ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اس عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی جو مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے حتیٰ کہ وہ اس طرح (خوب اچھی طرح) غسل کرے جیسے غسل جنابت کیا جاتا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، احمد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (کسی اجنبی کو شہوت کے ساتھ دیکھنے والی) ہر آنکھ زانیہ ہے ، اور بے شک عورت جب عطر لگا کر کسی مجلس کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ ایسی ویسی یعنی زانیہ ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد اور نسائی کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی ، جب سلام پھیرا تو فرمایا :’’ کیا فلاں شخص موجود ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، نہیں ، پھر پوچھا :’’ کیا فلاں شخص موجود ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ دونوں نمازیں منافقوں پر بہت بھاری ہیں ، اگر تم جان لو کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو پھر خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا تم ضرور آتے اور بے شک پہلی صف (اجر و فضیلت کے لحاظ سے) فرشتوں کی صف کی طرح ہے ، اور اگر تمہیں اس کی فضیلت کا علم ہو جائے تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرو ، بے شک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا ، اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور اس کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا ، اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور جس قدر زیادہ ہو تو وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس بستی اور جنگل میں تین آدمی ہوں اور وہاں با جماعت نماز کا اہتمام نہ ہو تو پھر (سمجھو کہ) ان پر شیطان غالب آ چکا ہے ، تم جماعت کے ساتھ لگے رہو ، بھیڑیا الگ اور دور رہنے والی بکری کو کھا جاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اذان سن کر بلا عذر با جماعت نماز پڑھنے نہ آئے تو وہ جو اکیلے نماز پڑھتا ہے وہ قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، عذر کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خوف یا مرض ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت محسوس کرے تو پہلے وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو ۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے جبکہ مالک ، ابوداؤد اور نسائی نے اسی کی مثل روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین کام ایسے ہیں جن کا کرنا کسی کے لیے حلال نہیں ، کوئی شخص جو مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنی ذات کے لیے دعا کرتا ہو وہ ان کی امامت نہ کرائے ، اگر وہ ایسے کرے گا تو وہ ان سے خیانت کرے گا ، کوئی شخص اجازت طلب کرنے سے پہلے کسی گھر میں نہ جھانکے ، اگر اس نے ایسے کیا ، تو اس نے ان سے خیانت کی ، اور کوئی شخص بول و براز روک کر نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ وہ (اس سے فارغ ہو کر) ہلکا ہو جائے ۔‘‘ ابوداؤد اور ترمذی کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کھانے اور کسی اور کام کی خاطر نماز کو مؤخر نہ کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم جانتے تھے کہ با جماعت نماز سے صرف وہی منافق شخص پیچھے رہتا تھا جس کا منافق ہونا معلوم تھا ، یا پھر کوئی مریض رہ جاتا تھا ، اگر مریض دو آدمیوں کے سہارے چل سکتا تو وہ با جماعت نماز کے لیے حاضر ہوتا ، اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہدایت کی راہیں سکھائیں ، اور جس مسجد میں اذان دی جاتی ہو اس میں نماز پڑھنا ہدایت کی راہوں میں سے ہے ۔ اور ایک روایت میں ہے ، فرمایا : جس شخص کو پسند ہو کہ وہ کل مسلمان کی حیثیت سے اللہ سے ملاقات کرے تو پھر اسے پانچوں نمازوں کی با جماعت پابندی کرنی چاہیے ، بے شک اللہ نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کی راہیں مقرر فرما دی ہیں ، اور بے شک وہ (پانچوں نمازیں) ہدایت کی سنن میں سے ہیں ، اگر تم نے نماز سے پیچھے رہ جانے والے اس شخص کی طرح اپنے گھروں میں نماز پڑھی تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے ، اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو تم گمراہ ہو جاؤ گے ۔ اور جو شخص اچھی طرح وضو کر کے کسی مسجد کا قصد کرتا ہے تو اللہ اس کے ہر قدم اٹھانے پر اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ، اس کے ذریعے ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے ، اور ہم جانتے تھے کہ نماز سے صرف وہی منافق شخص پیچھے رہتا تھا جس کے نفاق کے بارے میں معلوم ہوتا تھا ، اور ایسے بھی ہوتا تھا کہ کسی آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر گھروں میں خواتین اور بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء قائم کرنے کا حکم دیتا اور اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا اور وہ گھر میں موجود (نماز سے پیچھے رہ جانے والے) لوگوں کو آگ سے جلا دیتے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا :’’ جب تم مسجد میں ہو اور اذان ہو جائے تو پھر تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے بغیر وہاں سے باہر نہ جائے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوشعثاء ؒ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اذان کے بعد مسجد سے باہر نکل گیا تو اسے ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ رواہ مسلم ۔
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اذان کے وقت مسجد میں موجود ہو اور پھر وہ بلا ضرورت مسجد سے نکل جائے اور اس کا واپس آنے کا بھی کوئی ارادہ نہ ہو تو ایسا شخص منافق ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباسؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اذان سن کر بلا عذر مسجد میں نہ آئے تو اس کی (مسجد کے علاوہ پڑھی ہوئی) نماز درست نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدار قطنی ۔
عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مدینہ میں بہت زیادہ موذی جانور اور درندے ہیں ، جبکہ میں ایک نابینا شخص ہوں ، کیا آپ میرے لیے کوئی گنجائش پاتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم ، آؤ نماز کی طرف ، آؤ کامیابی کی طرف (یعنی اذان) سنتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،’’ پس پھر جلدی آؤ ۔‘‘ اور آپ نے رخصت نہ دی ۔ ضعیف ۔
ام درداء ؓ بیان کرتی ہیں ، ابودرداء ؓ غصہ کی حالت میں میرے پاس تشریف لائے تو میں نے پوچھا : آپ کس وجہ سے غصہ میں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا ایک ہی کام باقی رہ گیا ہے کہ وہ با جماعت نماز ادا کرتے ہیں ۔ رواہ البخاری ۔
ابوبکر بن سلیمان بن ابوحشمہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے سلیمان بن ابوحشمہ کو نماز فجر میں نہ پایا ، اور عمر ؓ بازار تشریف لے گئے ، سلیمان کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان واقع تھا ، تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان سے پوچھا : میں نے نماز فجر میں سلیمان نہیں دیکھا ۔ تو انہوں نے عرض کیا ، وہ رات بھر نماز پڑھتا رہا اور پھر اسے نیند آ گئی ۔ عمر ؓ نے فرمایا : اگر میں نماز فجر با جماعت ادا کر لوں تو یہ مجھے رات بھر قیام کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔ ضعیف ۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو اور دو سے زائد ایک جماعت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
بلال بن عبداللہ بن عمر ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب خواتین تم سے (مسجد جانے کی) اجازت طلب کریں تو تم انہیں مسجد کے ثواب سے محروم نہ رکھو (یہ سن کر) بلال ؒ نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم انہیں ضرور روکیں گے ، تو عبداللہ ؓ نے انہیں فرمایا : میں کہتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اور تم کہتے ہو ، ہم انہیں روکیں گے ۔ رواہ مسلم ۔
سالم ؒ کی اپنے والد (عبداللہ ؓ) سے مروی ایک روایت میں ہے ، انہوں نے کہا ، عبداللہ ؓ نے بلال ؒ کی طرف متوجہ ہو کر اسے بہت زیادہ برا بھلا کہا ، اس طرح برا بھلا کہتے ہوئے میں نے انہیں کبھی نہیں سنا ، اور انہوں نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بیان کر رہا ہوں جبکہ تم کہتے ہو کہ اللہ کی قسم ! ہم انہیں ضرور روکیں گے ۔ رواہ مسلم ۔