مکحول ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مغرب کے بعد کلام کرنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھتا ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ چار رکعتیں پڑھتا ہے ، تو اس کی نماز علیین میں بلند کی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت مرسل ہے ۔ ضعیف ۔
حذیفہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے ، انہوں نے اضافہ نقل کیا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ مغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھنے میں جلدی کیا کرو ، کیونکہ وہ فرض نماز کے ساتھ بلند کی جاتی ہیں ۔‘‘ یہ دونوں روایتیں رزین نے روایت کی ہیں ، بیہقی نے حذیفہ ؓ سے مروی زائد الفاظ شعب الایمان میں اسی طرح روایت کیے ہیں ۔ ضعیف ۔
عمرو بن عطا ؒ بیان کرتے ہیں ، کہ نافع بن جبیر نے انہیں سائب کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے اس چیز کے متعلق پوچھے جو معاویہ ؓ نے ان سے دوران نماز دیکھی ، سائب ؓ نے فرمایا :ہاں ، میں نے معاویہ ؓ کے ساتھ مقصورہ (حکام کے لیے خاص کمرہ) میں نماز جمعہ ادا کی ، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی اسی جگہ کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی ، جب وہ اپنے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے میری طرف پیغام بھیجتے ہوئے فرمایا : آیندہ ایسے نہ کرنا ، تم نے ایسے کیوں کیا ؟ جب تم نماز جمعہ پڑھ لو تو پھر تم کلام کر لینے یا وہاں سے چلے جانے تک کوئی نماز نہ پڑھو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم (فرض) نماز کے ساتھ کوئی نفل نہ ملائیں حتیٰ کہ ہم بات چیت کر لیں یا وہاں سے کہیں اور چلے جائیں ۔ رواہ مسلم ۔
عطا ء ؒ بیان کرتے ہیں ، جب ابن عمر ؓ مکہ میں نماز جمعہ ادا فرماتے تو تھوڑا سا آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر آگے بڑھ کر چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر تشریف لے جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نہ پڑھتے ، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے : انہوں نے بیان کیا ، میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر طلوع فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے ، آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے ، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ، آپ اس میں اتنا لمبا سجدہ فرماتے کہ آپ کے سر اٹھانے سے پہلے کوئی شخص پچاس آیات کی تلاوت کر لیتا ، جب مؤذن نماز فجر کی اذان سے فارغ ہو جاتا اور فجر واضح ہو جاتی تو آپ ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے اور پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے حتیٰ کہ مؤذن حاضر خدمت ہو کر اقامت کے لیے درخواست کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز پڑھانے کے لیے) تشریف لے جاتے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو رکعتیں پڑھ لیتے تو اگر میں بیدار ہوتی تو آپ مجھ سے بات وغیرہ کر لیتے ورنہ لیٹ جاتے ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو وتر اور فجر کی دو رکعتوں سمیت تیرہ رکعت نماز تہجد پڑھا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Hadith 1192
sahih
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ. فَقَالَت: سبع وتسع وَإِحْدَى عشر رَكْعَة سوى رَكْعَتي الْفجْر. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu
مسروق ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : فجر کی دو رکعتوں کے علاوہ سات ، نو اور گیارہ رکعت تھی ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز تہجد کے لیے رات کو کھڑے ہوتے تو آپ دو ہلکی رکعتوں سے اپنی نماز کا افتتاح کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی رات کو قیام کرے تو دو ہلکی رکعتوں سے آغاز کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنی خالہ میمونہ ؓ کے ہاں ایک رات بسر کی ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کچھ دیر بات چیت کی اور پھر سو گئے ، جب آخری تہائی رات یا کچھ رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ، اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ بے شک زمین و آسمان کی تخلیق میں اور شب و روز کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ نے سورت مکمل فرمائی ، پھر آپ مشکیزے کی طرف گئے ، پھر اس کا منہ کھول کر ٹب میں پانی لیا اور افراط و تفریط کے بغیر خوب اچھی طرح وضو کیا ، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، میں بھی کھڑا ہوا اور وضو کر کے آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، آپ نے مجھے کان سے پکڑ کر گھما کر اپنے دائیں جانب کر لیا ، آپ نے تیرہ رکعت نماز مکمل کی ، پھر آپ لیٹ گئے ، اور سو گئے حتیٰ کہ آپ خراٹے بھرنے لگے ، اور جب آپ سو جاتے تو خراٹے بھرتے ، پھر بلال ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی ، پس آپ نے اور وضو نہ کیا اور آپ یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میرے دل میں ، میری آنکھوں میں ، میرے کانوںمیں ، میرے دائیں ، میرے بائیں ، میرے اوپر ، میرے نیچے ، میرے آگے اور میرے پیچھے اور میرے لیے نور کر دے ۔‘‘ اور ان میں سے بعض نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ میری زبان میں نور کر دے ۔‘‘ اور یہ بھی ذکر کیا ہے :’’ میرے پٹھے ، گوشت ، میرا خون ، میرے بال اور میرا بدن نورانی بنا دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے :’’ اور میرے نفس میں نور اور بہت ہی نور بخش ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں جو مسلم میں ہے :’’ اے اللہ ! تو مجھے نور عطا فرما ۔‘‘
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سوئے ، آپ بیدار ہوئے ، مسواک کی اور وضو کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ،،،،،۔‘‘ آخر سورت تک ۔ پھر آپ کھڑے ہوئے دو رکعتیں پڑھیں ان میں قیام اور رکوع و سجود لمبا کیا ، پھر آپ آ کر سو گئے حتیٰ کہ آپ خراٹے بھرنے لگے ، پھر آپ نے تین مرتبہ ایسے کرتے ہوئے چھ رکعتیں پڑھیں ، آپ ہر مرتبہ مسواک کرتے ، وضو کرتے اور ان آیات کی تلاوت فرماتے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین وتر پڑھے ۔ رواہ مسلم ۔
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تہجد ملاحظہ کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھیں ، پھر دو رکعتیں بہت ہی لمبی پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو سے قدرے مختصر تھیں ، پھر دو رکعتیں ان سے کم لمبی پڑھیں ، پھر دو رکعتیں ان سے کم لمبی پڑھیں ، پھر آپ نے وتر پڑھا ، یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں ۔ رواہ مسلم و مالک و ابوداؤد ۔ امام مسلم ؒ نے زید ؓ کا یہ قول :’’ آپ نے رکعتیں پڑھیں اور وہ پہلی دو سے قدرے مختصر تھیں ۔‘‘ چار مرتبہ ذکر کیا ہے ، اور صحیح مسلم میں اور افراد مسلم میں کتاب الحمیدی اور موطا مالک ، سنن ابی داؤد اور جامع الاصول میں اسی طرح مذکور ہے ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے ۔ ان میں سے آخری دو سورتیں حم الدخان اور عم یتساءلون ہیں ۔ متفق علیہ ۔
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تہجد پڑھتے ہوئے دیکھا ،آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا اور پھر دعا پڑھی ، پھر آپ نے رکوع کیا تو آپ کا رکوع قیام کی طرح (طویل) تھا ، آپ اپنے رکوع میں یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ پاک ہے میرا رب عظمت والا ۔‘‘ پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو آپ کا قیام رکوع کی طرح تھا ، آپ وہاں یہ دعا کرتے تھے :’’ میرے رب کے لیے ہر قسم کی حمد ہے ۔‘‘ پھر آپ نے سجدہ کیا ، آپ کے سجود بھی آپ کے قیام کے برابر تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سجود میں یہ دعا کیا کرتے تھے ، ’’ پاک ہے میرا رب بہت بلند ۔‘‘ پھر آپ نے سجود سے سر اٹھایا ، آپ اپنے سجدوں کے درمیان اپنے سجود کے برابر ہی بیٹھتے تھے ، اور یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ میرے رب ! مجھے بخش دے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار رکعتیں پڑھیں اور آپ نے ان میں سورۃ البقرہ ، آل عمران ، النسا ، المائدہ یا الانعام تلاوت فرمائیں ۔ شعبہ کو المائدہ یا الانعام میں شک ہوا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و النسائی ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دس آیات کا اہتمام کرتا ہے وہ غافلین میں نہیں لکھا جاتا ، جو سو آیات (کی تلاوت و حفظ اور عمل) کا اہتمام کرتا ہے تو وہ اطاعت گزاروں میں لکھ دیا جاتا ہے اور جو شخص ہزار آیات کا اہتمام کرتا ہے تو وہ ڈھیروں اجر و ثواب پانے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تہجد میں قراءت کرتے وقت کبھی اپنی آواز بلند کرتے اور کبھی پست کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر بلند آواز سے قراءت کرتے تھے کہ آپ گھر کے اندر قراءت کرتے تو صحن میں موجود شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت سن سکتا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔