عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے حتیٰ کہ اللہ انہیں جہنم میں سب سے آخری طبقے میں ڈال دے گا ۔‘‘ ضعیف ۔
وابصہ بن معبد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صف کے پیچھے ایک آدمی کو اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم فرمایا ۔ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ صحیح ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنی خالہ میمونہ ؓ کے گھر رات بسر کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی ان کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پشت کے پیچھے سے مجھے بازو سے پکڑ کر اسی طرح اپنی پشت کے پیچھے سے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پھیر کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا ، پھر جبار بن صخر آئے تو وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ہمارے ہاتھوں سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا حتیٰ کہ آپ نے ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور ایک یتیم نے ہمارے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور ام سلیم ؓ (ام انسؓ) نے ہمارے پیچھے ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور میری والدہ یا میری خالہ کو نماز پڑھائی ، وہ بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب اور عورت کو اپنے پیچھے کھڑا کیا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچے تو آپ رکوع فرما رہے تھے ، انہوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا ، پھر چل کر صف تک پہنچ گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تمہاری حرص میں اضافہ فرمائے ، آیندہ ایسے نہ کرنا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ جب ہم تین ہوں تو ہم میں سے ایک ہماری امامت کرائے ۔ ضعیف ۔
عمار ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مدائن میں لوگوں کو امامت کرائی تو وہ جبوترے پر کھڑے ہوئے جبکہ لوگ ان سے نیچے کھڑے تھے ، حذیفہ ؓ نے آگے بڑھ کر انہیں ہاتھوں سے پکڑ لیا تو عمار ؓ ان کے پیچھے پیچھے چلتے گئے حتیٰ کہ حذیفہ ؓ نے انہیں نیچے اتار دیا ، جب عمار ؓ نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ ؓ نے انہیں فرمایا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا ؟‘‘ جب آدمی لوگوں کی امامت کرائے تو وہ ان سے بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو ۔‘‘ یا آپ نے اس طرح کی بات فرمائی ، تو عمار ؓ نے فرمایا : اسی لیے تو میں آپ کے پکڑنے پر آپ کے پیچھے چل دیا تھا ۔ ضعیف ۔
سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ منبر کس چیز سے بنایا گیا تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا : غابہ کے جھاؤ سے بنا ہوا تھا اور فلاں عورت (عائشہ ؓ) کے آزاد کردہ غلام نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بنایا تھا ۔ جب اسے بنا کر رکھ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہا ، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، آپ نے قراءت کی ، رکوع کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے رکوع کیا ، پھر آپ نے سر اٹھایا ، پھر الٹے پاؤں واپس آئے اور زمین پر سجدہ کیا ، پھر منبر پر تشریف لائے ، پھر قراءت کی ، پھر رکوع کیا پھر سر اٹھایا ، پھر الٹے پاؤں واپس آئے حتیٰ کہ زمین پر سجدہ کیا ۔ یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں ، جبکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے ، اور اس روایت کے آخر میں ہے : جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ لوگو ! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور تم میری نماز سیکھ لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرہ میں نماز پڑھی جبکہ لوگ حجرے کے باہر سے آپ کی اقتدا کر رہے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں ؟ آپ نے نماز کے لیے اقامت کہی ، اور مردوں نے صف بنائی ، اور ان کے پیچھے بچوں نے صف بنائی پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : اس طرح نماز ہے ، عبدالاعلیٰ نے کہا : میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا :’’ میری امت کی نماز اس طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں ، اسی اثنا میں کہ میں مسجد میں پہلی صف میں تھا کہ کسی آدمی نے مجھے زور سے پیچھے کھینچا ، وہ مجھے وہاں سے ہٹا کر خود وہاں کھڑا ہو گیا ، اللہ کی قسم ! مجھے اپنی نماز کے بارے میں کچھ یاد نہ رہا ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو وہ ابی بن کعب ؓ تھے ، انہوں نے فرمایا : نوجوان ! اللہ تمہیں کسی تکلیف سے دوچار نہ کرے ، بے شک یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہمارے لیے حکم ہے کہ ہم امام کے پاس کھڑے ہوں ، پھر انہوں نے قبلہ رخ کھڑے ہو کر فرمایا :’’ اہل عقد ‘‘ ہلاک ہو گئے ، رب کعبہ کی قسم ! مجھے ان پر کوئی افسوس نہیں ، لیکن مجھے افسوس تو ان پر ہے جنہوں نے گمراہ کیا ، میں نے کہا : ابویعقوب ! ’’ اہل عقد ‘‘ سے کون مراد ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : حکمران ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
ابومسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں سے کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے (جاننے ، سمجھنے) والا ہو ، پس اگر وہ قراءت میں سب برابر ہوں تو پھر ان میں سے جو سنت کو زیادہ جاننے والا ہو ، اگر وہ سنت میں برابر ہوں تو پھر ان میں سے جس نے ہجرت پہلے کی ہو ، اور اگر وہ ہجرت کرنے میں برابر ہوں تو پھر ان میں سے جو عمر میں بڑا ہو ، اور کوئی شخص کسی کی جگہ (بلا اجازت) امامت کرائے نہ بلا اجازت اس کے گھر میں اس کی عزت کی جگہ بیٹھے ۔‘‘ مسلم ۔ اور مسلم ہی کی روایت میں ہے :’’ کوئی آدمی کسی آدمی کی اس کے گھر میں امامت نہ کرائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرائے اور ان میں سے جو زیادہ قرآن پڑھنے والا ہے وہ امامت کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ مسلم ، اور مالک بن حویرث ؓ سے مروی حدیث باب فضل الاذان کے بعد والے باب میں بیان ہو چکی ہے ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے بہتر شخص اذان کہے اور تم میں سے بہتر قاری تمہیں نماز پڑھائے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوعطیہ عقیلی بیان کرتے ہیں ، مالک بن حویرث ؓ ہماری نماز کی جگہ پر ہمارے پاس تشریف لایا کرتے اور باتیں کیا کرتے تھے ، ایک روز نماز کا وقت ہو گیا ، ابوعطیہ نے کہا ، ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں ، انہوں نے ہمیں فرمایا : اپنے کسی آدمی کو آگے کرو وہ تمہیں نماز پڑھائے گا :’’ میں عنقریب تمہیں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھاتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی قوم کے پاس جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرائے بلکہ انہی میں سے کوئی شخص ان کی امامت کرائے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، البتہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ تک اکتفا کیا ہے ۔ حسن ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن مکتوم ؓ کو خلیفہ مقرر فرمایا ، وہ لوگوں کی امامت کراتے تھے حالانکہ وہ نابینا تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں کی نماز ان کے کانوں سے آگے نہیں جاتی ، مفرور غلام حتیٰ کہ وہ واپس آ جائے ، وہ عورت جو اس حال میں رات بسر کرے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو ، اور لوگوں کا امام جبکہ وہ اسے نا پسند کرتے ہوں ۔‘‘ ترمذی اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی : وہ امام جسے مقتدی نا پسند کرتے ہوں ، ایک وہ شخص جو نماز کا وقت گزر جانے کے بعد نماز پڑھتا ہے ، اور ایک وہ آدمی جو کسی آزاد شخص کو غلام بنا لے ۔‘‘ ضعیف ۔