انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر چالیس روز تکبیر اولیٰ کے ساتھ با جماعت نماز پڑھتا ہے ، اس کے لیے دو چیزوں : جہنم اور نفاق سے براءت لکھ دی جاتی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اچھی طرح وضو کر کے نماز کے لیے جائے لیکن وہ لوگوں کو پائے کہ وہ نماز پڑھ چکے ہوں تو اللہ اسے با جماعت نماز پڑھنے والوں کی مثل اجر عطا فرما دیتا ہے ، اور اس سے ان کے اجر میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہو گی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے ، آپ نے فرمایا :’’ کیا کوئی شخص اس پر صدقہ کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے ؟‘‘ ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے اس کے ساتھ (با جماعت) نماز پڑھی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ، میں عائشہ ؓ کے پاس گیا اور عرض کیا : کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے متعلق مجھے کچھ بتائیں گی ؟ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں ، فرمایا : جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ نے پوچھا :’’ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں ، اللہ کے رسول ! وہ تو آپ کا انتظار کر رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے ٹب میں پانی ڈالو ۔‘‘ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نے پانی ڈال دیا تو آپ نے غسل فرمایا ، آپ نے اٹھنے کا قصد کیا تو آپ پر غشی طاری ہو گئی ، پھر افاقہ ہوا تو فرمایا :’’ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! نہیں ، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے لیے ٹب میں پانی ڈالو ۔‘‘ آپ نے بیٹھ کر غسل فرمایا ، پھر اٹھنے کا قصد کیا تو آپ پر غشی طاری ہو گئی ، پھر افاقہ ہوا تو فرمایا :’’ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں ۔‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں اللہ کے رسول ! اور لوگ مسجد میں کھڑے نماز عشاء کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منتظر تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، قاصد ان کے پاس آیا اور اس نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو حکم فرما رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ابوبکر ؓ نے ، جو کہ رقیق قلب تھے ، فرمایا : عمر ! آپ نماز پڑھائیں ، تو عمر ؓ نے انہیں فرمایا : آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں ، ابوبکر ؓ نے ان ایام میں نماز پڑھائی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طبیعت میں بہتری محسوس کی تو آپ دو آدمیوں ، ان میں سے ایک عباس ؓ تھے ، کے سہارے نماز ظہر کے لیے تشریف لائے جبکہ ابوبکر ؓ نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر ؓ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پیچھے نہ ہٹنے کا اشارہ فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔‘‘ انہوں نے آپ کو ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز ادا کی ۔ عبیداللہ بیان کرتے ہیں ، میں عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس گیا ، تو میں نے انہیں کہا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان کروں جو عائشہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے متعلق مجھے بیان کی ہے ، انہوں نے فرمایا : بیان کرو ، میں نے ان سے مروی حدیث انہیں بیان کی تو انہوں نے اس حدیث میں سے کسی چیز کا انکار نہ کیا ، البتہ انہوں نے یہ پوچھا : کیا انہوں نے عباس ؓ کے ساتھ دوسرے آدمی کے نام کے بارے میں تمہیں بتایا تھا ؟ میں نے کہا : نہیں ، انہوں نے فرمایا : وہ علی ؓ تھے ۔ متفق علیہ ۔
Hadith 1148
sahih
وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ وَمَنْ فَاتَتْهُ قِرَاءَةُ أُمِّ الْقُرْآنِ فقد فَاتَهُ خير كثير» . رَوَاهُ مَالك
Urdu
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جس نے رکوع پا لیا تو اس نے رکعت پا لی ، اور جسے سورۂ فاتحہ نہ ملی تو وہ خیر کثیر سے محروم ہو گیا ۔ ضعیف ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، معاذ بن جبل ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر وہ اپنی قوم کے پاس جاتے اور انہیں نماز پڑھاتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، معاذ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء ادا کرتے پھر اپنی قوم کے پاس جاتے اور انہیں نماز عشاء پڑھاتے ، اور یہ (بعد والی نماز) ان کے لیے نفل ہوتی تھی ۔ صحیح ، رواہ الدارقطنی ۔
یزید بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، میں نے نماز فجر آپ کے ساتھ مسجد خیف میں ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ چکے اور پیچھے مڑے تو وہاں آخر پر دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انہیں میرے پاس لاؤ ۔‘‘ انہیں لایا گیا تو وہ گھبراہٹ سے کانپ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم اپنے گھروںمیں نماز پڑھ چکے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسے نہ کیا کرو ، جب تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکو اور پھر تمہیں مسجد میں جماعت مل جائے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرو ، کیونکہ وہ تمہارے لیے نفل ہو گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
بسر بن محجن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی مجلس میں موجود تھے ، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھ کر واپس تشریف لے آئے جبکہ محجن اپنی جگہ پر ہی تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا سے پوچھا :’’ تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ، کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ، ضرور مسلمان ہیں ، لیکن میں اپنے گھر نماز پڑھ چکا تھا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ جب تم نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں آؤ ، اور نماز ہو رہی ہو تو تم جماعت کے ساتھ نماز پڑھو خواہ تم نماز پڑھ ہی چکے ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و النسائی ۔
اسد بن خزیمہ کے قبیلے کے ایک شخص سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری ؓ سے مسئلہ دریافت کیا ، ہم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ کر مسجد میں آتا ہے اور نماز ہو رہی ہو تو کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھوں ؟ اس پر میرا دل مطمئن نہیں ہوتا ، ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کے لیے جماعت کا ثواب ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
یزید بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے ، میں بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہوا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا :’’ یزید ! کیا تم مسلمان نہیں ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! میں تو مسلمان ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے جماعت کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میں سمجھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے لہذا میں نے گھر میں پڑھ لی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :’’ جب تم نماز کے لیے آؤ اور لوگوں کو پاؤ تو پھر تم ان کے ساتھ نماز پڑھو اور اگر تم پڑھ چکے ہو تو پھر وہ تمہارے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے ان سے دریافت کیا اس نے کہا : میں گھر میں نماز پڑھ لوں اور پھر مسجد میں با جماعت نماز پا لوں تو پھر کیا میں جماعت کے ساتھ شریک ہو جاؤں ؟ انہوں نے اسے بتایا ، ہاں ، اس آدمی نے کہا : میں ان میں سے کس کو اپنی (فرض) نماز قرار دوں ؟ ابن عمر ؓ نے فرمایا : کیا تجھے اس کا اختیار ہے ؟ اس کا اختیار تو اللہ عزوجل کو حاصل ہے کہ وہ ان میں سے جسے چاہے (فرض) بنائے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
میمونہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سلیمان بیان کرتے ہیں ، ہم مقام بلاط پر ابن عمر ؓ کے پاس آئے تو وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا : کیا آپ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ؟ انہوں نے فرمایا : میں پڑھ چکا ہوں ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایک نماز کو ایک ہی دن میں دو مرتبہ نہ پڑھو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
نافع ؒ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے : جو شخص نماز مغرب یا نماز فجر پڑھ لے ، پھر وہ انہیں امام کے ساتھ پا لے تو وہ انہیں دوبارہ نہ پڑھے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
ام حبیبہؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دن اور رات میں (فرض نماز کے علاوہ) بارہ رکعتیں پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے : ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو رکعتیں ، مغرب کے بعد دو رکعت ، عشاء کے بعد دو اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں ۔‘‘ ترمذی اور مسلم کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو مسلمان آدمی ہر روز فرائض کے علاوہ اللہ کی رضا کی خاطر بارہ رکعتیں نفل ادا کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے ، یا اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مسلم و الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد ، مغرب کے بعد دو رکعتیں آپ کے گھر پڑھیں اور دو رکعتیں عشاء کے بعد آپ کے گھر میں پڑھیں ، اور انہوں نے بیان کیا ، حفصہ ؓ (جو کہ آپ کی بہن تھیں) نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر طلوع ہو جانے پر ہلکی سی دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفل نماز کے متعلق عائشہ ؓ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں میرے گھر میں پڑھتے ، پھر نماز پڑھانے تشریف لے جاتے ، پھر آ کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر آپ نماز مغرب پڑھاتے ، پھر گھر تشریف لا کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر نماز عشاء پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کر دو رکعتیں پڑھتے ، آپ وتر سمیت نو رکعت نماز تہجد پڑھا کرتے تھے ، آپ رات دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے ، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے ، اور جب آپ بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر ہی کرتے ، اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے ۔ مسلم ، اور امام ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر پڑھانے کے لیے تشریف لے جاتے ۔ رواہ مسلم و ابوداؤد ۔