فضل بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم جنگل میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عباس ؓ کی معیت میں ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے سترہ کے بغیر صحرا میں نماز ادا کی ، جبکہ ہماری گدھی اور کتیا آپ کے آگے کھیل رہی تھیں ، آپ نے اسے کوئی اہمیت نہ دی ۔ ابوداؤد ، نسائی کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ ضعیف ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی چیز نماز کو نہیں توڑتی ، پس مقدور بھر اسے روکو ، کیونکہ وہ (گزرنے والا) شیطان ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سو جایا کرتی تھی ، جبکہ میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجدہ کی جگہ پر ہوتے تھے ، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ مجھے ہاتھ سے دبا دیتے تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا دیتی ، انہوں نے بتایا : ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم میں کسی کو ، نماز میں مشغول اپنے بھائی کے آگے سے گزرنے کا گناہ معلوم ہو تو اس کے لیے سو برس کھڑے رہنا ایک قدم اٹھانے سے بہتر ہوتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
کعب احبار ؒ بیان کرتے ہیں ، اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جاتا کہ اسے اس پر کتنا گناہ ملے گا تو وہ سمجھتا کہ اسے دھنسا دیا جائے تو یہ اس کے لیے ، اس کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا ۔ اور ایک روایت میں ہے : اس پر آسان ہوتا ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کے بغیر نماز پڑھے تو گدھا ، خنزیر ، یہودی ، مجوسی اور عورت گزر کر اس کی نماز توڑ دیتے ہیں ، اور اگر وہ پتھر پھینکنے کے فاصلے کے برابر اس کے آگے سے گزر جائیں تو پھر اس کی نماز ہو جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں آیا ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کہ ایک جانب تشریف فرما تھے ، پس اس نے نماز پڑھی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سلام کا جواب دے کر فرمایا :’’ واپس جا کر نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، پس وہ گیا اور نماز دھرائی ، پھر آ کر سلام عرض کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا :’’ واپس جا کر نماز پڑھ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ پس تیسری یا چوتھی مرتبہ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے سکھا دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو تو خوب اچھی طرح وضو کرو ، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہو ، پھر جس قدر قرآن تمہیں یاد ہو پڑھو ، پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کرو ، پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو ، پھر اٹھو حتیٰ کہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ ، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو ، پھر اٹھو حتیٰ کہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ پھر اٹھو حتیٰ کہ تم اطمینان کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ ، پھر اپنی تمام (فرض و نفل) نمازوں میں ایسے ہی کیا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز اللہ اکبر سے اور قراءت ((الحمدللہ رب العالمین)) سے شروع کیا کرتے تھے ، جب آپ رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک اوپر اٹھاتے تھے نہ نیچے جھکاتے تھے ، بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان (برابر) رکھتے تھے ، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بالکل سیدھا کھڑے ہوتے اور پھر سجدہ کرتے ، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پھر اطمینان سے بیٹھ جاتے اور پھر دوسرا سجدہ کرتے ، آپ ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے ۔ آپ بائیں پاؤں کو بچھا دیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے ، آپ شیطان کی طرح بیٹھنے (سرین کے بل بیٹھ کر ٹانگیں کھڑی کر لینا اور ہاتھ زمین پر لگا دینا) سے اور درندوں کی طرح بازو بچھا کر سجدہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’ السلام علیکم و رحمۃ اللہ ‘‘ پر نماز ختم کیا کرتے تھے ۔
ابوحمید ساعدی ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر لیے ، جب آپ نے رکوع کیا تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے ، پھر اپنی کمر کو جھکایا ، جب رکوع سے سر اٹھایا تو بالکل سیدھے کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی ، جب سجدہ کیا تو آپ نے ہاتھ رکھے جو کہ بچھے ہوئے تھے نہ سمٹے ہوئے تھے اور آپ نے پاؤں کی انگلیوں کے کناروں کو قبلہ کی طرف کیا تھا ، جب آپ دو رکعتوں میں بیٹھے تو آپ اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا ، اور جب آخری رکعت میں بیٹھے تو بائیں پاؤں کو آگے بڑھا کر سرین پر بیٹھ گئے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے ، رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کیا کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رکوع سے اٹھتے وقت) فرماتے :’’ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی ، ہمارے رب تمام حمدو ستائش تیرے ہی لیے ہے ۔‘‘ اور آپ سجدوں کے مابین یہ (رفع الیدین) نہیں کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
نافع ؒ سے روایت ہے کہ جب ابن عمر ؓ نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے اور ہاتھ اٹھاتے تھے ، جب رکوع کرتے تو ہاتھ اٹھاتے ، جب ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو ہاتھ اٹھاتے تھے ۔ جبکہ ابن عمر ؓ نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوع روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ اکبر کہتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ وہ انہیں کانوں کے برابر لے آتے ، جب رکوع سے سر اٹھاتے اور ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ، اور ایک دوسری روایت میں : حتیٰ کہ وہ انہیں کانوں کی لو کے برابر کر لیتے ۔ متفق علیہ ۔
مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، جب آپ نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اطمینان سے بیٹھ جاتے اور پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے ۔ رواہ البخاری ۔
Hadith 797
sahih
وَعَن وَائِل بن حجرأنه رأى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم رفع يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ من الثَّوْب ثمَّ رفعهما ثمَّ كبر فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز شروع کی تو ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہا ، پھر اپنا کپڑا لپیٹ لیا ، پھر دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو کپڑے سے ہاتھ نکالے ، رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا ، پھر رکوع کیا ، جب ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہا تو رفع الیدین کیا ، اور جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Hadith 798
sahih
وَعَن سهل بن سعد قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ ہر آدمی دوران نماز اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ فرماتے ، پھر آپ حالت قیام میں ’’ ربنا لک الحمد ‘‘ پڑھتے ، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر نماز مکمل ہونے تک اسی طرح کرتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابوحمید ساعدی ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس صحابہ کی موجودگی میں فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : بیان کرو ! انہوں نے فرمایا : جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کا ارادہ فرماتے تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر قراءت کرتے ، پھر اللہ اکبر کہہ کر کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے ، پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ دیتے ، پھر برابر ہو جاتے ، آپ سر کو جھکاتے نہ بلند کرتے ، پھر سر اٹھاتے تو ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتے ، پھر کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے اور اطمینان کے ساتھ برابر کھڑے ہو جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کے لیے زمین کی طرف جھک جاتے ، آپ اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے ، پاؤں کی انگلیاں کھولتے ، پھر سر اٹھاتے ، بائیں پاؤں کو موڑتے اور اس پر بیٹھ جاتے ، اور اس قدر اطمینان سے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی ، اور اطمینان سے بیٹھے رہتے ، پھر سجدہ کرتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے اٹھتے ، بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھ جاتے ، اور اس قدر اطمینان سے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی ، پھر کھڑے ہوتے ، پھر دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے ، پھر جب دوسری رکعت کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ، حتیٰ کہ جب آخری سجدہ ہوتا جس کے بعد سلام پھیرنا ہوتا تو آپ اپنا بایاں پاؤں باہر نکال لیا کرتے اور بائیں سرین پر بیٹھ جاتے ، اور پھر سلام پھیرتے ، انہوں (دس صحابہ کرام ؓ) نے فرمایا : آپ نے درست کہا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی نماز پڑھا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، دارمی ، جبکہ ترمذی ، اور ابن ماجہ نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ابوداؤد میں ابوحمید سے مروی حدیث میں ہے : پھر آپ نے رکوع کیا تو ہاتھ گھٹنوں پر رکھے گویا آپ نے انہیں پکڑا ہوا ہے ، آپ نے ہاتھوں کو کمان کے چلّے کی طرح کر دیا اور انہیں پہلوؤں سے دور رکھا ، اور انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر سجدہ کیا تو ناک اور پیشانی کو زمین پر رکھا ، ہاتھوں کو پہلوؤں سے دور رکھا ، اور ہتھیلیوں کو کندھوں کے برابر رکھا ، اور رانوں کو کشادہ رکھا اور پیٹ کا کوئی حصہ ان کے ساتھ لگنے نہ دیا ، حتیٰ کہ (سجدہ سے) فارغ ہو گئے ، پھر بیٹھ گئے تو بائیں پاؤں کوبچھا دیا اور دائیں پاؤں کے پنجے کو قبلہ رخ کر لیا ، دائیں ہاتھ کو دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ دیا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔ ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے : جب آپ دو رکعتوں کے بعد بیٹھے تو آپ بائیں پاؤں پر بیٹھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا ، اور جب چوتھی رکعت کے بعد بیٹھے تو آپ نے بائیں سرین کو زمین کے ساتھ ملا دیا (یعنی بائیں سرین پر بیٹھے) اور دونوں پاؤں ایک ہی طرف نکال دیے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی و الترمذی و ابن ماجہ ۔
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا اور انگوٹھوں کو کانوں کے برابر کیا پھر اللہ اکبر کہا ۔ اور ابودؤد ہی کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انگوٹھوں کو کانوں کی لو تک اٹھایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
قبیصہ بن ہلب ؒ اپنے والد (ھُلب ؓ) سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو آپ دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑ لیتے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔