سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر ؓ و عمر ؓ کے دور میں جمعہ کے روز جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تب پہلی اذان کہی جاتی تھی ، پس جب عثمان ؓ کا دور آیا ۔ اور لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے مقام زوراء پر تیسری اذان کا اضافہ فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دو خطبے دیا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے درمیان بیٹھتے تھے ۔ آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے ۔ آپ کا خطبہ اور نماز متوسط ہوتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بیشک آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور اس کے خطبے کا مختصر ہونا اس کے فقیہ ہونے کی علامت ہے ۔ تم نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر کرو ، اور بیشک بعض بیان سحر انگیز ہوتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں ، آواز بلند ہو جاتی اور غصہ شدید ہو جاتا ، حتیٰ کہ یہ کیفیت ہو جاتی گویا آپ کسی حملہ آور لشکر سے آگاہ کرتے ہوئے فرما رہے ہوں :’’ وہ صبح یا شام تم پر حملہ آور ہونے والا ہے ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ مجھے (ایسے وقت میں) مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں ۔‘‘ آپ درمیانی انگی اور انگشت شہادت کو باہم ملاتے ۔ رواہ مسلم ۔
یعلیٰ بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا :’’ وہ (جہنمی) کہیں گے اے مالک ! (دربان دوزخ) تیرا رب ہمیں موت ہی دے دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ام شام بن حارثہ بن نعمان ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے سورۂ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن سن کر یاد کی ، آپ ہر جمعہ جب منبر پر لوگوں سے خطاب فرماتے تو اسے پڑھا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
عمرو بن حریث ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن خطاب فرمایا تو آپ کے سر پر سیاہ پگڑی تھی جبکہ آپ نے اس کے دونوں کنارے (پلو) اپنے کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ کے دوران فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن دوران خطبہ میں مسجد میں آئے تو وہ دو مختصر رکعتیں پڑھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص نماز (جمعہ) کی ایک رکعت پا لے تو اس نے نماز پا لی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو خطبے دیا کرتے تھے ۔ جب آپ منبر پر چڑھتے تو مؤذن کے فارغ ہونے تک منبر پر بیٹھتے تھے ۔ پھر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ۔ پھر بیٹھ جاتے اس دوران آپ کوئی بات نہ کرتے ، پھر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ۔ ضعیف ، رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھتے تو ہم آپ کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ۔ ترمذی اور انہوں نے فرمایا : ہم صرف محمد بن فضل کی سند سے اس حدیث کو جانتے ہیں ، جبکہ وہ ضعیف اور سوء حفظ ہے ۔ ضعیف ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے پھر آپ بیٹھتے ، پھر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ، اگر کوئی شخص تمہیں یہ بتائے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے تو اس نے کذب بیانی کی ، اللہ کی قسم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھ چکا ہوں ۔ رواہ مسلم ۔
کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو عبدالرحمن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے ۔ انہوں نے (اسے بیٹھا ہوا دیکھ کر) کہا : اس خبیث شخص کو دیکھو کہ وہ بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :’’ جب انہوں نے تجارت اور کھیل دیکھی تو وہ اس طرف بھاگ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑے ہوئے چھوڑ گئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمارہ بن رویبہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بشیر بن مروان کو منبر پر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا : اللہ ان دونوں ہاتھوں کو تباہ کرے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صرف اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا کرتے تھے ۔ اور انہوں نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز منبر پر چڑھے تو فرمایا :’’ بیٹھ جاؤ ۔‘‘ ابن مسعود ؓ نے یہ بات سنی تو باب مسجد پر ہی بیٹھ گئے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا :’’ عبداللہ بن مسعود ؓ ! آگے آ جاؤ ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جمعہ کی ایک رکعت پا لے تو وہ اس کے ساتھ ایک اور کعت ملا لے ، اور جس کی دونوں رکعتیں فوت ہو جائیں تو وہ چار رکعتیں پڑھے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ ظہر پڑھے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔
سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں نجد کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا ، ہم دشمن کے مقابل صف آراء ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے رہی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ شریک افراد نے ایک رکوع کیا اور دو سجدے کیے ، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ چلے گئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی ، وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کیے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیر دیا ، ان میں سے ہر ایک کھڑا ہوا تو انہوں نے اپنے طور پر ایک ایک رکوع کیا اور دو دو سجدے کیے ، اور نافع ؒ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اور انہوں نے اضافہ نقل کیا ہے : جب خوف اس سے زیادہ ہو تو پھر پیادہ یا سوار قبلہ رخ ہو یا قبلہ رخ نہ ہو جس طرح ممکن ہوتا نماز پڑھتے ۔ نافع ؒ بیان کرتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ ابن عمر ؓ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی سے روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
یزید بن رومان ؒ ، صالح بن خوات ؒ سے اور وہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی : ایک جماعت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنائی جبکہ دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھی ، جو جماعت آپ کے ساتھ تھی ان کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر آپ کھڑے رہے ، اور اس جماعت نے اپنے طور پر نماز پوری کی اور جا کر دشمن کے سامنے صف بنا لی پھر دوسری جماعت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نماز کی باقی رکعت انہیں پڑھائی ، پھر آپ بیٹھے رہے ، اور انہوں نے اپنے طور پر نماز مکمل کی ، پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا ۔ بخاری ، مسلم ۔ امام بخاری ؒ نے ایک دوسری سند سے قاسم عن صالح بن خوات عن سھل بن ابی حشمہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم ذات الرقاع پہنچے ، جابر ؓ کا بیان ہے : جب ہم کوئی سایہ دار درخت پاتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چھوڑ دیا کرتے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مشرک آدمی آیا ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی ۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار پکڑ کر نیام سے نکالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنے لگا : کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا : آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ مجھے تم سے بچائے گا ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے اسے ڈرایا دھمکایا تو اس نے تلوار نیام میں ڈال دی اور اسے (درخت کے ساتھ ہی) لٹکا دیا ، راوی بیان کرتے ہیں نماز کے لیے اذان دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر وہ جماعت پیچھے ہٹ گئی اور آپ نے دوسری جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں ، راوی بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی ان کی دو دو رکعتیں ہوئیں ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی ، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں جبکہ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم سب نے بھی تکبیر کہی ، پھر آپ نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا ، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے بھی رکوع سے سر اٹھایا ، پھر آپ اور آپ کے ساتھ والی صف سجدہ میں چلی گئی ، اور دوسری صف دشمن کے سامنے سینہ سپر رہی ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کر چکے تو آپ کے ساتھ والی صف کھڑی ہو گئی تو پچھلی صف سجدہ کے لیے جھکی پھر وہ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے تو پچھلی صف آگے بڑھی اور اگلی صف پیچھے آ گئی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا ، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے بھی رکوع سے سر اٹھایا ، پھر آپ کے ساتھ والی صف جو کہ پہلی رکعت میں پیچھے تھی ، سجدے میں چلے گئے اور پچھلی صف دشمن کے سامنے سینہ سپر رہی ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف سجدے کر چکی تو پچھلی صف سجدے میں چلی گئی ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا ، اور ہم سب نے بھی سلام پھیرا ۔ رواہ مسلم ۔