سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد میں سویا ہوا تھا تو کسی آدمی نے مجھے کنکری ماری ، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب ؓ تھے ۔ انہوں نے فرمایا : جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ ، میں انہیں ان کے پاس لے آیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم کس قبیلے سے ہو اور کہاں سے ہو ؟ انہوں نے کہا : اہل طائف سے ، عمر ؓ نے فرمایا : اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا ، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو ۔ رواہ البخاری ۔
امام مالک ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مسجد کے کونے میں بطیحاء نامی ایک صحن تیار کیا اور فرمایا : جو شخص فضول باتیں کرنا چاہے ، یا شعر پڑھنا چاہے یا اپنی آواز بلند کرنا چاہے تو وہ اس صحن کی طرف چلا جائے ۔ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ (کی طرف دیوار ) میں تھوک دیکھا تو یہ آپ پر اس قدر شاق گزرا کہ اس کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہو گئے ۔ پس آپ کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اسے صاف کیا ، پھر فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ، کیونکہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے مابین ہوتا ہے ، پس تم میں سے کوئی اپنے قبلہ کی طرف نہ تھوکے ، بلکہ اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا پھر اس میں تھوکا اور اس (کپڑے) کو ایک دوسرے کے ساتھ مل دیا اور فرمایا :’’ یا پھر وہ اس طرح کر لے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
سائب بن خلاد ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : کسی آدمی نے کچھ لوگوں کی امامت کرائی تو اس نے قبلہ رخ تھوک دیا ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی قوم سے فرمایا :’’ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے ۔‘‘ پھر اس کے بعد اس نے نماز پڑھانا چاہی تو انہوں نے اسے روک دیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے آگاہ کیا اس شخص نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں (میں نے روکا ہے) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز فجر پڑھانے کے لیے تشریف نہ لائے ، قریب تھا کہ ہم سورج طلوع ہونے کا مشاہدہ کر لیتے ، پھر آپ بہت تیزی سے تشریف لائے چنانچہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھائی ، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو با آواز بلند فرمایا :’’ اپنی جگہوں پر ایسے ہی بیٹھے رہو ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ میں ابھی تمہیں بتاتا ہوں کہ میں تمہیں نماز پڑھانے کے لیے کیوں نہیں آیا ، میں رات کو بیدار ہوا ، وضو کیا اور جس قدر مقدر میں تھا میں نے نماز پڑھی ، مجھے نماز میں اونگھ آنے لگی حتیٰ کہ وہ مجھ پر غالب آ گئی ، تب میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو بہترین صورت میں دیکھا چنانچہ اس نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا : میرے رب ! حاضر ہوں ، فرمایا : فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کی انگلیوں کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی ، اور میرے سامنے ہر چیز واضح ہو گئی اور میں نے پہچان لی ، پھر رب تعالیٰ نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا ، میرے رب ! میں حاضر ہوں ، فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، گناہ مٹا دینے والے اعمال کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : با جماعت نماز پڑھنے لے لیے چل کر جانا ، نماز کے بعد مساجد میں بیٹھے رہنا ، ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا ، فرمایا : پھر وہ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : درجات کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : کھانا کھلانا ، نرمی سے بات کرنا اور جب لوگ سو رہے ہوں نماز (تہجد) پڑھنا ۔ فرمایا : کچھ مانگ لیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے عرض کیا : اے اللہ ! تجھ سے نیک اعمال بجا لانے ، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں ، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، اور جب تو کسی قوم کو فتنے سے دوچار کرنا چاہے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا ، میں تجھ سے ، تیری محبت ، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ (خواب) حق ہے ، پس اسے یاد کرو اور پھر اسے دوسروں کو بتاؤ ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاریؒ) سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا کیا کرتے :’’ میں شیطان مردود سے اللہ عظیم ، اس کی ذات کریم اور اس کی قدیم بادشاہت و قدرت کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پس جب کوئی شخص یہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے ، یہ اب سارا دن مجھ سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ صحیح ، ابوداؤد ۔
عطا بن یسار ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے ، اللہ ان لوگوں پر سخت ناراض ہو جنہوں نے انبیا علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔‘‘ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغات میں (نفل) نماز پڑھنا پسند فرمایا کرتے تھے ۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف حسن بن ابی جعفر کے واسطہ سے جانتے ہیں ، جبکہ یحیی بن سعید وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کی اپنے گھر میں پڑھی ہوئی نماز (ثواب کے لحاظ سے) ایک نماز ہے ، اس کی اس مسجد میں نماز ، جس میں مختلف قبیلے نماز پڑھتے ہیں ، پچیس نمازوں کی طرح ہے ، اور جس مسجد میں جمعہ ہوتا ہو ، اس میں اس کی نماز پانچ سو نمازوں کی طرح ہے ، مسجد اقصیٰ میں اس کی نماز پچاس ہزار نمازوں کی طرح ہے ، اس کی میری مسجد میں پڑھی گئی نماز پچاس ہزار نمازوں کی طرح ہے اور مسجد حرام میں اس کی نماز ایک لاکھ نمازوں کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسجد حرام ۔‘‘ راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، پھر کون سی مسجد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسجد اقصیٰ ۔‘‘ میں نے عرض کیا : ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا وقفہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چالیس سال ، پھر ساری زمین تیرے لیے مسجد ہے ، جہاں نماز کا وقت ہو جائے نماز پڑھ لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمر بن ابی سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ام سلمہ ؓ کے گھر ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ، آپ نے اس کپڑے کے دو کنارے اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کوئی چیز نہ ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کے دونوں کناروں کو ایک دوسرے کے مخالف سمت کر لے (دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر)۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ نے ایک منقش چادر میں نماز پڑھی ، آپ نے اس کے نقش و نگار کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ میری یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور ابو جہم کی نقش و نگار کے بغیر چادر لے آؤ ، اس نے تو میری نماز میں خلل ڈال دیا تھا ۔‘‘ بخاری ، مسلم اور بخاری کی ایک روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں اس کے نقش و نگار دیکھ رہا تھا جبکہ میں نماز میں تھا ، مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ مجھے کسی فتنے کا شکار نہ کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں، عائشہ ؓ کے پاس ایک پردہ تھا جس کے ساتھ انہوں نے اپنے گھر کی ایک جانب کو ڈھانپ رکھا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ اپنے اس پردے کو ہم سے دور کر دیں ، کیونکہ اس کی تصاویر میری نماز میں مسلسل میرے سامنے آتی رہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک ریشمی کوٹ تحفہ میں دیا گیا تو آپ نے اسے پہن کر نماز پڑھی ، پھر نماز سے فارغ ہو کر سخت نا پسندیدگی کے عالم میں اسے اتار دیا اور فرمایا :’’ یہ متقی لوگوں کے شایان شان نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں شکاری آدمی ہوں ، کیا میں ایک قمیض میں نماز پڑھ لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، بٹن بند کر کے ، خواہ کانٹوں کو ہی بطور بٹن استعمال کر لو ۔‘‘ ابوداؤد ۔ امام نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اپنا تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ جاؤ وضو کرو ۔‘‘ وہ گیا اور وضو کر کے پھر حاضر ہوا تو کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں فرمایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ اپنا تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا ، جبکہ اللہ تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی بالغہ عورت کی ننگے سر نماز قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا ، کیا عورت تہبند کے بغیر صرف قمیض اور دوپٹے میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، جب قمیض اس قدر کامل اور کشادہ ہو کہ وہ اس کے پاؤں ڈھانپتی ہو ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے راویوں کی ایک جماعت کا ذکر کیا جنہوں نے اس حدیث کو ام سلمہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔