طلق بن علی حنفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل اس بندے کی نماز کی طرف دیکھتا بھی نہیں جو دوران نماز رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا ۔‘‘ ضعیف ۔
نافع ؓ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے : جو شخص اپنی پیشانی زمین پر رکھے تو وہ اپنے ہاتھ بھی اسی جگہ رکھے جہاں اس نے اپنی پیشانی رکھی تھی ، پھر جب وہ (پیشانی) اٹھائے تو دونوں ہاتھوں کو بھی اٹھالے ، کیونکہ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن کی گرہ بنا کر انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
اور ایک روایت میں ہے : جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں (تشہد کے لیے) بیٹھتے تو آپ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت بلند کرتے اور اس کے ساتھ اشارہ فرماتے جبکہ بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر کھلا رکھتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشہد کے لیے بیٹھتے تو دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے گھٹنے کو لقمے کی طرح پکڑ لیتے ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے : اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو ، جبرائیل ؑ اور میکائیل ؑ پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا رخ انور ہماری طرف کر کے فرمایا :’’ تم ایسے نہ کہو : اللہ پر سلام ہو ، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے ، جب تم میں سے کوئی (تشہد کے لیے) نماز میں بیٹھے تو وہ یوں کہے :’’ (میری ساری) قولی ، بدنی ، اور مالی عبادات صرف اللہ کے لیے خاص ہیں ، اے نبی آپ پر اللہ کی رحمت ، سلامتی اور برکتیں ہوں اور ہم پر اور اللہ کے دوسرے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو ، کیونکہ جب وہ ایسے کہے گا تو یہ دعا زمین و آسمان کے ہر بندہ صالح کو پہنچ جائے گی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر وہ اپنی پسندیدہ دعا کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تشہد (اس اہتمام کے ساتھ) سکھاتے تھے جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ (میری ساری) قولی ، بدنی اور مالی عبادات اللہ کے لیے خاص ہیں ، اے نبی ! آپ پر اللہ کی رحمت ، سلامتی اور برکتیں ہوں ، اور ہم پر اور اللہ کے دوسرے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور میں نے صحیحین میں اور حمیدی میں الف لام کے بغیر ((سلام علیک)) اور ((سلام علینا)) نہیں پایا ، لیکن صاحب الجامع (ابن اثیر)نے امام ترمذی سے اسے روایت کیا ہے ۔
وائل بن حجر ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے بیان کیا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تشہد کے لیے) بیٹھے آپ نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا ، بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا ، دائیں کہنی کو دائیں ران سے اٹھا کر رکھا ، دو انگلیوں کو بند کیا اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنایا ، پھر اپنی انگشت شہادت کو اٹھایا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو حرکت دیتے اور اس کے ساتھ اشارہ کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Hadith 912
sahih
وَعَن عبد الله بن الزبير قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَزَاد أَبُو دَاوُد وَلَا يُجَاوز بَصَره إِشَارَته
Urdu
عبداللہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور آپ اس کو حرکت نہیں دیتے تھے ۔ ابوداؤد ، نسائی ، امام ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہیں جاتی تھی ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اپنی دونوں انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک کے ساتھ ، ایک کے ساتھ ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہاتھ کا سہارا لے کر بیٹھنے سے منع کیا کرتے تھے ۔ احمد ، ابوداؤد ، اور انہی کی ایک روایت میں ہے : جب آدمی نماز میں کھڑا ہو تو اسے ہاتھوں کا سہارا لے کر کھڑا ہونے سے منع فرمایا ۔ صحیح باللفظ الاول ، رواہ احمد ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے جیسے گرم سنگ ریزوں پر بیٹھے ہوں حتیٰ کہ آپ کھڑے ہو جاتے ۔ ضعیف ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس اہتمام سے) ہمیں تشہد سکھایا کرتے تھے جیسے ہمیں قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے : اللہ کے نام اور اللہ کی توفیق کے ساتھ ، (میری ساری) قولی ، بدنی اور مالی عبادات صرف اللہ کے لیے خاص ہیں ، اے نبی ! آپ پر اللہ کی رحمت ، سلامتی اور برکتیں ہوں ، اور ہم پر اور اللہ کے دوسرے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں اللہ سے جنت طلب کرتا ہوں اور آگ (جہنم) سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔
نافع ؓ بیان کرتے ہیں ، جب عبداللہ بن عمر ؓ (تشہد کے لیے) نماز میں بیٹھتے تو وہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتے ، انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نظر اس (اشارے یا انگلی) پر رکھتے ، پھر انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ یعنی انگشت شہادت شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں ، کعب بن عجرہ مجھے ملے تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک ہدیہ پیش نہ کروں جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا ، میں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور پیش فرمائیں ، انہوں نے فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم آپ کے اہل بیت پر کیسے درود بھیجیں ؟ کیونکہ اللہ نے ہمیں یہ تو سکھا دیا ہے کہ ہم آپ پر کیسے سلام بھیجیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یوں کہو ، الٰہی ، رحمت فرما محمد پر اور آل محمد پر جس طرح تو نے رحمت فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر ، بے شک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ، اے اللہ ! برکت فرما محمد پر اور آل محمد پر جس طرح تو نے برکت فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر ، بے شک تو تعریف والا بزرگی والا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ البتہ امام مسلم ؒ نے دو جگہوں پر ((علی ابراہیم)) ذکر نہیں کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابوحمید ساعدی بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول ! ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کہو ، اے اللہ ! محمد پر ، ان کی ازواج پر اور ان کی اولاد پر رحمت فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمت فرمائی ، اور محمد پر ، آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر برکت فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکت فرمائی ، بے شک تو تعریف والا بزرگی والا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا شخص روز قیامت میرے سب سے زیادہ قریب ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔