عثمان بن مظعون ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمیں خصی ہونے کی اجازت عطا فرمائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے کسی کو خصی کیا یا اپنے آپ کو خصی کیا تو وہ ہم میں سے نہیں ، کیونکہ میری امت کا خصی ہونا ، روزہ رکھنا ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہمیں سیاحت کی اجازت مرحمت فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کی سیاحت ، جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز کے انتظار میں مساجد میں بیٹھنا میری امت کی رہبانیت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عبدالرحمن بن عائش ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے (خواب میں) اپنے رب عزوجل کو بہترین صورت میں دیکھا ، اس نے فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : تو بہتر جانتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی ، اور میں نے زمین و آسمان کی ہر چیز جان لی ۔‘‘ اور پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہت دکھائی تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں سے ہو جائیں ۔‘‘ دارمی نے مرسل روایت کیا ، اور ترمذی میں بھی انہیں سے اسی کی مثل ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی و الترمذی ۔
ابن عباس ؓ اور معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے :’’ اللہ نے فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ جانتے ہیں کہ مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں گناہ ختم کرنے والے اعمال کے بارے میں (بحث کر رہے ہیں) اور گناہ ختم کرنے والے اعمال یہ ہیں : نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھے رہنا ، با جماعت نماز پڑھنے کے لیے پیدل چل کر جانا ، اور ناگواری کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کرنا ، پس جو یہ کرے گا وہ بہتر زندگی بسر کرے گا اور اس کی موت بھی اچھی ہو گی ، اور وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہو ، اور فرمایا : محمد ! جب آپ نماز سے فارغ ہو جائیں تو یہ دعا کیا کرو : اے اللہ ! میں تجھ سے نیک کام بجا لانے ، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش و فتنے سے دوچار کرنے کا ارادہ فرمائے تو مجھے اس سے دو چار کیے بغیر اپنی طرف اٹھا لینا ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلندی درجات والے اعمال یہ ہیں : سلام عام کرنا ، کھانا کھلانا اور جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز تہجد پڑھنا ۔‘‘ اور اس حدیث کے الفاظ جیسا کہ مصابیح میں ہیں ، میں نے عبدالرحمن کی سند سے شرح السنہ میں پائے ہیں ۔ حسن ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین آدمیوں کی مکمل حفاظت کرنا اللہ کے ذمہ ہے ، وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے روانہ ہو تو وہ اللہ کی حفاظت میں ہے حتیٰ کہ اللہ اسے فوت کر کے جنت میں داخل فرما دے ، یا اسے حاصل ہونے والے اجر یا مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹا دے ۔ وہ آدمی جو مسجد کی طرف جائے تو وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہے اور وہ آدمی جو اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرتا ہے وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص با وضو ہو کر فرض نماز کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوتا ہے تو اس کا اجر احرام باندھ کر حج کے لیے روانہ ہونے والے کے اجر کی طرح ہے ، اور جو شخص صرف نماز چاشت کے لیے روانہ ہوتا ہے اس کے لیے عمرہ کرنے والے کی مثل اجر ہے ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح پڑھنا کہ ان کے درمیان کوئی لغو بات نہ ہو اس کا عمل علیین میں لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزرو تو کچھ کھا پی لیا کرو ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! جنت کے باغات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ مساجد ۔‘‘ پوچھا گیا اللہ کے رسول ! خوردو نوش سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ((سبحان اللہ ، و الحمدللہ ، ولا الہ الا اللہ ، و اللہ اکبر))’’ اللہ پاک ہے ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جس چیز کے لیے مسجد میں جاتا ہے وہی اس کا نصیب ہو گی ، (جو اسے آخرت میں ملے گی) ۔‘‘ ضعیف ۔
فاطمہ بنت حسین ؒ اپنی دادی فاطمہ کبریٰ ؓ سے روایت کرتی ہیں ، انہوں نے فرمایا : جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام ہو ، اور فرماتے : میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب آپ مسجد سے باہر نکلتے تو فرماتے : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام ہو ۔ اور فرماتے :’’ میرے رب ! میرے گناہ بخش دے ، اور میرے لیے فضل کے دروازے کھول دے ۔ ترمذی ، احمد ، ابن ماجہ اور ان دونوں کی روایت میں ہے ، انہوں نے فرمایا : جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے اور اسی طرح جب آپ باہر تشریف لاتے تو ’’ محمد پر صلاۃ وسلام ہو ‘‘ کے بجائے :’’ اللہ کے نام سے ، اور رسول اللہ پر سلام ہو ۔‘‘ کے الفاظ پڑھتے تھے ۔ امام ترمذی نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، فاطمہ بنت حسین ؒ کی فاطمہ کبریٰ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ ضعیف ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں شعر گوئی ، خرید و فروخت اور جمعہ کے روز نماز سے پہلے مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو : اللہ تیری تجارت کو نفع مند نہ بنائے ، اور جب تم کسی شخص کو اس میں گم شدہ جانور کا اعلان کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو : اللہ کرے وہ چیز تمہیں نہ ملے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں قصاص کا مطالبہ کرنے ، اشعار پڑھنے اور حدود قائم کرنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔
مصابیح میں جابر ؓ سے مروی ہے ۔ ضعیف ۔
معاویہ بن قرہ ؒ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو پودوں یعنی پیاز اور لہسن سے منع کیا اور فرمایا :’’ جو انہیں کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ اگر تم نے انہیں ضروری کھانا ہے تو پھر پکا کر ان کی بو زائل کر دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قبرستان اور حمام کے علاوہ ساری زمین مسجد ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و الدارمی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات جگہوں ، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ، ذبح خانہ ، قبرستان ، شارع عام ، حمام ، اونٹوں کے باڑے اور بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ ضعیف ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی یہودی عالم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا : کون سا قطعہ زمین بہتر ہے ؟ آپ خاموش ہو گئے اور فرمایا :’’ میں جبریل ؑ کے آنے تک خاموش رہوں گا ۔‘‘ آپ خاموش رہے اور جبریل ؑ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : اس بارے میں مسٔول ، سائل سے زیادہ نہیں جانتا ، لیکن میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے دریافت کروں گا ، پھر جبریل ؑ نے فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اللہ کے اتنا قریب ہوا کہ میں اس سے پہلے کبھی اتنا قریب نہیں ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا :’’ جبریل ! وہ (قریب ہونا) کیسے تھا ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : میرے اور اس کے مابین نور کے ستر ہزار پردے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بدترین مقامات بازار اور بہترین مقامات مساجد ہیں ۔‘‘ لا اصل لہ بھذا اللفظ ، لم اجدہ عن ابی امامہ ؓ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میری اس مسجد میں محض کوئی خیرو بھلائی سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے آئے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مقام و مرتبہ پر ہے ، اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور غرض سے آئے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی کے مال پر نظر رکھتا ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ ان کی مساجد میں ان کی گفتگو کا موضوع ان کے دنیوی امور ہوں گے ۔ پس تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو ، اللہ کو ان کی کوئی حاجت نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔