رفاعہ بن رافع بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آیا ، اس نے مسجد میں نماز پڑھی ، پھر بنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز دوبارہ پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم قبلہ رخ ہو جاؤ تو اللہ اکبر کہو ، پھر سورۂ فاتحہ اور جو چاہو سورت پڑھو ، جب (رکوع سے) اٹھو تو کمر سیدھی کرو اور سر اٹھاؤ حتیٰ کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں میں واپس آ جائیں ، جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح سجدہ کرو ، جب (سجدہ سے) اٹھو تو بائیں ران پر بیٹھو ، پھر ہر رکوع و سجود میں ایسے ہی کرو حتیٰ کہ اطمینان ہو جائے ۔‘‘ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں ، امام ابوداؤد نے کچھ تبدیلی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے ، امام ترمذی اور امام نسائی نے اسی معنی میں روایت کیا ہے ، اور ترمذی کی روایت میں ہے : فرمایا :’’ جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اللہ کی تعلیم و حکم کے مطابق وضو کرو پھر کلمہ شہادت پڑھو ، (بعض نے کہا : اذان دو) پھر اقامت کہو ، اگر تمہیں قرآن یاد ہو تو قرآن پڑھو ، ورنہ الحمد للہ ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھو اور پھر رکوع کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
فضل بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز دو رکعت ہے ، ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھ ، خشوع و خضوع اور ہماری عاجزی و بے چارگی کا اظہار کر ، پھر ہاتھ بلند کر کے اپنے رب سے دعا کر ، اور جس نے ایسے نہ کیا تو وہ اس طرح ، اس طرح ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ تو وہ ناقص ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
سعید بن حارث بن معلّی ؒ بیان کرتے ہیں ، ابوسعید خدری ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے جب سجدوں سے سر اٹھایا ، جب سجدہ کیا اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تو بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ، اور فرمایا : میں نے نبیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
عکرمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے مکہ میں ایک بزرگ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بائیس مرتبہ اللہ اکبر کہا ، تو میں نے ابن عباس ؓ سے کہا : یہ تو احمق ہے ، انہوں نے کہا : تیری ماں تجھے گم پائے ، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ۔ رواہ البخاری ۔
علی بن حسین ؒ سے مرسل روایت ہے انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں جب جھکتے اور جب اٹھتے تو اللہ اکبر کہا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری زندگی اسی طرح نماز پڑھتے رہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
علقمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ابن مسعود ؓ نے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں ، چنانچہ انہوں نے صرف نماز کے آغاز پر اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھائے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، اور ابوداؤد نے فرمایا : اس معنی میں یہ حدیث صحیح نہیں ۔ ضعیف ۔
ابوحمید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھاتے اور ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہتے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی ، پچھلی صفوں میں کسی آدمی نے نماز میں خرابی کی ، جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا :’’ فلاں شخص ! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کیسی نماز پڑھتے ہو ، کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کرتے ہو وہ مجھ پر مخفی رہتا ہے ، اللہ کی قسم ! میں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں ویسے ہی اپنے پیچھے دیکھتا ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان کچھ دیر سکوت فرمایا کرتے تھے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں ، آپ تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں اس میں کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں یہ دعا پڑھتا ہوں : اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ایسے دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے مابین دوری ڈالی ہے ، اے للہ ! مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ۔‘‘
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کا ارادہ فرماتے ، اور ایک روایت میں ہے : جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز شروع کیا کرتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھا کرتے :’’ میں نے یکسو ہو کر اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو عدم سے تخلیق فرمایا ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ، بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا دونوں جہاں کے رب ، اللہ کے لیے ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں ، اے اللہ ! تو مالک ہے ، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ، میں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ، پس تو میرے سارے گناہ معاف کر دے ، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ بخش نہیں سکتا ، بہترین اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما ، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے ، برے اخلاق مجھ سے دور کر دے ، کیونکہ صرف تو ہی برے اخلاق مجھ سے دور کر سکتا ہے ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں اور یہ میرے لیے باعث سعادت ہے ، تمام خیرو بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، جبکہ برائی تیری طرف منسوب نہیں کی جا سکتی ، میں تیرے حکم و توفیق سے ہوں اور لوٹ کر تیری ہی طرف آنا ہے ، تو برکت والا بلند شان والا ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا ، تجھ پر ایمان لایا ، تیری اطاعت اختیار کی ، میرے کان ، میری آنکھیں ، میرا دماغ ، میری ہڈیوں اور میرے اعصاب نے تیرے لیے ہی تواضع اختیار کی ۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رکوع سے) سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ اے اللہ ! ہمارے رب ! ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین اور جو اس کے درمیان ہے بھر جائے ، اور اس کے بعد اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے ۔‘‘ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو یہ دعا کرتے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا ، تجھ پر ایمان لایا ، تیری اطاعت اختیار کی ، میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا ، اس کی تصویر و صورت بنائی ، اس کو سمع و بصر سے نوازا ، برکت والا اللہ بہترین تخلیق کرنے والا ہے ۔‘‘ پھر آخر پر تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان یہ دعا کرتے :’’ اے اللہ ! تو میرے اگلے پچھلے ، پوشیدہ اور ظاہر گناہ اور جو میں نے زیادتی کی اور وہ گناہ جن کے متعلق تو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے ، سب معاف فرما ، تو ہی ترقی دینے والا اور تو ہی تنزلی کی جانب لے جانے والا ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اور شافعی ؒ کی روایت میں ہے :’’ اور برائی تیری طرف منسوب نہیں کی جا سکتی ، ہدایت والا وہ ہے جسے تو ہدایت عطا فرمائے ، میں تیری توفیق سے ہوں اور میرا لوٹنا بھی تیری ہی طرف ہے ، نجات و پناہ صرف تجھ سے مل سکتی ہے ، تو برکت والا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آ کر صف میں شامل ہو گیا اس کی سانس پھولی ہوئی تھی ، اس نے کہا : اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے لیے حمد ہے ، حمد بہت زیادہ ، پاکیزہ اور با برکت ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو فرمایا :’’ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟‘‘ تمام صحابہ کرام ؓ خاموش رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟‘‘ وہ پھر خاموش رہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ کلمات کس نے کہے تھے ، اس نے کوئی قابل مؤاخذہ بات نہیں کی ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا : میں آیا تو میری سانس پھول چکی تھی ، چنانچہ وہ کلمات میں نے کہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے بارہ فرشتوں کو ان کلمات کی طرف سبقت کرتے ہوئے دیکھا کہ ان میں سے کون انہیں اوپر لے کر جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز شروع کرتے تو یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! تو پاک ہے ، تیری تعریف کے ساتھ (ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں) تیرا نام با برکت ہے ، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابن ماجہ نے اسے ابوسعید ؓ سے روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : ہم اس حدیث کو صرف حارثہ کے واسطہ سے جانتے ہیں ۔ جبکہ اس کی کمزور قوت یادداشت کی وجہ سے اس پر کلام کیا گیا ہے ۔ حسن ۔
جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پڑھ رہے تھے فرمایا :’’ اللہ بہت ہی بڑا ہے ، اللہ بہت ہی بڑا ہے ، اللہ بہت ہی بڑا ہے ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے ، تین مرتبہ فرمایا : اللہ کے لیے صبح و شام پاکیزگی ہے ، میں شیطان سے اس کی پھونک ، اس کے وسوسے اور اس کے خطرے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ، البتہ ابن ماجہ نے ((والحمدللہ کثیرا)) کا ذکر نہیں کیا ، اور انہوں نے آخر پر :((من الشیطان الرجیم)) کا ذکر کیا ، اور عمر ؓ نے فرمایا : اس کی پھونک سے مراد کبر ، اس کے وسوسے سے مراد شعر اور اس کے خطرے سے جنون مراد ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو سکتے یاد کیے ، ایک سکتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر تحریمہ کہتے اور ایک سکتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) کی قراءت سے فارغ ہوتے ، ابی بن کعب ؓ نے ان کی تصدیق کی ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور دارمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو (الحمدللہ رب العلمین) سے قراءت شروع کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکتہ نہیں فرماتے تھے ۔ صحیح مسلم میں اسی طرح ہے ، حمیدی نے اسے امام مسلم کے مفردات میں ذکر کیا ، اور اسی طرح صاحب الجامع نے اسے صرف مسلم سے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز شروع کرتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ، دونوں جہانوں کے رب کے لیے ہے ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اطاعت گزار ہوں ، اے اللہ ! بہترین اعمال و اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما ، ان بہترین اعمال و اخلاق کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے ، برے اعمال اور برے اخلاق سے مجھے بچا ، ان برے اعمال و اخلاق سے صرف تو ہی بچا سکتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
محمد بن مسلمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفل نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا فرماتے :’’ میں نے یکسو ہو کر اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا جس نے عدم سے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔‘‘ اور انہوں (محمد بن مسلمہ) نے جابر ؓ سے مروی حدیث کے مثل ذکر کیا ، البتہ انہوں نے ((وانا من المسلمین))’’ میں مسلمان ہوں ‘‘ ذکر کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور ہم تیری حمد کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت فرماتے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے (نماز میں) سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ (اس کی نماز نہیں ہوتی) جو سورۂ فاتحہ اور کچھ زائد نہ پڑھے ۔‘‘
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے نماز پڑھی لیکن اس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ (نماز) ناقص ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا :’’ مکمل نہیں ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : اسے اپنے دل میں پڑھو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا ، اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے مل گیا ، چنانچہ جب بندہ کہتا ہے :’’ ہر قسم کی حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد بیان کی ، اور جب بندہ کہتا ہے :’’ جو بہت مہربان ، نہایت رحم والا ہے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ، جب کہتا ہے :’’ یوم جزا کا مالک ہے ۔‘‘ اللہ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری شان و شوکت بیان کی ، جب بندہ کہتا ہے :’’ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔‘‘ اللہ فرماتا ہے : یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ، اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو اس نے سوال کیا ، اور جب بندہ کہتا ہے :’’ ہمیں سیدھی راہ دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ، ان کی نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کی راہ جو گمراہ ہوئے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جس کا اس نے سوال کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔