ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت سفر سے (مدینہ) واپس آیا کرتے تھے ، جب آپ واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے پھر وہاں بیٹھ جاتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ، کسی آدمی کو گمشدہ جانور (یا کوئی بھی چیز ) کے متعلق مسجد میں اعلان کرتے سنے ، تو وہ شخص کہے : اللہ تمہاری وہ چیز تمہیں واپس نہ لوٹائے ، کیونکہ مسجدیں اس لیے تو نہیں بنائی گئیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس بدبودار پودے (پیاز ، لہسن وغیرہ) سے کچھ کھا لے تو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے ، کیونکہ فرشتے اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں ، جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کے اچھے برے تمام اعمال مجھ پر پیش کیے گئے ، میں نے ، راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا ، اس کے محاسن اعمال میں پایا ، اور وہ تھوک جو مسجد میں ہو اور اسے صاف نہ کیا جائے تو میں نے اسے اس کے برے اعمال میں پایا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکے ، کیونکہ وہ جب تک نماز میں ہوتا ہے اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ، اور وہ اپنی دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کے دائیں جانب فرشتہ ہے ، اور (اگر ضرورت ہو تو ) اپنی بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے اور اسے دفن کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس مرض کے دوران ، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحت یاب نہ ہو سکے ، فرمایا :’’ اللہ یہودو نصاریٰ پر لعنت فرمائے ، انہوں نے اپنے انبیا علیم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سن لو ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیا علیہم السلام اور اپنے صالح افراد کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا ، بے شک میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی (نفل) نماز اپنے گھروں میں پڑھا کرو ، انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے تو ہم نے آپ کی بیعت کی ، آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ کو بتایا ہمارے ملک میں ہمارا ایک گرجا ہے ، آپ ہمیں اپنے وضو سے بچا ہوا پانی عنایت فرما دیں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگایا ، وضو کیا اور کلی کی ، پھر اسے ہمارے لیے ایک برتن میں ڈال دیا ، اور ہمیں جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا :’’ جب تم اپنی سر زمین پر پہنچو تو اپنے گرجے کو توڑ دو ، اس جگہ پر یہ پانی چھڑکو اور وہاں مسجد بناؤ ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : ہمارا ملک دور ہے جبکہ گرمی شدید ہے ، اس لیے یہ پانی تو خشک ہو جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس میں اور پانی ملا لینا کیونکہ اس سے اس کی برکت مزید بڑھ جائے گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محلوں میں مسجد بنانے اور انہیں پاک صاف رکھنے کا حکم فرمایا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے مساجد کو چونا گچ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : تم انہیں اس طرح مزین کرو گے جیسے یہودو نصاریٰ نے مزین کیا ۔ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ علامات قیامت میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ لوگ مساجد کے بارے میں باہم فخر کریں گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کے اعمال کا ثواب مجھ پر پیش کیا گیا ، حتیٰ کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے (اس کا ثواب بھی لکھا ہوا تھا) ، اور میری امت کے گناہ بھی مجھ پر پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی آدمی کو قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت عطا کی گئی اور اس نے (یاد کرنے کے بعد) اسے بھلا دیا ۔‘‘ ضعیف ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اندھیرے میں چل کر مسجد کی طرف آنے والوں کو روز قیامت مکمل نور کی خوشخبری سنا دو ۔‘‘ صحیح ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس آدمی کو مسجد کی آبادی کے لیے کوشاں دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ اللہ کی مسجدوں کو صرف وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔