Back to Mishkat Al-Masabih

Prayer

كتاب الصلاة

Chapter 4

Hadith 884
sahih
وَعَن شَقِيق قَالَ: إِنَّ حُذَيْفَةَ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ. قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَوْ مِتَّ مِتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فطر الله مُحَمَّدًا صلى الله عَلَيْهِ وَسلم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، حذیفہ ؓ نے ایک آدمی کو نا مکمل رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا ، جب وہ نماز پڑھ چکا تو انہوں نے اسے بلایا ، حذیفہ ؓ نے اسے فرمایا : تم نے نماز نہیں پڑھی ، راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا : اگر تم (اسی طرح) فوت ہو جاتے تو تم اس فطرت و ملت پر فوت نہ ہوتے جس پر اللہ نے محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیدا فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 885
sahih
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ؟ قَالَ: لَا يتم ركوعها وَلَا سجودها . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ اپنی نماز کی چوری کیسے کرتا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ اس کا رکوع و سجود مکمل نہیں کرتا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 886
sahih
وَعَن النُّعْمَان بن مرّة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا تَرَوْنَ فِي الشَّارِبِ وَالزَّانِي وَالسَّارِقِ؟ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ فِيهِمُ الْحُدُودُ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ وَأَسْوَأُ السَّرِقَةِ الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ» . قَالُوا: وَكَيف يسرق م صَلَاتِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا يُتِمُّ ركوعها وَلَا سجودها» . رَوَاهُ مَالك وَأحمد وروى الدَّارمِيّ نَحوه
Urdu

نعمان بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم شراب نوش ، زانی اور چور کے بارے میں کیا گمان کرتے ہو ؟‘‘ راوی کہتے ہیں ، یہ ان کے بارے حدود نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ کبیرہ گناہ ہیں اور ان پر سزا ہے ، اور سب سے بڑی چوری وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ اپنی نماز کی کیسے چوری کرتا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ اس کا رکوع و سجود مکمل نہیں کرتا ۔‘‘ مالک ، احمد ، جبکہ دارمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 887
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَكْفِتَ الثِّيَاب وَلَا الشّعْر»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے ، سات اعضاء : پیشانی ، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اور پاؤں کی انگلیوں کے کناروں پر سجدہ کرنے اور (دوران نماز) کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹنے کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 888
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سجود میں اعتدال رکھو ، تم میں سے کوئی شخص اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 889
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَجَدْتَ فضع كفيك وارفع مرفقيك رَوَاهُ مُسلم
Urdu

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیاں (جائے نماز پر) اور اپنی کہنیاں (زمین سے) بلند رکھو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 890
sahih
وَعَن مَيْمُونَة قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مرت. هَذَا لفظ أبي دَاوُد كَمَا صَرَّحَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِإِسْنَادِهِ وَلِمُسْلِمٍ بِمَعْنَاهُ: قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سجد لوشاءت بهمة أَن تمر بَين يَدَيْهِ لمرت
Urdu

میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو پہلوؤں سے دور رکھتے تھے حتیٰ کہ اگر بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو وہ گزر جاتا ۔ صحیح ۔ یہ ابوداؤد کی روایت کے الفاظ ہیں ، جیسا کہ بغوی ؒ نے شرح السنہ میں اپنی سند سے بیان کیا ہے ، اور مسلم میں اسی معنی کی روایت ہے : میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو وہ گزر سکتا تھا ۔

Hadith 891
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ بن بُحَيْنَة قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاض إبطَيْهِ
Urdu

عبداللہ بن مالک بن بحینہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے مابین فاصلہ رکھتے حتیٰ کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 892
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخره وعلانيته وسره» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میرے چھوٹے ، بڑے ، پہلے ، پچھلے ، ظاہر اور پوشیدہ تمام گناہ معاف فرما دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 893
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخْطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفسك» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ایک رات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بستر پر نہ پایا تو میں نے (اپنے ہاتھ سے) آپ کو ٹٹولا تو میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوے پر لگا ، آپ نماز میں حالت سجدہ میں تھے جبکہ آپ کے پاؤں کھڑے تھے ، اور آپ دعا کر رہے تھے :’’ اے اللہ ! میں تیری رضا مندی کے ذریعے تیرے غصے سے ، تیری عافیت کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری رحمت کے ذریعے تیرے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں ، میں تیری تعریف کو شمار نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود فرمائی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 894
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ ساجد فَأَكْثرُوا الدُّعَاء» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے انتہائی قریب ہوتا ہے ، پس (سجدے کی حالت میں) زیادہ دعائیں کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 895
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ: يَا وَيْلَتِي أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب ابن آدم آیت سجدہ تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہو کر رونے لگتا ہے ، اور کہتا ہے : ہائے افسوس ! ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کر لیا تو وہ جنت کا مستحق قرار پایا ، جبکہ مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کر دیا اور جہنم میرا مقدر ٹھہری ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 896
sahih
وَعَن ربيعَة بن كَعْب قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ فَقَالَ لِي: «سَلْ» فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: «أَو غير ذَلِكَ؟» . قُلْتُ هُوَ ذَاكَ. قَالَ: «فَأَعِنِّي عَلَى نَفسك بِكَثْرَة السُّجُود» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ربیعہ بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں رات بسر کیا کرتا تھا ، میں آپ کے لیے وضو کا پانی اور آپ کی دیگر ضروریات کا انتظام کیا کرتا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا :’’ مجھ سے کوئی چیز مانگو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں آپ سے ، جنت میں آپ کے ساتھ ہونے کا سوال کرتا ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس کے علاوہ کچھ اور ؟‘‘ میں نے عرض کیا : بس یہی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پس اپنی ذات کے لیے کثرت سجود سے میری مدد کر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 897
sahih
وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقلت: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً» . قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

معدان بن طلحہ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان سے ملا تو میں نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے کر کے میں جنت میں داخل ہو جاؤں ، وہ خاموش رہے ، پھر میں نے ان سے سوال کیا ، تو وہ خاموش رہے ، پھر میں نے تیسری مرتبہ ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا :’’ تم اللہ کی رضا کی خاطر کثرت سے سجدے کرو ، کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے تو اللہ اس کے ذریعے تمہارا ایک درجہ بڑھا دے گا اور اس کے ذریعے تمہارا ایک گناہ مٹا دے گا ۔‘‘ معدان بیان کرتے ہیں ، پھر میں ابودرداء سے ملا تو میں نے ان سے بھی دریافت کیا تو انہوں نے مجھے ویسے ہی بتایا جیسے ثوبان نے مجھے بتایا تھا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 898
sahih
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
Urdu

وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے نیچے لگاتے اور جب (قیام کے لیے) کھڑے ہوتے تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھ اٹھاتے تھے ۔ ضعیف ۔

Hadith 899
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يبرك الْبَعِير وليضع يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَالدَّارِمِيُّ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَقِيلَ: هَذَا مَنْسُوخ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو وہ (ہاتھوں سے پہلے گھٹنے لگا کر) اونٹ کی طرح نہ بیٹھے ، وہ گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ نیچے لگائے ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ، دارمی ۔ ابوسلیمان خطابی نے فرمایا : وائل بن حجر ؓ سے مروی حدیث ، اس حدیث سے زیادہ درست ہے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ منسوخ ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

Hadith 900
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، میری راہنمائی فرما ، مجھے عافیت میں رکھ اور مجھے رزق عطا فرما ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 901
sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «رَبِّ اغْفِرْ لي» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ والدارمي
Urdu

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ میرے رب ! مجھے بخش دے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی و الدارمی ۔

Hadith 902
sahih
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
Urdu

عبدالرحمن بن شبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوّے کی طرح ٹھونگے مارنے ، درندے کی طرح بازو بچھانے اور اونٹ کی طرح مسجد میں اپنے لیے کوئی جگہ مخصوص کرنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔

Hadith 903
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي لَا تقع بَين السَّجْدَتَيْنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علی ! میں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے پسند کرتا ہوں اور جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے ناپسند کرتا ہوں ، سجدوں کے درمیان سرین نیچے لگا کر ، ٹانگیں کھڑی کر کے اور ہاتھ زمین پر لگا کر نہ بیٹھو ۔‘‘ ضعیف ۔