) کہیں ، انصار کے ایک آدمی نے خواب میں کسی آدمی کو دیکھا تو اس نے اس (انصاری آدمی) سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد اس قدر تسبیح کرو ، انصاری شخص نے اپنے خواب میں کہا : ہاں ! اس شخص نے کہا : اسے پچیس ، پچیس مرتبہ کر لو اور اس میں ((لا الہ الا اللہ)) شامل کر لو ، جب صبح ہوئی تو وہ انصاری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ کو خواب کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسے ہی کر لیا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر کی سیڑھیوں پر فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتا ہے تو اس کو دخول جنت سے صرف موت روکے ہوئے ہے اور جو شخص سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹتے وقت اسے پڑھتا ہے تو اللہ اس کے گھر کو ، اس کے پڑوسی کے گھر اور اس کے آس پاس کے گھر والوں کو امن عطا کر دیتا ہے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ، اور انہوں نے کہا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ اسنادہ موضوع ۔
عبدالرحمن بن غنم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص نماز مغرب اور نماز فجر پڑھنے کے بعد اپنی اسی جگہ اور اسی کیفیت (تشہد) میں بیٹھے ہوئے یہ دعا :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے اور ہر قسم کی خیرو بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے ، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ دس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے ہر مرتبہ پڑھنے پر اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، اس کے دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں ، اور ہر ناگوار چیز سے اس کا بچاؤ ہو جاتا ہے ، اور مردود شیطان سے اس کا بچاؤ ہو جاتا ہے ، شرک کے علاوہ کوئی گناہ اسے ہلاک نہیں کر سکتا اور وہ سب سے بہترین عمل کرنے والا ہوتا ہے الا یہ کہ کوئی شخص اس سے بہتر کلام سے دعا کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
امام ترمذی ؒ نے ((الا الشرک)) تک ابوذر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور انہوں نے نماز مغرب اور ((بیدہ الخیر)) کا ذکر نہیں کیا ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ حسن ۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا ، انہوں نے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور بہت جلد (مدینہ) واپس آ گئے تو ہم میں سے ایک آدمی نے کہا : ہم نے اس لشکر سے زیادہ مال غنیمت لے کر اور اتنی جلدی واپس آتے ہوئے کوئی لشکر نہیں دیکھا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں زیادہ مال غنیمت کے ساتھ زیادہ جلدی واپس آنے والے لشکر کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ ایسے لوگ ہیں جو با جماعت فجر پڑھنے کے بعد بیٹھ کر طلوع آفتاب تک اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں ، پس یہ وہ لوگ ہیں جو بہترین مال غنیمت لے کر بہت جلد واپس آنے والے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ، حماد بن ابی حمید راوی حدیث کے بارے میں ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔
معاویہ بن حکم بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس دوران لوگوں میں سے کسی آدمی نے چھینک مار دی ، تو میں نے (دوران نماز) کہہ دیا : اللہ تم پر رحم کرے ، لوگ مجھے آنکھوں کے اشارے سے روکنے لگے ، میں نے کہا : میری ماں مجھے گم پائے ، تمہیں کیا ہوا کہ تم مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو ؟ انہوں نے اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنا شروع کر دیے ، چنانچہ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، میں نے آپ جیسا بہترین معلم آپ سے پہلے کوئی دیکھا ہے نہ آپ کے بعد ، اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے ڈانٹا نہ مارا اور نہ ہی گالی دی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ جو نماز ہے اس میں لوگوں کا باتیں کرنا درست نہیں ، یہ تو صرف تسبیح و تکبیر اور قراءت قرآن ہے ۔‘‘ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائے ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں ، اللہ نے ہمیں اسلام کی دولت سے نوازا ہے بے شک ہم میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ان کے پاس نہ جانا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ہم میں سے کچھ لوگ فال لیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ وہ چیز ہے جو وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں ، (اس کی کوئی دلیل نہیں) پس یہ چیز انہیں روکنے نہ پائے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک نبی بھی خط کھینچا کرتے تھے ، پس جس کا خط ان کے موافق ہو گا تو وہ درست ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ (مؤلف فرماتے ہیں) کہ راوی کا یہ کہنا :’’ لکنی سکت ‘‘ میں نے جملہ صحیح مسلم اور کتاب حمیدی میں اسی طرح دیکھا ہے ، اور جامع الاصول میں اس کے ساتھ کزا کا لفظ تصحیح کے طور پر لایا گیا ہے ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم دوران نماز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا کرتے تھے اور آپ ہمیں جواب دے دیا کرتے تھے پس جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو ہم نے آپ کو سلام عرض کیا ، لیکن آپ نے ہمیں جواب نہ دیا ، تو ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم آپ کو دوران نماز سلام عرض کیا کرتے تھے اور آپ ہمیں جواب دیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک نماز ایک طرح کی مشغولیت (لا تعلقی ) ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
معیقیب ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، جو سجدہ کی جگہ پر مٹی درست کرتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم نے ضرور ہی کرنا ہے تو پھر ایک مرتبہ کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران نماز پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ تو اچک لینا ہے ، شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں کو دوران نماز ، دعا کے وقت اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آ جانا چاہیے ، یا ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔