ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حالت نیند میں (نماز میں تاخیر ہو جانے پر) کوئی تقصیر و گناہ نہیں ، تقصیر تو محض حالت بیداری میں (نماز مؤخر کرنے میں) ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا وہ اس وقت سو جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے ۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھا کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ علی ! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا ، ایک نماز جب اس کا وقت آ جائے ، جنازہ جب تیار ہو جائے اور بیوہ ، مطلقہ اور کنواری خاتون (کے نکاح میں) جب تمہیں اس کا کفو مل جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اول وقت نماز پڑھنا اللہ کی رضا مندی اور آخر وقت اللہ کے عفو درگزر کا باعث ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ام فروہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل عمل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اول وقت میں نماز ادا کرنا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ۔ صحیح ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث صرف عبداللہ (بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب مدنی) سے مروی ہے ، اور وہ محدثین کے ہاں قوی نہیں ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی پر رہے گی ۔‘‘ یا فرمایا :’’ فطرت پر رہے گی ، جب تک وہ ستارے ظاہر ہونے سے پہلے نماز مغرب پڑھتی رہے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ، نماز عشاءکو تہائی رات یا نصف شب تک مؤخر کرنے کا حکم فرماتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس نماز (یعنی عشاء ) کو دیر سے پڑھو ، کیونکہ اس کی وجہ سے تمہیں دیگر امتوں پر فضیلت دی گئی ہے ، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اس نماز یعنی نماز عشاءکے وقت کے بارے میں خوب جانتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے وقت اسے پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز فجر ، روشن ہو جانے پر پڑھو کیونکہ وہ زیادہ باعث اجر ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، نسائی میں یہ الفاظ نہیں :’’ کہ وہ زیادہ باعث اجر ہے ۔‘‘ صحیح ۔
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عصر ادا کرتے ، پھر اونٹ نحر کیا جاتا ، اس کے دس حصے کیے جاتے ، پھر اسے پکایا جاتا تو ہم غروب آفتاب سے پہلے پکا ہوا گوشت کھا لیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے ، پس آپ تہائی رات گزر جانے یا اس کے بعد تشریف لائے ، ہم نہیں جانتے کہ کسی کام نے آپ کو اپنے اہل خانہ میں مصروف رکھا یا اس کے علاوہ کوئی کام تھا ، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے حجرہ سے) باہر تشریف لائے تو فرمایا :’’ تم نماز کا انتظار کر رہے ہو ، تمہارے علاوہ کوئی اہل دین اس کا انتظار نہیں کر رہا ، اگر امت کے لیے گراں نہ ہوتا میں انہیں اسی وقت پڑھاتا ۔‘‘ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ رواہ مسلم ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری نمازوں کے اوقات کے مطابق ہی نمازیں پڑھا کرتے تھے ، لیکن آپ نماز عشاء تمہاری نماز سے کچھ تاخیر سے پڑھا کرتے تھے ، اور آپ نماز ہلکی پڑھایا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھنے کا ارادہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقریباً نصف شب گزر جانے کے بعد تشریف لائے تو فرمایا :’’ اپنی جگہ پر بیٹھے رہو ۔‘‘ چنانچہ ہم اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ، اور جب کہ تم اس وقت تک نماز ہی میں رہو گے جب تک تم نماز کے انتظار میں رہو گے اور اگر ضعیف کے ضعف ، بیمار کی بیماری کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف شب تک مؤخر کرتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نماز ظہر جلد پڑھنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے زیادہ سخت تھے اور نماز عصر جلدی پڑھنے میں تم ان سے زیادہ سخت ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ گرمی ہوتی تو آپ نماز (ظہر) دیر سے پڑھتے اور جب سردی ہوتی تو جلدی فرماتے تھے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ میرے بعد تمہارے کچھ ایسے امراء ہوں گے کہ چند چیزیں انہیں وقت پر نماز پڑھنے سے غافل کر دیں گی حتیٰ کہ اس کا وقت گزر جائے گا چنانچہ (جب یہ صورت حال ہو تو) تم نمازیں وقت پر ادا کرنا ۔‘‘ کسی شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں ان کے ساتھ بھی پڑھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
قبیصہ بن وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے بعد تمہارے کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو نمازیں دیر سے پڑھیں گے ، چنانچہ وہ تمہارے لیے باعث ثواب اور ان کے لیے موجب گناہ ہونگی ، پس جب تک وہ قبلہ رخ نمازیں پڑھتے رہیں تو تم ان کے ساتھ نماز پڑھو ۔‘‘ ضعیف ۔
عبیداللہ بن عدی بن خیار ؓ سے روایت ہے کہ وہ عثمان ؓ کے پاس گئے جبکہ وہ محصور تھے ، تو انہوں نے کہا : آپ امیر المومنین ہیں اور آپ پریشانی میں مبتلا ہیں ، جبکہ فتنے کا سرغنہ ہمیں نماز پڑھاتا ہے ، اور ہم اسے گناہ سمجھتے ہیں ، انہوں (عثمان ؓ) نے فرمایا : نماز مسلمانوں کا بہترین عمل ہے ، جب لوگ اچھا کام کریں ، تو تم بھی ان کے ساتھ مل کر اچھا کرو ، اور جب وہ برا کریں تو تم ان کی برائی سے دور رہو ۔ رواہ البخاری ۔