فرافصہ بن عمیر حنفی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے سورۂ یوسف ، عثمان بن عفان ؓ کی قراءت سے یاد کی کہ وہ نماز فجر میں کثرت کے ساتھ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
عامر بن ربیعہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم نے عمر بن خطاب ؓ کے پیچھے نماز فجر پڑھی تو انہوں نے دونوں رکعتوں میں تجوید کے ساتھ سورۂ یوسف اور سورۂ حج تلاوت فرمائی ، ان سے پوچھا گیا کہ تب تو وہ طلوع فجر کے ساتھ ہی نماز شروع کرتے ہوں گے ، انہوں نے کہا : ہاں ! صحیح ، رواہ مالک ۔
عمرو بن شعیب ؒ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے مفصل سورتوں (یعنی الحجرات سے آخر تک) میں سے ہر چھوٹی بڑی سورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا کہ آپ فرض نمازوں کی امامت کراتے ہوئے ان کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مغرب میں سورۃ الدخان تلاوت فرمائی ۔ امام نسائی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ رکوع و سجود مکمل کیا کرو ، اللہ کی قسم ! میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
براء بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع ، آپ کے سجود ، سجدوں کے درمیان بیٹھنا (جلسہ استراحت) اور جب آپ رکوع سے کھڑے ہوتے (قومہ) تو قیام و تشہد کے علاوہ یہ سب تقریباً برابر تھے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ((سمع اللہ لمن حمدہ)) کہتے تو آپ کھڑے رہتے حتیٰ کہ ہم (دل میں) کہتے کہ آپ کو وہم ڈال دیا گیا ہے ، پھر آپ سجدہ کرتے اور آپ دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے حتیٰ کہ ہم (دل میں) کہتے کہ آپ کو وہم ڈال دیا گیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں کثرت کے ساتھ یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے ہمارے پروردگار ! تو پاک ہے ، ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں ، اے اللہ ! مجھے بخش دے ‘‘، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن پر عمل کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ (میرا رکوع و سجود اس ذات کے لیے ہے جو) فرشتوں اور جبریل ؑ کا رب نہایت پاک و مقدس ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، رہا رکوع تو اس میں رب کی عظمت بیان کرو ، اور رہے سجود تو ان میں خوب دعا کرو ، پس تمہاری دعا قبولیت کے لائق ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب امام ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہے تو تم کہو :’’ اللھم ربنا لک الحمد ‘‘ کیونکہ جس کا یہ قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓبیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو آپ یہ دعا پڑھتے :’’ اللہ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی ، اے اللہ ! ہمارے رب ! ساری تعریف تیرے ہی لیے ہے آسمانوں ، زمین اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! ہمارے رب ! ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے ، آسمانوں اور زمین اور ہر اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے اور بندے نے جو تیری تعریف اور شان بیان کی وہ تیرے ہی لائق ہے ، ہم سب تیرے ہی بندے ہیں ، اے اللہ ! جو چیز تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ، جس چیز کو تو روک لے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں ، اور دولت مند کی دولت ، تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
رفاعہ بن رافع ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا :’’ سمع اللہ لمن حمدہ ۔‘‘ آپ کے پیچھے ایک آدمی نے کہا : ہمارے رب ! تیرے ہی واسطے تعریف ہے ، بہت زیادہ پاکیزہ اور با برکت تعریف ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ ابھی بولنے والا کون تھا ؟‘‘ اس آدمی نے کہا : میں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کر رہے تھے کہ ان کا ثواب سب سے پہلے کون لکھتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تک آدمی رکوع و سجود میں اپنی کمر مکمل طور پر برابر نہیں کرتا اس کی نماز درست نہیں ہوتی ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب (فسبح باسم ربک العظیم) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو ۔‘‘ اور جب (سبح اسم ربک الاعلیٰ) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے اپنے سجدوں میں پڑھا کرو ۔‘‘ صحیح ، ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عون بن عبداللہ ؒ ابن مسعود ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی ایک رکوع کرتا ہے اور اپنے رکوع میں تین مرتبہ ((سبحان ربی العظیم)) پڑھتا ہے تو اپنا رکوع مکمل کر لیتا ہہے ، اور یہ اس کا کم از کم درجہ ہے ، اور جب وہ سجدہ کرتا ہے اور اپنے سجدوں میں تین مرتبہ ((سبحان ربی الاعلیٰ)) پڑھ لیتا ہے تو وہ اپنا سجدہ مکمل کر لیتا ہے ، اور یہ (تعداد) اس کا کم از کم درجہ ہے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، کیونکہ عون کی ابن مسعود ؓ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ ضعیف ۔
حذیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ اپنے رکوع میں ((سبحان ربی العظیم)) اور سجود میں ((سبحان ربی الاعلیٰ)) پڑھا کرتے تھے ، جب آپ کسی آیت رحمت پر پہنچے تو وقف فرما کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی آیت عذاب پر پہنچتے تو وقف فرما کر اللہ کی پناہ طلب کرتے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، اور نسائی و ابن ماجہ نے ((الاعلیٰ)) تک روایت کیا ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ۔
عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (حالت نماز میں) قیام کیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو سورۃ البقرہ کی قراءت کے برابر رکوع میں رہے اور یہ دعا کرتے رہے :’’ قہرو غلبے ، بادشاہت و کبریائی اور عظمت والا رب پاک ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
ابن جبیر ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس بن مالک ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز ، اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کے سوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو ، راوی نے کہا ، انس ؓ نے فرمایا : ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکوع و سجود کی تسبیحات کا اندازہ دس دس مرتبہ کا لگایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔