Back to Mishkat Al-Masabih

Prayer

كتاب الصلاة

Chapter 4

Hadith 1304
sahih
وَعَن عبد الله بن أبي بكر قَالَ: سَمِعت أبي يَقُولُ: كُنَّا نَنْصَرِفُ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْقِيَامِ فَنَسْتَعْجِلُ الْخَدَمَ بِالطَّعَامِ مَخَافَةَ فَوْتِ السَّحُورِ. وَفِي أُخْرَى مَخَافَة الْفجْر. رَوَاهُ مَالك
Urdu

عبداللہ بن ابی بکر بیان کرتے ہیں ، میں نے أبی ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : ہم رمضان میں تراویح سے اس وقت فارغ ہوا کرتے تھے کہ ہم سحری کے فوت ہو جانے اور فجر کے طلوع ہو جانے کے خوف کے پیش نظر خادموں کو کھانے کے متعلق جلدی کرنے کا حکم دیتے تھے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔

Hadith 1305
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَل تدرين مَا هَذِه اللَّيْل؟» يَعْنِي لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ: مَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «فِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ وَفِيهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ» . فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى؟ فَقَالَ: «مَا مِنْ أحد يدْخل الْجنَّة إِلَّا برحمة الله تَعَالَى» . ثَلَاثًا. قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى هَامَتِهِ فَقَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ» . يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير
Urdu

عائشہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آپ جانتی ہیں کہ نصف شعبان کی رات کیا واقع ہوتا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس میں کیا واقع ہوتا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس سال پیدا ہونے والے اور اس سال فوت ہونے والے ہر شخص کا نام اس رات لکھ دیا جاتا ہے ، اسی رات ان کے اعمال اوپر چڑھتے ہیں اور اسی رات ان کا رزق نازل کیا جاتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی شخص جنت میں نہیں جائے گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا :’’ اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی شخص جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ بھی نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا :’’ میں بھی نہیں ، جب تک اللہ اپنی طرف سے مجھے ڈھانپ نہ لے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1306
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابوموسیٰ اشعری ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنے بندوں پر خصوصی طور پر متوجہ ہوتا ہے اور وہ مشرک یا کینہ پرور کے سوا اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1307
sahih
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَفِي رِوَايَته: «إِلَّا اثْنَيْنِ مُشَاحِن وَقَاتل نفس»
Urdu

امام احمد نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا ہے ، ان کی روایت میں ہے ،’’ دو : کینہ پرور اور خود کشی کرنے والے کے سوا (سب کو بخش دیتا ہے) ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1308
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا يَوْمَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يطلع الْفجْر . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب نصف شعبان کی رات ہو تو تم اس رات قیام کرو ، اور اس دن کا روزہ رکھو ، کیونکہ اس رات آفتاب کے غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرما کر پوچھتا ہے :’’ سن لو ! کوئی مغفرت کا طلبگار ہے تاکہ میں اسے بخش دوں ، سن لو ! کوئی رزق کا طالب ہے تاکہ میں اسے رزق عطا فرماؤں ، سن لو ! کوئی عافیت چاہتا ہے تاکہ میں اسے عافیت عطا فرماؤں ، سن لو ! ان ان چیزوں کا کوئی طالب ہے ؟ یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔

Hadith 1309
sahih
عَن أم هَانِئ قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ أَرَ صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ. وَقَالَتْ فِي رِوَايَة أُخْرَى: وَذَلِكَ ضحى
Urdu

ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے روز ان کے گھر تشریف لائے تو آپ نے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ، میں نے اس سے ہلکی نماز کبھی نہیں دیکھی البتہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود مکمل فرماتے تھے ، اور انہوں نے ایک دوسری روایت میں فرمایا : اور وہ نماز چاشت تھی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1310
sahih
وَعَن معَاذَة قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

معاذہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : چار رکعتیں ، اور جس قدر اللہ چاہتا بڑھا دیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 1311
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا من الضُّحَى» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر ایک پر اس کے تمام جوڑوں کا صدقہ کرنا ضروری ہے ، ہر قسم کی تسبیح (سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے ، ہر قسم کی حمد صدقہ ہے ، ہر مرتبہ لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے ، نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے ، برائی سے روکنا صدقہ ہے ، اور جو شخص چاشت کی دو رکعتیں پڑھ لیتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1312
sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحَى فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو نماز چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا : انہیں علم ہے کہ اس وقت کے علاوہ نماز (چاشت) پڑھنا افضل ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نماز اوابین کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچے کے پاؤں (شدت حرارت سے ریت گرم ہو جانے کی وجہ سے) گرمی محسوس کریں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1313
sahih
وَعَن أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: يَا ابْن آدم اركع لي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ: أَكْفِكَ آخِرَهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابودرداء ؓ اور ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کیا کہ اس نے فرمایا :’’ ابن آدم! دن کے اول وقت میرے لیے چار رکعتیں پڑھ ، تو میں تجھے دن کے آخر وقت تک کافی ہو جاؤں گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 1314
sahih
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ همار الْغَطَفَانِي وَأحمد عَنْهُم
Urdu

امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے جبکہ امام ابوداؤد اور امام دارمی نے نعیم بن ہماز غطفانی سے روایت کیا ہے اور امام احمد نے ان (تینوں صحابہ کرام) سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

Hadith 1315
sahih
وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ» قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: «النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ انسان میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں ، اور ہر جوڑ کے بدلے صدقہ کرنا اس پر لازم ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے نبی اتنی طاقت کون رکھتا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسجد سے بلغم کو صاف کر دینا ، راستہ سے کسی تکلیف کو دور کر دینا (صدقہ ہے)، پس اگر تو نہ پائے تو چاشت کی دو رکعتیں تیرے لیے کافی ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1316
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مَنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تیار کر دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ۔ ضعیف ۔

Hadith 1317
sahih
وَعَن معَاذ بن أنس الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

معاذ بن انس جہنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص نماز فجر پڑھنے کے بعد چاشت کی دو رکعتیں پڑھتا ہے اور وہ اس دوران خیر کے سوا کوئی بات نہیں کرتا ، تو اس کے گناہ ، خواہ سمندر کی جھاگ کے بھی برابر ہوں تب بھی وہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1318
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى غُفِرَتْ لَهُ ذنُوبه وَإِن كَانَت مثلا زَبَدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرتا ہے تو اس کے گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تب بھی وہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1319
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ ثُمَّ تَقُولُ: «لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تركتهَا» . رَوَاهُ مَالك
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتی تھیں ، پھر وہ فرماتی ہیں ، اگر میرے والدین بھی زندہ کر دیے جائیں تو میں (ان کی خاطر) اس (نماز چاشت) کو ترک نہیں کروں گی ۔ ضعیف ۔

Hadith 1320
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ: لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ: لَا يُصليهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز چاشت پڑھا کرتے تھے ، حتیٰ کہ ہم کہتے : اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے ، اور (کبھی) اسے چھوڑ دیتے تو ہم کہتے : اب آپ اسے نہیں پڑھیں گے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1321
sahih
وَعَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: تُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَعُمَرُ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَأَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إخَاله. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

موّرق عجلی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ سے دریافت کیا ، آپ نماز چاشت پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، میں نے پوچھا : عمر ؓ (پڑھتے تھے) ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، میں نے پوچھا : ابوبکر ؓ (پڑھتے تھے) انہوں نے فرمایا : نہیں ، میں نے پوچھا : نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (پڑھتے تھے) ؟ انہوں نے فرمایا : میرا خیال ہے نہیں پڑھتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 1322
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عمل عملته فِي الْإِسْلَام فَإِنِّي سَمِعت دق نعليك بَين يَدي الْجَنَّةِ» . قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لم أتطهر طهُورا مِنْ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر کے وقت بلال ؓ سے فرمایا :’’ بلال ! مجھے اس عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے حالت اسلام میں کیا ہو اور جس پر تمہیں ثواب کی بہت زیادہ امید ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز سنی ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : مجھے اپنے جس عمل پر ثواب کی بہت زیادہ امید ہے (وہ یہ ہے) کہ میں رات یا دن میں جس وقت بھی وضو کرتا ہوں تو میں اس وضو کے بعد جس قدر مقدر ہو نفل نماز پڑھتا ہوں ۔ متفق علیہ

Hadith 1323
sahih
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّك تَقْدِرُ وَلَا أقدر وَتعلم وَلَا أعلم وَأَنت علام الغيوب اللَّهُمَّ إِنَّ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أوقال فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقَدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ . قَالَ: «ويسمي حَاجته» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معاملات کے بارے میں ہمیں اس اہتمام کے ساتھ استخارہ سکھاتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعتیں نماز پڑھے پھر یہ دعا پڑھے : اے اللہ ! بے شک میں (اس کام میں) تجھ سے تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں اور (اس کے حصول کے لیے) تجھ سے تیری قدرت کے ذریعے قدرت مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فضل عظیم مانگتا ہوں ، بے شک تو (ہر چیز پر) قادر ہے اور میں (کسی چیز پر) قادر نہیں ، تو جانتا ہے جبکہ میں کچھ بھی نہیں جانتا ، اور تو تمام پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے ، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین ، میری زندگی اور میرے انجام کار ۔‘‘ یا فرمایا :’’ میری دنیا اور میری آخرت کے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر ، آسان کر اور پھر اس میں میرے لیے برکت پیدا فرما ، اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین ، میری زندگی اور میرے انجام کار ۔‘‘ یا فرمایا :’’ میری دنیا اور میری آخرت کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر و بھلائی مقدر فرما وہ جہاں کہیں بھی ہو ، پھر مجھے اس کے ساتھ راضی کر دے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اور وہ اپنی حاجت کا نام لے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔