ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ثواب کی نیت سے سات برس اذان دیتا ہے تو اس کے لیے جہنم سے خلاصی لکھ دی جاتی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیرا رب پہاڑ کی چوٹی پر بکریاں چرانے والے اس شخص سے خوش ہوتا ہے جو نماز کے لیے اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے ، چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے اس بندے کو دیکھو ، وہ اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے ، وہ مجھ سے ڈرتا ہے ، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل فرما دیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین اشخاص روز قیامت کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے ، وہ غلام جس نے اللہ اور اپنے مالک کا حق ادا کیا ، وہ امام جس سے اس کے مقتدی خوش ہوں اور وہ شخص جو روزانہ پانچوں نمازوں کے لیے اذان دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مؤذن کو اس کی آواز کے مطابق مغفرت سے نوازا جاتا ہے ، ہر خشک و تر اس کے حق میں گواہی دیتی ہے ، اور نماز کے لیے آنے والے شخص کے لیے پچیس نمازوں کا ثواب لکھا جاتا ہے ، اور اس سے دو نمازوں کے مابین ہونے والے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اسنادہ حسن ۔ امام نسائی نے ’’ہر خشک و تر‘‘ کے الفاظ تک روایت کیا ہے ، اور فرمایا :’’ نماز پڑھنے والے کی مثل اسے بھی اجر ملتا ہے ۔‘‘
عثمان بن ابی العاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ان کے امام ہو ، ان کے کمزور لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے امامت کرنا ، اور کسی ایسے شخص کو مؤذن بنانا جو اذان دینے پر اجرت وصول نہ کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تعلیم دی کہ میں مغرب کی اذان کے وقت یہ دعا پڑھوں :’’ اے اللہ ! یہ (یعنی اذان مغرب) تیری رات آنے ، تیرے دن کے جانے اور مؤذن کی آواز کا وقت ہے ، مجھے بخش دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ یا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوئی دوسرے صحابی بیان کرتے ہیں کہ بلال ؓ نے اقامت شروع کی ، پس جب انہوں نے کہا :’’ نماز کھڑی ہو چکی ‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اسے قائم و دائم رکھے ۔‘‘ اور باقی اقامت میں اذان کے متعلق عمر ؓ سے مروی حدیث کی طرح کلمات کہے ۔ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اذان و اقامت کے مابین دعا رد نہیں کی جاتی ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں یا فرمایا : کم ہی رد کی جاتی ہیں ، اذان کے وقت کی جانے والی دعا اور گھمسان کی لڑائی کے وقت کی جانے والی دعا ، اور ایک روایت میں ہے ، بارش کے وقت (کی جانے والی دعا)۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی ، لیکن دارمی نے ’’بارش کے وقت‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ حسن ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مؤذن تو ہم پر فضیلت لے گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جیسے وہ کہیں ویسے ہی تم کہو ، پس جب تم (جواب دینے سے) فارغ ہو جاؤ تو (اللہ سے) مانگو ، تمہیں عطا کیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب شیطان نماز کے لیے اذان سنتا ہے تو وہ مقام روحاء تک بھاگ جاتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، روحاء مدینہ سے چھتیس میل کی مسافت پر ہے ۔ رواہ مسلم ۔
علقمہ بن وقاص ؒ بیان کرتے ہیں ، میں معاویہ ؓ کے پاس تھا ، جب ان کے مؤذن نے اذان کہی تو معاویہ ؓ نے بھی اپنے مؤذن کے کلمات کہے حتیٰ کہ جب اس نے کہا : اؤ نماز کی طرف ، تو انہوں نے کہا : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ))’’ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے ۔‘‘ پس جب اس نے کہا : ((حی علی الفلاح)) تو انہوں نے کہا : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم)) اور اس کے بعد جیسے مؤذن نے کہا ، ویسے ہی انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ بلال ؓ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے ، چنانچہ جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص خلوص دل سے یہ کلمات کہے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤذن کو اللہ کے معبود ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہوئے سنتے تو فرماتے :’’ اور میں بھی ، اور میں بھی (گواہی دیتا ہوں)۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بارہ سال اذان دے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ، اور اس کی اذان کی وجہ سے اس کے حق میں یومیہ ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت کے بدلے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلال (طلوع فجر سے پہلے) رات کے وقت اذان دیتے ہیں ، پس جب تک ام مکتوم اذان نہ دیں تم (سحری) کھاتے رہو ۔‘‘ روای بیان کرتے ہیں ، ابن مکتوم ؓ نابینا شخص تھے ، اور جب تک انہیں یہ نہ کہا جاتا کہ صبح ہو گئی ، وہ اذان نہیں دیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اذان بلال اور فجر کاذب تمہیں سحری کھانے پینے سے نہ روکے ، لیکن افق میں پھیل جانے والی صبح (صبح صادق ہونے پر کھانے پینے سے رک جاؤ)۔‘‘ مسلم ، اور یہ الفاظ ترمذی کے ہیں ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔
مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور میرا چچا زاد ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم سفر کرو تو تم اذان دو (ایک اذان دے دوسرا جواب دے) اور اقامت کہو اور تم سے جو بڑا ہے وہ تمہاری امامت کرائے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا :’’ تم ویسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان دے ، پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔