سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے تو آپ اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کر لیتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز سے شیطان کے لیے حصہ نہ بنائے او اس طرح کہ وہ سمجھے کہ (سلام پھیرنے کے بعد) صرف دائیں طرف ہی سے رخ بدلے گا ، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اکثر اپنی بائیں جانب سے پھرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم آپ کے دائیں جانب کھڑا ہونا پسند کرتے تھے ، (کیونکہ) آپ ہماری طرف چہرہ مبارک کیا کرتے تھے ۔ نیز فرمایا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے رب ! مجھے اس روز ، جب تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا ، اپنے عذاب سے بچانا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں جب خواتین فرض نماز سے سلام پھیرتیں تو وہ کھڑی ہو (کر فوراً چلی) جاتیں ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے صحابہ ، جب تک اللہ چاہتا ، بیٹھے رہتے ، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو پھر صحابہ کرام ؓ بھی کھڑے ہوتے ۔ رواہ البخاری ۔ ہم جابر بن سمرہ ؓ سے مروی حدیث ان شاء اللہ ’’ باب الضحک ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔
معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ترک نہ کرنا : میرے رب ! اپنے ذکر و شکر اور اپنی بہترین خالص عبادت کرنے پر میری مدد فرما ۔‘‘ صحیح ۔ احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، البتہ ابوداؤد نے ’’قال معاذ : وانا احبک‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((السلام علیکم و رحمۃ اللہ)) کہتے ہوئے دائیں طرف سلام پھیرتے حتیٰ کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی ، اور ((السلام علیکم و رحمۃ اللہ)) کہتے ہوئے بائیں طرف سلام پھیرتے حتیٰ کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ، ترمذی ، البتہ امام ترمذی نے ((حتیٰ یرٰی بیاض خدہ)) کا ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ۔
عطاء خراسانی ؒ مغیرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ امام اس جگہ جہاں اس نے (فرض) نماز پڑھی ہے ، (نفل) نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ جگہ بدل لے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے فرمایا : عطا خراسانی کی مغیرہ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ ضعیف ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز پر ترغیب دلائی اور آپ نے انہیں آپ کے (ان کی طرف پھرنے) سے پہلے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں دین کے معاملے میں ثابت قدمی ، رشدو ہدایت پر عزیمت ، تیری نعمت پر شکر اور تیری بہترین اور خالص عبادت کرنے کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، میں تجھ سے قلب سلیم اور زبان صادق کا سوال کرتا ہوں ، میں اس خیرو بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے ، اور ہر اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جسے تو جانتا ہے ، اور ان گناہوں سے جسے تو جانتا ہے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔‘‘ نسائی ، امام احمد نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ النسائی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز میں تشہد کے بعد یہ کہا کرتے تھے :’’ بہترین کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں اپنے چہرے کے سامنے سے ایک سلام پھیرتے پھر تھوڑا سا اپنی دائیں جانب جھک جاتے تھے ۔ ضعیف ۔
سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم امام کے سلام کا جواب دیں ، باہم محبت کریں اور ایک دوسرے کو سلام کریں ۔ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا :’’ اے اللہ ! تو سلامتی والا ہے ، تیری ہی طرف سے سلامتی ہے ، اے شان و اکرام والے ! تو بڑا ہی با برکت ہے ۔‘‘ پڑھنے تک (قبلہ رخ) بیٹھے رہتے ۔ رواہ مسلم ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین مرتبہ ’’ استغفراللہ ‘‘ کہتے اور پھر یہ کلمات پڑھتے ، ’’ اے اللہ ! تو سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے ، اے شان و اکرام والے ! تو بڑا ہی با برکت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے حمد ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اے اللہ ! جو تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک لے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا ، اور دولت مند کو (اس کی) دولت تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے یہ دعا پڑھتے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ، اسی کے لیے نعمت و فضل اور اسی کے لیے بہترین تعریف ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، ہم اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہیں ، خواہ کافر اسے نا پسند کریں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔