ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سے شروع کیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس حدیث کی سند قوی نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ نے (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) پڑھا تو بلند آواز سے ’’ آمین ‘‘ کہا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و ابن ماجہ ۔
ابوزہیر نمیری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو بڑی عاجزی کے ساتھ اللہ سے دعا کر رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر اس نے دعا ختم کی تو (جنت و مغفرت) واجب کر لی ۔‘‘ لوگوں میں سے کسی آدمی نے عرض کیا : وہ کس چیز کے ساتھ ختم کرے ؟ فرمایا :’’ آمین کے ساتھ ۔‘‘ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مغرب کی دو رکعتوں میں سورۂ اعراف تلاوت فرمائی ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں دوران سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی مہار تھام کر آگے آگے چلا کرتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عقبہ ! کیا میں تمہیں پڑھی جانے والی دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں ؟‘‘ آپ نے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس مجھے سکھائیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سورتوں کی وجہ سے مجھے زیادہ خوش نہ دیکھا ، پس جب آپ نماز صبح کے لیے تشریف لائے تو آپ نے نماز فجر پڑھاتے ہوئے یہی دو سورتیں تلاوت فرمائیں ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا :’’ عقبہ ! تم نے (ان سورتوں کی عظمت کو) کیسے دیکھا ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کی رات نماز مغرب میں سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص تلاوت کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
ابن ماجہ نے اسے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے جمعہ کی رات کا ذکر نہیں کیا ۔ ضعیف ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ، مغرب کے بعد دو رکعتوں میں اور فجر سے پہلے دو رکعتوں میں ، سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص اتنی مرتبہ پڑھتے ہوئے سنا کہ میں شمار نہیں کر سکتا ۔ ضعیف ۔
ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے ’’ مغرب کے بعد ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ۔
سلیمان بن یسار ؒ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں نے فلاں شخص کے سوا کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بہت مشابہ ہو ، سلیمان ؒ بیان کرتے ہیں میں نے اس (فلاں شخص) کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی اور آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھا کرتے تھے ، اور نماز عصر ہلکی پڑھا کرتے تھے جبکہ نماز مغرب میں قصار مفصل (سورۃ البینہ سے آخر تک) عشاء میں اوساط مفصل (البروج سے البینہ تک) اور فجر میں طوال مفصل (سورۃ الحجرات سے البروج تک) پڑھا کرتے تھے ۔ نسائی ، اور ابن ماجہ نے ’’ نماز عصر ہلکی پڑھا کرتے تھے ‘‘ تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نماز فجر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے ۔ آپ نے قراءت کی تو آپ پر قراءت گراں ہو گئی ، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے) فارغ ہو گئے تو فرمایا :’’ شاید کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سورۂ فاتحہ کے علاوہ قراءت نہ کیا کرو ، کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی بالمعنی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں بھی (اپنے دل میں) کہتا تھا کہ قرآن پڑھنا مجھ پر دشوار کیوں ہے ، جب میں بلند آواز سے قراءت کروں تو تم سورۂ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی جہری قراءت والی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ کیا تم میں سے کسی شخص نے ابھی ابھی میرے ساتھ قراءت کی ہے ؟‘‘ تو ایک آدمی نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں بھی (دل میں) کہتا تھا ، مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے ‘‘ روای بیان کرتے ہیں : صحابہ کرام ؓ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سنی تو وہ جہری قراءت والی نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قراءت کرنے سے رک گئے ۔ مالک ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
ابن عمر ؓ اور بیاضی ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نمازی اپنے رب سے کلام کرتا ہے ، پس اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ اس کے ساتھ کیا کلام کر رہا ہے ؟ ایک دوسرے کے پاس بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ امام تو اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، پس جب وہ اللہ اکبر کہہ چکے تو پھر تم اللہ اکبر کہو ، اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میں قرآن سے کچھ بھی یاد نہیں کر سکتا ، لہذا مجھے آپ کچھ سکھا دیں جو میرے لیے کافی ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کہو ((سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)) ’’ اللہ پاک ہے ، ہر قسم کی حمدو ستائش اسی کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اور گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ۔‘‘ اس شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو اللہ کے لیے مختص ہے ، تو میرے لیے کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کہو : ((اللھم ارحمنی و عافنی و اھدنی و ارزقنی)) ’’ اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما ، مجھے عافیت عطا فرما ، مجھے ہدایت نصیب فرما اور مجھے رزق عطا فرما ۔‘‘ پس اس شخص نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا اور انہیں بند کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے تو اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور امام نسائی ؒ کی روایت : ((الا باللہ)) تک ہے ۔ حسن ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب (سبح اسم ربک الاعلیٰ) پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :((سبحان ربی الاعلیٰ)) ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص سورۃ التین کی تلاوت کرے اور جب وہ سورت کی آخری آیات (الیس اللہ باحکم الحاکمین) پر پہنچے تو وہ کہے : ((بلیٰ : وانا علیٰ ذلک من الشاھدین ))’’ ’’ کیوں نہیں ‘‘ ایسے ہی ہے ، اور میں اس پر گواہ ہوں ۔‘‘ اور جو شخص سورۃ القیامہ کی تلاوت کرے اور آخری آیت (الیس ذلک بقادر علیٰ ان یحی الموتیٰ) ’’ کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ۔‘‘ پر پہنچے تو وہ کہے : ((بلیٰ))’’ کیوں نہیں ، وہ ضرور قادر ہے ۔‘‘ اور جو شخص المرسلات کی تلاوت کرے ، اور وہ : (فبای حدیث بعدہ یومنون) ’’ اس کے بعد وہ کس حدیث پر ایمان لائیں گے ‘‘۔ پر پہنچے تو وہ کہے : ((امنا باللہ)) ’’ ہم اللہ پر ایمان لائے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے : ((وانا علیٰ ذلک من الشاھدین)) تک روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور انہیں پوری سورۂ رحمن سنائی تو وہ خاموش رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس رات جن آئے ، میں نے جب (فبای الاء ربکما تکذبن) ’’ تم اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔‘‘ پڑھا ، تو انہوں نے بہت اچھا جواب دیا تھا ، کہا : ہمارے رب ! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کو بھی نہیں جھٹلاتے ، اور ہر قسم کی حمد تیرے لیے ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
معاذ بن جہنی ؒ بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کے ایک آدمی نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فجر کی دو رکعتوں میں سورۃ الزلزال تلاوت فرمائی ۔ میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھول کر ایسے کیا یا عمداً ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عروہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ نے نماز فجر پڑھی تو انہوں نے دونوں رکعتوں میں سورۃ البقرہ تلاوت فرمائی ۔ ضعیف ۔