جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک رات میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس وقت کوئی مسلمان شخص دنیا و آخرت کی جو بھی چیز اللہ سے مانگتا ہے تو وہ اسے وہی چیز عطا فرما دیتا ہے ، اور یہ ہر رات ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ داؤد ؑ کی نماز اور داؤد ؑ کا روزہ اللہ کو انتہائی محبوب ہے ، آپ نصف شب سوتے اور تہائی رات قیام کرتے تھے پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے (یعنی چھوڑتے) تھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کا ابتدائی حصہ سوتے اور آخری حصہ (تہجد پڑھتے ہوئے) جاگتے تھے ، پھر اگر آپ نے تعلق زن و شو قائم کرنا ہوتا تو قائم کرتے ، پھر سو جاتے ، اگر آپ اذان اول کے وقت جنبی ہوتے تو آپ جلدی سے غسل فرماتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو نماز کے لیے وضو کرتے ، پھر دو رکعتیں پڑھتے ۔ متفق علیہ ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نماز تہجد پڑھا کرو ، کیونکہ وہ تم سے پہلے صالحین کی روش ہے ، تمہارے رب کا قرب حاصل کرنے ، گناہوں کی معافی اور گناہوں سے باز رہنے کا ذریعہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں پر اللہ خوش ہوتا ہے : وہ آدمی جو نماز تہجد پڑھتا ہے ، وہ لوگ جو نماز کے لیے صف بندی کرتے ہیں ، اور وہ لوگ جو دشمن کے خلاف لڑنے کے لیے صف بندی کرتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
عمرو بن عبسہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ رات کے آخری حصے میں رب تعالیٰ بندے کے انتہائی قریب ہوتا ہے ، اگر تم اس وقت اللہ کو یاد کرنے والوں میں شامل ہو سکو تو ہو جاؤ ۔‘‘ اور امام ترمذی میں نے فرمایا : یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن صحیح غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس بندے پر رحم فرمائے جو رات اٹھ کر تہجد پڑھے ، اپنی اہلیہ کو جگائے اور وہ نماز پڑھے ، لیکن اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکے ۔ اللہ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر تہجد پڑھے ، اپنے خاوند کو اٹھائے اور وہ نماز پڑھے ، لیکن اگر وہ انکار کرے تو وہ اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ، عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کون سی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد کی گئی دعا ۔‘‘ ضعیف ۔
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں کچھ ایسے کمرے ہیں (جو اس قدر شفاف ہیں) کہ ان کا ظاہر ان کے باطن سے اور ان کا باطن ان کے ظاہر سے نظر آتا ہو گا ، اللہ نے انہیں ایسے لوگوں کے لیے تیار کیا ہے جو نرم گفتگو کرتے ہیں ، کھانا کھلاتے ہیں ، کثرت سے (نفل) روزے رکھتے ہیں اور نماز تہجد پڑھتے ہیں جبکہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ عبداللہ ! فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا ، وہ تہجد پڑھا کرتا تھا لیکن اب اس نے تہجد پڑھنا چھوڑ دی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عثمان بن ابی العاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ داؤد ؑ کے لیے رات کی ایک گھڑی تھی جس میں وہ اپنے اہل خانہ کو جگاتے ہوئے فرماتے تھے : آل داؤد ! کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو ، کیونکہ اس گھڑی میں اللہ عزوجل جادوگر اور محصول وصول کرنے والے کی دعا کے سوا ہر دعا قبول فرماتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ فرض نماز کے بعد رات کے آخری حصے میں پڑھی گئی نماز سب سے بہتر ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : فلاں شخص رات کو تہجد پڑھتا ہے اور جب صبح ہوتی ہے چوری کرتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک وہ عنقریب تمہاری بتائی ہوئی بات (نماز) اسے روک دے گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی رات کے وقت اپنی اہلیہ کو جگاتا ہے تو وہ دونوں نماز پڑھتے ہیں یا وہ دونوں اکٹھے دو رکعتیں پڑھتے ہیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھ دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد عمر بن خطاب ؓ جس قدر اللہ چاہتا نماز تہجد پڑھتے رہتے حتیٰ کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو آپ اپنے اہل خانہ کو نماز کے لیے اٹھاتے تو انہیں کہتے : نماز (پڑھو یا نماز کا وقت ہو گیا ہے) ۔ پھر آپ یہ آیت تلاوت فرماتے :’’ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں ، اور اس پر قائم رہیں ، ہم آپ سے روزی کے طالب نہیں ، بلکہ ہم آپ کو رزق دیتے ہیں ، اور عاقبت تو پرہیز گاروں ہی کے لیے ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مہینے اس قدر افطار کرتے کہ ہم خیال کرتے کہ آپ اس ماہ روزہ نہیں رکھیں گے ۔ اور کبھی اس قدر روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم خیال کرتے کہ آپ اس ماہ بالکل افطار (ناغہ) ہی نہیں کریں گے ، ایسے ہی اگر آپ کو نماز تہجد پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہو تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ سکتے ہو اور اگر تم آپ کو سویا ہوا دیکھنا چاہو تو سویا ہوا دیکھ سکتے ہو ۔‘‘
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کو وہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہے جس پر دوام ہو خواہ وہ قلیل ہی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسے اعمال کیا کرو جن کی تم طاقت رکھتے ہو ، کیونکہ اللہ نہیں اکتاتا لیکن تم اکتا جاؤ گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔