ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو سیاہ چیزوں ، سانپ اور بچھو کو قتل کر دو خواہ (تم) نماز میں ہو ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ترمذی اور نسائی کی روایت اسی معنی میں ہے ۔ صحیح ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازہ بند کر کے نفل ادا کر رہے تھے ، میں آئی تو میں نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی ، آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھول کر پھر اپنی جائے نماز پر واپس چلے گئے ، اور عائشہ ؓ نے ذکر کیا کہ دروازہ قبلہ کی سمت تھا ۔ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کی دوران نماز ہوا خارج ہو جائے تو وہ جا کر وضو کرے اور آ کر نماز دہرائے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی نے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کا دوران نماز وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر وہاں سے باہر نکل جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے جبکہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے ، نماز کے آخر میں بیٹھا ہو ، تو اس کی نماز پوری ہو گئی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ، انہوں (یعنی محدثین) نے اس کی اسناد کو مضطرب قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے ، چنانچہ آپ نے جب اللہ اکبر کہا تو پھر واپس چلے گئے اور انہیں اشارہ کیا کہ وہ اسی حالت میں رہیں ، پھر آپ گئے ، غسل کیا ، پھر تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی ، جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا :’’ میں جنبی تھا ، اور میں غسل کرنا بھول گیا تھا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
اور امام مالک نے عطاء بن یسار سے مرسل روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر ادا کر رہا تھا ، میں نے کنکریوں کی مٹھی بھری تاکہ وہ میری مٹھی میں ٹھنڈی ہو جائیں ، میں گرمی کی شدت کی وجہ سے ان پر سجدہ کیا کرتا تھا ۔ ابوداؤد ، اور امام نسائی نے بھی اسی کی مثل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
ابودرداء بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے ، تو ہم نے آپ کو تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا :’’ میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ میں تجھے اللہ کی لعنت کے ذریعے لعنت بھیجتا ہوں ۔‘‘ اور آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جیسے آپ کوئی چیز پکڑ رہے ہوں ، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو نماز میں کچھ کہتے ہوئے سنا جو ہم نے اس سے پہلے آپ کو کہتے ہوئے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے بھی دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ وہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، تو میں نے تین مرتبہ کہا : میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ، پھر میں نے کہا : میں اللہ کی لعنت کامل کے ذریعے تجھ پر لعنت بھیجتا ہوں ، لیکن وہ تینوں مرتبہ پیچھے نہ ہٹا تو پھر میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا ، اللہ کی قسم ! اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کے وقت یہاں بندھا ہوا ہوتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا ، انہوں نے اسے سلام کیا تو اس نے بول کر جواب دیا ، عبداللہ بن عمر ؓ اس کے پاس واپس آئے اور اسے بتایا : جب تم میں سے کسی شخص کو حالت نماز میں سلام کیا جائے تو وہ بول کر جواب نہ دے بلکہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے مغالطے میں مبتلا کر دیتا ہے حتیٰ کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے ، جب تم میں سے کوئی ایسی صورت (تردد) پائے تو وہ بیٹھنے کی حالت ہی میں دو سجدے کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عطا بن یسار ، ابوسعید ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو اور اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ، تین یا چار ، تو وہ شک دور کرے اور یقین پر بنیاد رکھے ، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے ، اگر اس نے پانچ رکعت پڑھ لی ہیں تو یہ دو سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے ، اور اگر اس نے یہ رکعت چار مکمل کرنے کے لیے پڑھی ہے تو پھر وہ دو سجدے شیطان کی تذلیل کے لیے ہوں گے ۔‘‘ مسلم ، امام مالک نے عطاء سے مرسل روایت کیا ہے ، اور ان کی روایت میں ہے :’’ اس نے ان دو سجدوں سے اس کو جفت بنا دیا ۔‘‘ رواہ مسلم و مالک ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر پانچ رکعتیں پڑھیں ، آپ سے عرض کیا گیا ، کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ کیا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ، تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے ، اور ایک دوسری روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں بھی تم جیسا انسان ہوں ، جیسے تم بھول جاتے ہو ویسے ہی میں بھول جاتا ہوں ، پس جب کبھی میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو ، اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک گزرے تو وہ درست بات تلاش کرنے کی پوری کوشش کرے اور اس بنیاد پر نماز مکمل کرے ۔ پھر سلام پھیرے اور پھر دو سجدے کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن سرین ؒ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، ابن سرین ؒ نے فرمایا : ابوہریرہ ؓ نے اس کا نام بھی بتایا تھا لیکن میں اسے بھول گیا ہوں ، انہوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر مسجد میں رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے گویا آپ غصہ کی حالت میں تھے ، آپ نے دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں اور اپنا دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ دیا ، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے باہر چلے گئے ، باقی صحابہ نے کہا : (کیا) نماز کم کر دی گئی ہے ؟ صحابہ کرام میں ابوبکر ؓ و عمر ؓ بھی موجود تھے ، لیکن وہ بھی آپ سے بات کرنے سے گھبراتے تھے ، صحابہ میں ایک آدمی تھا جس کے ہاتھ لمبے تھے اور اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں بھولا ہوں نہ نماز کم کی گئی ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا ایسے ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ آگے بڑھے ، اور جو نماز چھوڑی تھی وہ پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا ، پھر سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا ، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کی مثل یا ان سے زیادہ لمبا سجدہ کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، اور اللہ اکبر کہا ۔ چنانچہ انہوں (تلامذہ) نے ابن سرین ؒ سے پوچھا : پھر آپ نے سلام پھیرا ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین ؓ نے فرمایا : پھر آپ نے سلام پھیرا ۔ بخاری ، مسلم اور الفاظ حدیث بخاری کے ہیں ۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ((لم انس ولم تقصر)) کے بدلے ((کل ذالک لم یکن)) کہا :’’ یہ سب کچھ نہیں ہوا ۔‘‘ تو انہوں (ذوالیدین) نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان میں (یعنی نہ میں بھولا ہوں نہ نماز قصر کی گئی ہے) سے کچھ تو ہوا ہے ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن بحینہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز ظہر پڑھائی تو آپ پہلی دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور تشہد نہ بیٹھے ، تو صحابہ بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جب آپ نے نماز پڑھ لی تو صحابہ نے سلام پھیرنے کا انتظار کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے ہوئے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا ۔ متفق علیہ ۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ بھول گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے ، پھر تشہد پڑھی پھر سلام پھیرا ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب امام دو رکعتیں پڑھ کر (تشہد پڑھے بغیر) کھڑا ہو جائے ، اگر مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے اسے یاد آ جائے تو وہ بیٹھ جائے ، اور اگر وہ مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہو جائے تو پھر نہ بیٹھے ، اور سہو کے دو سجدے کر لے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی اور تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ، پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے تو خرباق نامی شخص جس کے ہاتھ لمبے تھے ، آپ کے گھر کے راستے میں کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا ، اللہ کے رسول ! پھر اس نے آپ سے تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے کے متعلق ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ کر فرمایا :’’ کیا یہ صحیح کہہ رہا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت اور پڑھی ، پھر سلام پھیرا ، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا ۔ رواہ مسلم ۔
عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص نماز پڑھے اور اسے نماز میں کمی کا شک ہو تو وہ نماز پڑھے حتیٰ کہ اسے زیادتی کا شک ہو جائے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ نجم کی تلاوت کرتے ہوئے سجدہ کیا تو مسلمانوں ، مشرکوں اور جن و انس نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا ۔ رواہ البخاری ۔