ابومحذورہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
ابومحذورہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے اذان کا طریقہ سکھا دیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیر کر فرمایا :’’ کہو : اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اپنی آواز بلند کرو ، پھر کہو : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، یہ کلمات کہتے ہوئے آواز پست رکھو ، پھر یہ کہتے ہوئے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اپنی آواز بلند کرو ، نماز کی طرف آؤ ، نماز کی طرف آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ ، اگر نماز فجر ہو تو کہو : نماز نیند سے بہتر ہے ، نماز نیند سے بہتر ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
بلال ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ نماز فجر (کی اذان ) کے علاوہ کسی نماز (کی اذان) میں ((الصلوٰۃ خیر من النوم)) نہ کہنا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : ابواسرائیل راوی محدثین کے نزدیک قوی نہیں ۔ ضعیف ۔
جابر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال ؓ سے فرمایا :’’ جب تم اذان کہو تو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ کہو ، اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو ، اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ رکھو کہ کھانا کھانے والا شخص اپنے کھانے سے ، پینے والا شخص اپنے مشروب سے جبکہ قضائے حاجت کے لیے جانے والا شخص اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے ، اور جب تک مجھے دیکھ نہ لو نماز کے لیے کھڑے نہ ہوا کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : ہم اسے صرف عبدالمنعم کی حدیث سے پہچانتے ہیں ، اور اس کی اسناد مجہول ہے ۔ ضعیف ۔
زیاد بن حارث صُدائی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اذان دینے کا حکم فرمایا تو میں نے اذان دی ، تو بلال ؓ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صُداء قبیلے کے شخص نے اذان دی ہے ، اور جو اذان دے وہی اقامت کہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب مسلمان مدینہ تشریف لائے تو وہ اکٹھے جاتے اور نماز کے وقت کا اندازہ لگاتے جبکہ نماز کے لیے کوئی منادی نہیں کرتا تھا ، ایک روز انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، تو ان میں سے کسی نے کہا : نصاریٰ جیسا ناقوس بنا لو اور کسی نے کہا کہ یہود کے سینگ جیسا کوئی سینگ بنا لو ، عمر ؓ نے فرمایا : تم کسی آدمی کو کیوں نہیں بھیج دیتے کہ وہ نماز کے لیے منادی کرے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلال ! اٹھو اور نماز کے لیے آواز دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن زید بن عبدربہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز کے لیے جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم فرمایا تو میں نے خواب میں ایک شخص کو ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے دیکھا ، میں نے کہا : اللہ کے بندے ! کیا تم ناقوس بیچتے ہو ؟ اس نے کہا تم اسے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : ہم اس کے ذریعے نماز کے لیے بلائیں گے ، اس نے کہا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور بتاؤ ، راوی بیان کرتے ہیں ، اس نے کہا : تم اللہ اکبر سے آخر اذان تک کہو ، اور اسی طرح اقامت ، پس جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں اپنا خواب سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان شاءاللہ یہ سچا خواب ہے ، آپ بلال کے ساتھ کھڑے ہوں اور آپ نے جو دیکھا ہے وہ بلال کو سکھا دو ، وہ ان کلمات کے ساتھ اذان دے ، کیونکہ اس کی آواز آپ سے زیادہ بلند ہے ۔‘‘ چنانچہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو کر انہیں اذان کے کلمات سکھاتا رہا اور وہ ان کے ساتھ اذان دیتے رہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے اپنے گھر میں اذان کی آواز سنی تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، جو کچھ انہیں دکھایا گیا ہے بالکل وہی کچھ میں نے دیکھا ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا شکر ہے ۔‘‘ حسن ۔ ابوداؤد ، دارمی ، ابن ماجہ ، البتہ انہوں نے اقامت کا ذکر نہیں کیا ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ، لیکن انہوں نے واقعہ ناقوس کی صراحت نہیں کی ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نماز فجر کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا تو آپ جس آدمی کے پاس سے گزرتے تو اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا اپنے پاؤں کے ساتھ اسے ہلا دیتے ۔ ضعیف ۔
مالک ؒ سے روایت ہے کہ انہیں پتہ چلا کہ مؤذن عمر ؓ کو نماز فجر کی اطلاع کرنے آیا تو اس نے انہیں سویا ہوا دیکھ کر کہا :’’ نماز نیند سے بہتر ہے ۔‘‘ عمر ؓ نے اسے حکم فرمایا کہ ان کلمات کو صبح کی اذان میں شامل کر لو ۔ ضعیف ۔
عبدالرحمن بن سعد بن عمار بن سعد ؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اپنے والد سے اور اس نے سعد بن عمار کے دادا سعد بن عائذ جو کہ مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے کے حوالے سے حدیث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال ؓ کو کانوں میں انگلیاں داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :’’ اس سے تمہاری آواز زیادہ بلند ہو جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قیامت کے دن ، مؤذن حضرات کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اذان کی آواز نہیں سنتا ، پس جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو وہ واپس آ جاتا ہے ، اور پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، اور پھر جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو وہ واپس آ جاتا ہے ، اور وہ آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے ، اور کہتا ہے : فلاں چیز یاد کر ، فلاں چیز یاد کر ، ایسی باتیں یاد کراتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں حتیٰ کہ آدمی کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مؤذن کی آواز کو جن و انس اور جو دوسری چیزیں سنتی ہیں وہ (سب) قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دیں گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود پڑھو ، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر تم اللہ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو ، کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے ، جو اللہ کے صرف ایک بندے کے شایان شان ہے ، میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب مؤذن کہتا ہے ، اللہ اکبر ’’اللہ سب سے بڑا ہے‘‘، اور تم میں سے بھی کوئی خلوص قلب سے اللہ اکبر کہتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور وہ شخص بھی یہی کلمات کہتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور وہ شخص بھی یہی کلمات کہتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : نماز کی طرف آؤ ، تو وہ شخص کہتا ہے: ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ))’’ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی تو فیق سے ہے ‘‘۔ پھر وہ کہتا ہے : کامیابی کی طرف آؤ ، تو وہ شخص کہتا ہے : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ))، پھر وہ کہتا ہے ، اللہ اکبر ، تو وہ شخص بھی اللہ اکبر کہتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : لا الہ الا اللہ ، تو وہ شخص بھی کہتا ہے : ((لا الہ الا اللہ)) اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ‘‘۔ تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اذان سن کر یہ دعا پڑھے : اے اللہ ! اس دعوت کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب ! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسیلہ و فضیلت عطا فرما ، اور انہیں مقام محمود پر فائز فرمایا ، جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے ، تو اس کے لیے روز قیامت میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب فجر طلوع ہو جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حملہ کیا کرتے تھے ، اور آپ بڑے غور سے اذان سننے کی کوشش کرتے ، اگر آپ اذان سن لیتے تو حملہ نہ کرتے ورنہ حملہ کر دیتے ، ایک مرتبہ آپ نے کسی شخص کو ’’ اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، کہتے ہوئے سنا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ شخص فطرت (دین) پر ہے ۔‘‘ پھر اس شخص نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم جہنم سے آزاد ہو گئے ۔‘‘ پس صحابہ نے اسے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اذان سن کر یہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں اللہ کے رب ہونے ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں ، تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان (نفل) نماز ہے ، ہر دو اذانوں کے مابین نماز ہے ، پھر تیسری مرتبہ فرمایا :’’ اس شخص کے لیے جو پڑھنا چاہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ امام (نماز کا) نگہبان ہے جبکہ مؤذن (اوقات نماز کا) امانت دار ہے ، اے اللہ ! اماموں کی راہنمائی فرما اور اذان دینے والوں کی مغفرت فرما ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، شافعی ، اور امام شافعی کی دوسری روایت مصابیح کے الفاظ سے مروی ہے ۔ حسن ۔