عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ کے کچھ فرشتے زمین پر چلتے رہتے ہیں ، وہ میری امت کی طرف سے مجھ پر سلام پہنچاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے حتیٰ کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ نہ میری قبر کو عید (زیارت گاہ) بنانا ، اور مجھ پر درود بھیجو ، کیونکہ تم جہاں بھی ہو تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے لیکن وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ، اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس رمضان آ کر چلا گیا لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے ، اور اس شخص کی ناک بھی خاک آلود ہو جس کی زندگی میں اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے لیکن (ان کی خدمت) پھر بھی اسے جنت میں داخل نہ کروا سکے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے خوش تشریف لائے تو فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا : آپ کا رب فرماتا ہے : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ بات آپ کے لیے باعث مسرت نہیں کہ جب آپ کی امت میں سے کوئی شخص ایک مرتبہ آپ پر درود بھیجے تو میں اس پر دس رحمتیں بھیجوں اور آپ کی امت میں سے جو شخص ایک مرتبہ آپ پر سلام بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الدارمی ۔
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ پر بہت زیادہ درود بھیجتا ہوں ، میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ پر درود و سلام کے لیے وقف کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جتنا تم چاہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : چوتھائی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جتنا تم چاہو ، اگر تم زیادہ کر لو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، نصف ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جتنا تم چاہو ، اگر تم زیادہ کر لو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : دو تہائی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جتنا تم چاہو ، اگر زیادہ کر لو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : میں اپنی پوری دعا آپ (پر درود و سلام) کے لیے وقف کر دیتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پھر تو تمہاری ساری مرادیں پوری ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔‘‘ ضعیف ۔
فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا ، اس نے نماز پڑھی اور دعا کی : اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نمازی شخص ! تم نے جلد بازی کی ، جب تم نماز پڑھ کر (تشہد کے لیے) بیٹھو تو اللہ کی ، اس کی شان کے لائق ، حمد بیان کرو ، مجھ پر درود بھیجو ، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر اس کے بعد ایک اور آدمی نے نماز پڑھی تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی ، نبی پر درود بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ نمازی شخص ! دعا کرو ، تمہاری دعا قبول ہو گی ۔‘‘ ترمذی ۔ ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نماز پڑھ رہا تھا ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے ، جب میں بیٹھا تو میں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا ، پھر اپنے لیے دعا کی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مانگو ! دیا جائے گا ، مانگو ! دیا جائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو پسند ہو کہ اسے پورا پورا اجر و ثواب دیا جائے تو پھر جب وہ ہم اہل بیت پر درود پڑھے تو وہ یوں کہے : اے اللہ ! محمد ، نبی اُمی پر ، آپ کی ازواج مطہرات ، مؤمنوں کی ماؤں پر ، آپ کی اولاد اور آپ کے اہل خانہ پر رحمتیں نازل فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائیں ، بے شک تو تعریف والا ، بزرگی والا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ بخیل ہے ۔‘‘ ترمذی ، امام احمد نے حسین بن علی کی سند سے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھتا ہے تو میں اسے خود سنتا ہوں ، اور جو شخص دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ مجھے پہنچا دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا : جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستر رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔ ضعیف ۔
رویفع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا اور دعا کی : اے اللہ ! روز قیامت انہیں اپنے پاس مقام محمود عطا فرما ، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔‘‘ ضعیف ۔
عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے حتیٰ کہ کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے ، آپ نے بہت طویل سجدہ کیا حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض نہ کر لی ہو ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کو دیکھنے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو فرمایا :’’ آپ کو کیا ہوا ؟‘‘ پس میں نے آپ سے وہ خدشہ بیان کر دیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل نے مجھے فرمایا : کیا میں آپ کو بشارت نہ دوں کہ اللہ عزوجل آپ سے فرماتا ہے : جو شخص آپ پر درود بھیجتا ہے تو میں اس پر رحمتیں نازل کرتا ہوں ، اور جو آپ پر سلام بھیجتا ہے تو میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب تک تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجو تو تمہاری دعا آسمان اور زمین کے درمیان موقوف رہتی ہے اور اس میں سے کوئی چیز بھی اوپر نہیں چڑھتی ۔ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں عذاب قبر اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں موت و حیات کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : آپ قرض سے اس قدر کیوں پناہ طلب کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو وہ بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے ، اور جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی تشہد سے فارغ ہو تو وہ چار چیزوں ، عذاب جہنم ، عذاب قبر ، موت و حیات کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ طلب کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں یہ دعا اس اہتمام کے ساتھ سکھایا کرتے تھے جیسے آپ انہیں قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ کہو ، اے اللہ ! میں عذاب جہنم ، عذاب قبر ، مسیح دجال کے فتنے اور موت و حیات کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کہو ، اے اللہ ! بے شک میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے ، تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ، سو اپنی جناب سے مجھے بخش دے ، اور مجھ پر رحم فرما ، بے شک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عامر بن سعد ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دائیں بائیں سلام پھیرتے ہوئے دیکھتا تھا حتیٰ کہ میں آپ کے رخسار کی سفیدی بھی دیکھتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔