عبداللہ بن ابی بکر بیان کرتے ہیں ، میں نے أبی ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : ہم رمضان میں تراویح سے اس وقت فارغ ہوا کرتے تھے کہ ہم سحری کے فوت ہو جانے اور فجر کے طلوع ہو جانے کے خوف کے پیش نظر خادموں کو کھانے کے متعلق جلدی کرنے کا حکم دیتے تھے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
عائشہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آپ جانتی ہیں کہ نصف شعبان کی رات کیا واقع ہوتا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس میں کیا واقع ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس سال پیدا ہونے والے اور اس سال فوت ہونے والے ہر شخص کا نام اس رات لکھ دیا جاتا ہے ، اسی رات ان کے اعمال اوپر چڑھتے ہیں اور اسی رات ان کا رزق نازل کیا جاتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی شخص جنت میں نہیں جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا :’’ اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی شخص جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا :’’ میں بھی نہیں ، جب تک اللہ اپنی طرف سے مجھے ڈھانپ نہ لے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنے بندوں پر خصوصی طور پر متوجہ ہوتا ہے اور وہ مشرک یا کینہ پرور کے سوا اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
امام احمد نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا ہے ، ان کی روایت میں ہے ،’’ دو : کینہ پرور اور خود کشی کرنے والے کے سوا (سب کو بخش دیتا ہے) ۔‘‘ ضعیف ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب نصف شعبان کی رات ہو تو تم اس رات قیام کرو ، اور اس دن کا روزہ رکھو ، کیونکہ اس رات آفتاب کے غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرما کر پوچھتا ہے :’’ سن لو ! کوئی مغفرت کا طلبگار ہے تاکہ میں اسے بخش دوں ، سن لو ! کوئی رزق کا طالب ہے تاکہ میں اسے رزق عطا فرماؤں ، سن لو ! کوئی عافیت چاہتا ہے تاکہ میں اسے عافیت عطا فرماؤں ، سن لو ! ان ان چیزوں کا کوئی طالب ہے ؟ یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔
ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے روز ان کے گھر تشریف لائے تو آپ نے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ، میں نے اس سے ہلکی نماز کبھی نہیں دیکھی البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود مکمل فرماتے تھے ، اور انہوں نے ایک دوسری روایت میں فرمایا : اور وہ نماز چاشت تھی ۔ متفق علیہ ۔
معاذہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : چار رکعتیں ، اور جس قدر اللہ چاہتا بڑھا دیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر ایک پر اس کے تمام جوڑوں کا صدقہ کرنا ضروری ہے ، ہر قسم کی تسبیح (سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے ، ہر قسم کی حمد صدقہ ہے ، ہر مرتبہ لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے ، نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے ، برائی سے روکنا صدقہ ہے ، اور جو شخص چاشت کی دو رکعتیں پڑھ لیتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو نماز چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا : انہیں علم ہے کہ اس وقت کے علاوہ نماز (چاشت) پڑھنا افضل ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز اوابین کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچے کے پاؤں (شدت حرارت سے ریت گرم ہو جانے کی وجہ سے) گرمی محسوس کریں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابودرداء ؓ اور ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کیا کہ اس نے فرمایا :’’ ابن آدم! دن کے اول وقت میرے لیے چار رکعتیں پڑھ ، تو میں تجھے دن کے آخر وقت تک کافی ہو جاؤں گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے جبکہ امام ابوداؤد اور امام دارمی نے نعیم بن ہماز غطفانی سے روایت کیا ہے اور امام احمد نے ان (تینوں صحابہ کرام) سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ انسان میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں ، اور ہر جوڑ کے بدلے صدقہ کرنا اس پر لازم ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے نبی اتنی طاقت کون رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسجد سے بلغم کو صاف کر دینا ، راستہ سے کسی تکلیف کو دور کر دینا (صدقہ ہے)، پس اگر تو نہ پائے تو چاشت کی دو رکعتیں تیرے لیے کافی ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تیار کر دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ۔ ضعیف ۔
معاذ بن انس جہنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص نماز فجر پڑھنے کے بعد چاشت کی دو رکعتیں پڑھتا ہے اور وہ اس دوران خیر کے سوا کوئی بات نہیں کرتا ، تو اس کے گناہ ، خواہ سمندر کی جھاگ کے بھی برابر ہوں تب بھی وہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرتا ہے تو اس کے گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تب بھی وہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتی تھیں ، پھر وہ فرماتی ہیں ، اگر میرے والدین بھی زندہ کر دیے جائیں تو میں (ان کی خاطر) اس (نماز چاشت) کو ترک نہیں کروں گی ۔ ضعیف ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز چاشت پڑھا کرتے تھے ، حتیٰ کہ ہم کہتے : اب آپ اسے نہیں چھوڑیں گے ، اور (کبھی) اسے چھوڑ دیتے تو ہم کہتے : اب آپ اسے نہیں پڑھیں گے ۔ ضعیف ۔
موّرق عجلی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ سے دریافت کیا ، آپ نماز چاشت پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، میں نے پوچھا : عمر ؓ (پڑھتے تھے) ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، میں نے پوچھا : ابوبکر ؓ (پڑھتے تھے) انہوں نے فرمایا : نہیں ، میں نے پوچھا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پڑھتے تھے) ؟ انہوں نے فرمایا : میرا خیال ہے نہیں پڑھتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے وقت بلال ؓ سے فرمایا :’’ بلال ! مجھے اس عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے حالت اسلام میں کیا ہو اور جس پر تمہیں ثواب کی بہت زیادہ امید ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز سنی ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : مجھے اپنے جس عمل پر ثواب کی بہت زیادہ امید ہے (وہ یہ ہے) کہ میں رات یا دن میں جس وقت بھی وضو کرتا ہوں تو میں اس وضو کے بعد جس قدر مقدر ہو نفل نماز پڑھتا ہوں ۔ متفق علیہ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاملات کے بارے میں ہمیں اس اہتمام کے ساتھ استخارہ سکھاتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعتیں نماز پڑھے پھر یہ دعا پڑھے : اے اللہ ! بے شک میں (اس کام میں) تجھ سے تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں اور (اس کے حصول کے لیے) تجھ سے تیری قدرت کے ذریعے قدرت مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فضل عظیم مانگتا ہوں ، بے شک تو (ہر چیز پر) قادر ہے اور میں (کسی چیز پر) قادر نہیں ، تو جانتا ہے جبکہ میں کچھ بھی نہیں جانتا ، اور تو تمام پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے ، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین ، میری زندگی اور میرے انجام کار ۔‘‘ یا فرمایا :’’ میری دنیا اور میری آخرت کے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر ، آسان کر اور پھر اس میں میرے لیے برکت پیدا فرما ، اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین ، میری زندگی اور میرے انجام کار ۔‘‘ یا فرمایا :’’ میری دنیا اور میری آخرت کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر و بھلائی مقدر فرما وہ جہاں کہیں بھی ہو ، پھر مجھے اس کے ساتھ راضی کر دے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اور وہ اپنی حاجت کا نام لے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔