ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو ، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق (ساتھ) ہو گئی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ جب امام (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) کہے تو تم آمین کہو ، کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا ، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ متفق علیہ ۔ اور بخاری کی دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب قاری (امام) آمین کہے تو تم آمین کہو ، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ، جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو صفیں درست کرو ، پھر تم میں سے تمہیں کوئی نماز پڑھائے ، پس جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو ، اور جب وہ (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ، جب وہ اللہ اکبر کہے اور رکوع کرے تو تم اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو ، کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے (رکوع سے) اٹھتا ہے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ (پہلے سر اٹھانا) اس کے (پہلے رکوع جانے) کا بدلہ ہے ، اور جب وہ کہے : ((سمع اللہ لمن حمدہ))’’ اللہ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی ‘‘، تو تم کہو : اے اللہ ! ہر قسم کی حمد تیرے ہی لیے ہے ، اللہ تمہاری دعا سنتا اور قبول فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوقتادہ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں جبکہ دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھا کرتے تھے اور کبھی کبھار آپ ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ، آپ جس قدر پہلی رکعت میں قراءت لمبی کیا کرتے تھے اس قدر دوسری میں لمبی نہیں کیا کرتے تھے ، اور آپ اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نماز ظہر و عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے ، پس ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کا اندازہ سورۂ سجدہ کی قراءت کے برابر لگایا ، اور ایک دوسری روایت میں ہے ہر رکعت میں تیس آیات کے برابر تھا ، اور ہم نے آخری دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا تو وہ اس سے نصف تھا ، ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کا اندازہ لگایا تو وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے قیام کے برابر تھا جبکہ عصر کی آخری دو رکعتیں اس کی (پہلی دو رکعتوں) سے نصف تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ظہر میں (واللیل اذا یغشیٰ ،،،،) اور ایک دوسری روایت میں ہے ، (سبح اسم ربک الاعلٰی ،،،،) اور عصر میں اسی طرح ، جبکہ نماز فجر میں اس سے زیادہ لمبی قراءت کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، معاذ بن جبل ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز (عشاء) پڑھا کرتے تھے ، پھر جا کر اپنی قوم کی امامت کراتے تھے ، ایک رات انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھی ، پھر اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں نماز پڑھائی تو انہوں نے سورۂ بقرہ شروع کر دی ، ایک آدمی نے الگ ہو کر سلام پھیر دیا ، پھر اکیلے ہی نماز پڑھ کر چلا گیا تو صحابہ نے اسے کہا : اے فلاں ! کیا تو منافق ہو گیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے شکایت کروں گا ، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم اونٹوں پر پانی لا کر کھیتوں اور باغات کو سیراب کرنے والے لوگ ہیں ، دن بھر کام کاج کرتے ہیں ، اور یہ معاذ ہیں کہ انہوں نے آپ کے ساتھ نماز عشاء ادا کی ، پھر اپنی قوم کے پاس آئے تو انہوں نے سورۂ بقرہ شروع کر دی ، پس (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاذ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :’’ معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو ؟ تم (والشمس وضحھا ،،،،) ، (واللیل اذا یغشیٰ ،،،،) اور (سبح اسم ربک الاعلیٰ ،،،،) پڑھا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز عشاء میں (والتین والزیتون ) پڑھتے ہوئے سنا ، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ خوش الحان کوئی اور نہیں سنا ۔ متفق علیہ ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں (ق والقرآن المجید ،،،،،) اور اس طرح کی سورتیں پڑھا کرتے تھے ، اور اس (یعنی نماز فجر) کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی نمازیں مختصر ہوتی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن سائب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مکہ میں نماز فجر پڑھائی تو آپ نے سورۂ مومنون شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ و ہارون علیہم السلام کا ذکر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رونے کی وجہ سے کھانسی آنے لگی جس پر آپ نے رکوع کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز نماز فجر کی پہلی رکعت میں سورۂ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورۂ دہر پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عبیداللہ بن ابی رافع بیان کرتے ہیں ، مروان ابوہریرہ ؓ کو مدینہ کا خلیفہ مقرر کر کے خود مکہ تشریف لے گئے ، چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی تو انہوں نے پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں سورۃ المنافقون پڑھی تو پھر انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمعہ کے روز یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ۔ رواہ مسلم ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عیدین اور نماز جمعہ میں سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ پڑھا کرتے تھے ، اور انہوں نے فرمایا : اگر عید جمعہ کے روز آ جاتی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں نمازوں میں یہی دونوں سورتیں تلاوت فرماتے ۔ رواہ مسلم ۔
عبیداللہ ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابوواقدلیشی ؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورتیں تلاوت کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں میں سورۂ ق اور سورۃ القمر تلاوت کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص تلاوت فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی رکعتوں میں سورۃ البقرہ کی آیات (قولو امنا باللہ وما انزل الینا ،،،،) اور سورۂ آل عمران سے (قل یا اھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا وبینکم ،،،،) پڑھا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔