ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران نماز گلے میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔
شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہودیوں کی مخالفت کرو کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے ۔‘‘ صحیح ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اچانک اپنے جوتے اتار کر اپنے بائیں طرف رکھ دیے ، جب صحابہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا :’’ تمہیں کس چیز نے جوتے اتارنے پر آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں نجاست ہے ، جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ دیکھے اگر وہ اپنے جوتوں میں نجاست دیکھے تو وہ اسے صاف کرے پھر ان میں نماز پڑھ لے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنے جوتے اپنی دائیں طرف نہ رکھے نہ بائیں طرف کیونکہ اس کی بائیں جانب کسی دوسرے شخص کی دائیں جانب ہو گی ہاں اگر اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو تو پھر بائیں طرف رکھ لے ورنہ انہیں اپنے پاؤں کے درمیان رکھے ۔‘‘ ابوداؤد ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو چٹائی پر نماز پڑھتے اور اس پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ، اور انہوں نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے اپنے جسم کو ایک کپڑے میں ڈھانپ رکھا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
عمرو بن شعیب ؒ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی ننگے پاؤں اور کبھی جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
محمد بن منکدر ؒ بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ نے ایک تہبند میں اس طرح نماز پڑھی کہ انہوں نے اسے گردن کی طرف باندھا ہوا تھا ، جبکہ ان کے کپڑے مشجب (گھڑونچی) پر رکھے ہوئے تھے ، کسی نے ان سے کہا : آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے یہ محض اس لیے کیا ہے تاکہ آپ جیسا احمق شخص مجھے دیکھ لے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ہم میں سے کون شخص تھا جس کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے ؟ رواہ البخاری ۔
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت ہے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ایسا کیا کرتے تھے اور ہمیں منع نہیں کیا جاتا تھا ۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا : یہ تب تھا جب کپڑوں کی قلت تھی ، پس جب اللہ فراخی عطا فرما دے تو پھر دو کپڑوں میں نماز پڑھنا بہتر و افضل ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت عید گاہ کی طرف جاتے ایک چھوٹا نیزہ آپ کے آگے آگے اٹھا کر لے جایا جاتا اور اسے عید گاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا ، پھر آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوجحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں دیکھا ، جبکہ آپ وادی بطحاء میں چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں تھے ، اور میں نے بلال ؓ کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا پانی لیے کھڑے ہیں ، اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کے اس پانی کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ، چنانچہ جسے تو اس میں سے کچھ مل جاتا ہے اسے اپنے جسم پر مل لیتا ہے ، اور جسے اس میں سے کچھ نہ ملتا تو وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی نمی حاصل کر لیتا ، پھر میں نے بلال ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے چھوٹا نیزہ لے کر گاڑ دیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ جوڑا زیب تن کیے ہوئے تیزی سے تشریف لائے ، آپ نے چھوٹے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں اور میں نے لوگوں اور چوپاؤں کو آپ کے آگے سے گزرتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
نافع ، ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری بٹھا دیا کرتے اور پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ۔ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور امام بخاری نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : روای بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا ، جب اونٹ چرنے کے لیے جاتے تھے (تو پھر کیا کرتے تھے ؟) انہوں نے کہا : وہ پالان و کجاوہ پکڑتے اور اسے سامنے رکھ کر اس کے آخری حصہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
طلحہ بن عبید اللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اپنے آگے رکھ لے تو وہ نماز پڑھے اور جو اس سے پرے گزرے اس کی کوئی پرواہ نہ کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوجہیم بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کو پتہ چل جائے کہ اسے کتنا گناہ یا نقصان ہو گا تو اس کے لیے ، اس کے آگے سے گزرنے سے چالیس تک کھڑے رہنا ، بہتر ہوتا ۔‘‘ ابونضر نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چالیس دن یا ماہ یا چالیس سال فرمائے ۔ متفق علیہ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے چھپا رہی ہو (یعنی کسی چیز کو سترہ بنا کر نماز پڑھے) اور پھر بھی کوئی شخص اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے روکے ، لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو پھر وہ اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ اور مسلم کے الفاظ بھی اسی معنی میں ہیں ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عورت ، گدھا اور کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتے ہیں ، جبکہ پالان کی آخری لکڑی کی مثل کوئی چیز اس سے بچاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز تہجد پڑھا کرتے تھے جبکہ میں ، آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی تھی جس طرح (امام کے آگے) جنازہ رکھا ہوتا ہے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک دن گدھی پر سوار ہو کر آیا ، میں ان دنوں قریب البلوغ تھا ، جبکہ رسول اللہ اس وقت کسی دیوار کی اوٹ لیے بغیر منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے ، پس میں ایک صف کے آگے سے گزرا ، پھر میں گدھی سے اترا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا ، اور خود صف میں شامل ہو گیا ، اور کسی نے بھی مجھ پر اعتراض نہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے ، اگر کوئی چیز نہ پائے تو پھر اپنی لاٹھی گاڑ لے ، اور اگر اس کے پاس لاٹھی بھی نہ ہو تو پھر ایک لکیر کھینچ لے ، پھر اس کے آگے سے جو بھی گزر جائے وہ اس کے لیے مضر نہیں ہو گا ۔‘‘ ضعیف ۔
سہل بن ابی حشمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہو جائے ، تاکہ شیطان اس کی نماز قطع نہ کر سکے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب بھی کسی لکڑی ، ستون اور درخت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ اسے اپنی دائیں یا بائیں ابرو کے سامنے کرتے تھے ، اور آپ اس کے بالکل سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ ضعیف ۔