Back to Mishkat Al-Masabih

Prayer

كتاب الصلاة

Chapter 4

Hadith 1244
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ وَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ)
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص اتنی مدت ہی نماز پڑھے جو رغبت اور خوشی کے ساتھ پڑھی جائے اور جب بار معلوم ہو تو (چھوڑ کر) بیٹھ جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1245
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يدْرِي لَعَلَّه يسْتَغْفر فيسب نَفسه»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آئے تو وہ سو جائے یہاں تک کہ نیند پوری ہو جائے ، کیونکہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتے ہوئے اونگھ رہا ہو تو اسے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے لیے بددعا کر رہا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1246
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک دین آسان ہے ، جو شخص دین پر سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا ، تم میانہ روی اختیار کرو ، قریب رہو اور خوشخبری قبول کرو ۔ نیز دن کے پہلے پہر ، اس کے آخری پہر اور رات کے کچھ وقت کی عبادت کے ذریعے مدد طلب کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1247
sahih
وَعَن عمر رَضِي الله ع نه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْل» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص رات کو اپنا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ نہ کر سکے تو پھر اگر وہ نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان وہی وظیفہ کر لے تو اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھ دیا جاتا ہے گویا اس نے اسے رات کے وقت کیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1248
sahih
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تستطع فعلى جنب» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عمران بن حصین ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، اگر استطاعت نہ ہو تو پھر بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پھر پہلو کے بل (نماز پڑھو) ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1249
sahih
وَعَن عمرَان بن حُصَيْن: أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا. قَالَ: «إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نصف أجل الْقَاعِد» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا تو وہ بہتر ہے ، اور جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کے لیے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے نصف اجر ہے ، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اس کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے سے نصف اجر ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1250
sahih
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ طَاهِرًا وَذَكَرَ اللَّهِ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ لَمْ يَتَقَلَّبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» . ذَكَرَهُ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ بِرِوَايَةِ ابْنِ السّني
Urdu

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص با وضو بستر پر لیٹے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے سو جائے تو پھر وہ رات کو جب بھی کروٹ بدلتے ہوئے اللہ سے دنیا و آخرت کی خیر طلب کرے تو اللہ اسے وہی عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ امام نووی ؒ نے ابن سنی کی روایت سے ’’ کتاب اذکار ‘‘ میں روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1251
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي وَرَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَانْهَزَمَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہمارا رب دو آدمیوں پر خوش ہوتا ہے ، ایک وہ شخص جو اپنے نرم و گرم بستر اور اپنے چہیتوں اور اہل و عیال میں سے اٹھ کر نماز پڑھتا ہے ۔ اللہ فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے اس بندے کو دیکھو کہ وہ میرے ہاں جو اجر و ثواب ہے اس کی رغبت اور میرے عذاب کے خوف کی وجہ سے اپنے نرم و گرم بستر اور اپنے چہیتوں اور اہل و عیال سے الگ ہو کر نماز کے لیے اٹھا ہے ، اور ایک وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ساتھیوں سمیت میدان جنگ سے پیچھے ہٹ جاتا ہے ، لیکن پھر یہ جان کر کہ پیچھے ہٹنے پر اسے کیا گناہ ملے گا اور پیش قدمی میں اسے کتنا ثواب ملے گا ، تو وہ پلٹ کر آتا ہے حتیٰ کہ اسے شہید کر دیا جاتا ہے تو اللہ فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے اس بندے کو دیکھو کہ وہ مجھ سے ملنے والے اجر و ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے خوف کی وجہ سے پلٹ کر آیا حتیٰ کہ اسے شہید کر دیا گیا ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 1252
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ» قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأسه فَقَالَ: «مَالك يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو؟» قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ قُلْتَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ» وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا قَالَ: «أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، مجھے کسی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا ، نصف نماز کی طرح ہے ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر پر رکھ دیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عبداللہ بن عمرو ! تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے :’’ آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا ، نصف نماز کی طرح ہے ۔‘‘ جب کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ٹھیک ہے ، لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1253
sahih
وَعَن سَالم بن أبي الْجَعْد قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَقِمِ الصَّلَاةَ يَا بِلَالُ أَرِحْنَا بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

سالم بن ابی جعد ؒ بیان کرتے ہیں ، خزاعہ قبیلے کے ایک آدمی نے کہا : کاش میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کرتا ، گویا انہوں (یعنی حاضرین مجلس) نے اس کی اس بات کو معیوب جانا ، (اس پر) انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بلال ! نماز کے لیے اقامت کہو اور اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1254
sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَة توتر لَهُ مَا قد صلى»
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے ، جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے تو وہ اس کی نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1255
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخر اللَّيْل» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وتر (کی نماز) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1256
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْء إِلَّا فِي آخرهَا
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرہ رکعت نماز تہجد پڑھا کرتے تھے ، ان میں سے پانچ وتر پڑھتے اور تشہد کے لیے صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1257
sahih
وَعَن سعد بن هِشَام قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعد فَتلك إِحْدَى عشرَة رَكْعَة يابني فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ فِي الْأُولَى فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شهرا كَامِلا غير رَمَضَان. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

سعد بن ہشام ؓ بیان کرتے ہیں ، میں عائشہ ؓ کے پاس گیا تو میں نے عرض کیا ، ام المومنین ! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق کے متعلق مجھے بتائیں ، انہوں نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ضرور پڑھتا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا ، میں نے عرض کیا ، ام المومنین ! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وتر کے متعلق مجھے بتائیں ، انہوں نے فرمایا : ہم آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کے پانی کا انتظام کرتے ، پھر جب اللہ چاہتا تو آپ کو رات کے وقت جگا دیتا ، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے اور آپ صرف آٹھویں رکعت میں (تشہد) بیٹھتے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کا ذکر کرتے ، اس کی حمد بیان کرتے اور اس سے دعا کرتے ، پھر آپ سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پڑھتے ، پھر بیٹھ جاتے ، اللہ کا ذکر کرتے ، اس کی حمد بیان کرتے اور اس سے دعا کرتے پھر سلام پھیرتے تو ہمیں سناتے ، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، بیٹا ! یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بوڑھے ہو گئے اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ نے سات رکعتیں وتر پڑھے ، اور دو رکعتیں ویسے ہی (بیٹھ کر) پڑھیں جیسے (بوڑھے ہونے سے) پہلے پڑھتے تھے ، پس بیٹا ! یہ نو ہو گئیں ، اور جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھتے تو اس پر دوام اختیار کرنا آپ کو بہت پسند تھا ، اور جب کبھی نیند کے غلبے یا کسی تکلیف کی وجہ سے نماز تہجد نہ پڑھتے تو پھر آپ دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھتے تھے ، اور میں نہیں جانتی کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہو ، یا آپ نے پوری رات تہجد پڑھی ہو یا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کے علاوہ پورا مہینہ روزے رکھے ہوں ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 1258
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وترا» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عمر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وتر کو اپنی آخری نماز بناؤ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1259
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادرُوا الصُّبْح بالوتر» . وَرَاه مُسلم
Urdu

ابن عمر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ صبح ہو جانے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1260
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ رات کے اول حصے میں وتر پڑھ لے ، اور جسے رات کے آخری حصے میں جاگنے کی امید ہو تو وہ رات کے آخری حصے میں وتر پڑھے ، کیونکہ رات کے آخری حصے میں پڑھی جانے والی نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، اور یہ افضل ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1261
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مِنْ كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کے تمام اوقات میں وتر پڑھے ہیں ، رات کے اول حصے میں ، اس کے وسط میں ، اس کے آخری حصے میں اور آخری دور میں آپ کی نماز وتر سحری (آخر شب) کے وقت ہوتی تھی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1262
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّام من كل شهر وركعتي الضُّحَى وَأَن أوتر قبل أَن أَنَام
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے خلیل صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین کاموں کا حکم فرمایا ، ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے ، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا حکم فرمایا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1263
sahih
عَن غُضَيْف بن الْحَارِث قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَخْفُتُ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَفَتَ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ
Urdu

غضیف بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا ، مجھے بتائیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غسل جنابت رات کے اول حصے میں کرتے تھے یا رات کے آخری حصے میں ؟ انہوں نے فرمایا : کبھی رات کے پہلے حصے میں غسل کیا اور کبھی رات کے پچھلے حصے میں ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ، میں نے پوچھا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھا کرتے تھے یا رات کے آخری حصے میں ؟ انہوں نے فرمایا : آپ نے کبھی رات کے اول حصے میں وتر پڑھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ، میں نے پوچھا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز تہجد میں) بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا پست آواز سے ؟ انہوں نے فرمایا ، کبھی بلند آواز سے اور کبھی پست آواز سے ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ۔‘‘ ابوداؤد ، اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و النسائی ۔