Narrated Ibn `Abbas:رضی اللہ عنہما
The Prophet (ﷺ) was asked by a man who said, "I have done the Rami in the evening." The Prophet (ﷺ) replied, "There is no harm in it." Another man asked, "I had my head shaved before the slaughtering." The Prophet (ﷺ) replied, "There is no harm in it."
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے مسئلہ پوچھا کہ شام ہونے کے بعد میں نے رمی کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔ سائل نے کہا کہ قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈا لیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
I came upon Allah's Messenger (ﷺ) when he was at Al-Batha. He asked me, "Have you intended to perform the Hajj?" I replied in the affirmative. He asked, "For what have you assumed lhram?" I replied," I have assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet (ﷺ) ." The Prophet (ﷺ) said, "You have done well! Go and perform Tawaf round the Ka`ba and between Safa and Marwa." Then I went to one of the women of Bani Qais and she took out lice from my head. Later, I assumed the Ihram for Hajj. So, I used to give this verdict to the people till the caliphate of `Umar. When I told him about it, he said, "If we take (follow) the Holy Book, then it orders us to complete Hajj and `Umra (Hajj-at- Tamattu`) and if we follow the tradition of Allah's Messenger (ﷺ) then Allah's Messenger (ﷺ) did not finish his lhram till the Hadi had reached its destination (had been slaughtered). (i.e. Hajj-al-Qiran). (See Hadith No. 630)
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں قیس بن مسلم نے ، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بطحاء میں تھے ۔ ( جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو نے حج کی نیت کی ہے ؟ میں نے کہا کہ ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا اب جا ۔ چنانچہ ( مکہ پہنچ کر ) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی ، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالی ۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری ۔ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا پھر جب میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہئے اورکہ اس میں حج اور عمرہ پورا کرنے کا حکم ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Hafsa رضی اللہ عنہا said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What is wrong with the people; they finished their Ihram after performing `Umra, but you have not finished it after your `Umra?" He replied, "I matted my hair and have garlanded my Hadi. So, I cannot finish my Ihram till I slaughter (my Hadi). "
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر لیا اورحلال نہ ہوئے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں ( اپنے ساتھ ) لایا ہوں ، اس لیے جب تک میں نحر نہ کر لوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) (got) his head shaved after performing his Hajj.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Be merciful to those who have their head shaved." The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! And (invoke Allah for) those who get their hair cut short." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Be merciful to those who have their head shaved." The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! And those who get their hair cut short." The Prophet (ﷺ) said (the third time), "And to those who get their hair cut short." Nafi` said that the Prophet (ﷺ) had said once or twice, "O Allah! Be merciful to those who get their head shaved," and on the fourth time he added, "And to those who have their hair cut short."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی اور کتروانے والوں پر ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی دعا کی اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ! صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر عرض کی اور کتروانے والوں پر ؟ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں پر بھی ، لیث نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ نے سر منڈوانے والوں پر رحم کیا ایک یا دو مرتبہ ، انہوں نے بیان کیا کہ عبیداللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ چوتھی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کتروانے والوں پر بھی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Forgive those who get their heads shaved." The people asked. "Also those who get their hair cut short?" The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Forgive those who have their heads shaved." The people said, "Also those who get their hair cut short?" The Prophet (invoke Allah for those who have their heads shaved and) at the third time said, "also (forgive) those who get their hair cut short."
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا ، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما ! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کے لیے بھی ( یہی دعا فرمائیے ) لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا اے اللہ ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت کر ۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کی بھی ! تیسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) and some of his companions got their heads shaved and some others got their hair cut short.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے ، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اصحاب نے سر منڈوایا تھا لیکن بعض نے کتروایا بھی تھا ۔
Narrated Muawiya رضی اللہ عنہ :
I cut short the hair of Allah's Messenger (ﷺ) with a long blade.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا ، ان سے حسن بن مسلم نے بیان کیا ، ان سے طاؤس نے بیان کیا ، ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When the Prophet (ﷺ) came to Mecca, he ordered his Companions to perform Tawaf round the Ka`ba and between Safa and Marwa, to finish their Ihram and get their hair shaved off or cut short.
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا ، ان سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ، انہیں کریب نے خبر دی ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو یہ حکم دیا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیں پھر سر منڈوا لیں یا بال کتروا لیں ۔
Narrated Nafi:
'Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما performed only one Tawaf. He would take an afternoon nap and then return to Mina. That was on the day of Nahr (slaughtering). Abdur Razzaq has reported it from Obaidullah connected it to Allah's Apostle ﷺ.
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، ان سے نافع نے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک طواف الزیارۃ کیا پھر سویرے سے منیٰ کو آئے ، ان کی مراد دسویں تاریخ سے تھی ، عبدالرزاق نے اس حدیث کا رفع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ) بھی کیا ہے ۔ انہیں عبیداللہ نے خبر دی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
We performed Hajj with the Prophet (ﷺ) and performed Tawaf-al-ifada on the Day of Nahr (slaughtering). Safiya got her menses and the Prophets desired from her what a husband desires from his wife. I said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! She is having her menses." He said, "Is she going to detain us?" We informed him that she had performed Tawaf-al-Ifada on the Day of Nahr He said: Then move on! Aswad has reported from Hadrat Aishah that Hadrat Sufiyah had performed the circumambulation of visit on the day of sacrifice.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے لیث نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن ربیعہ نے ، ان سے اعرج نے انھوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
ہم نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا لیکن صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی چاہا جو شوہر اپنی بیوی سے چاہتا ہے ، تو میں نے کہا یا رسول اللہ ! وہ حائضہ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس نے تو ہمیں روک دیا پھر جب لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کر لیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلے چلو ۔ قاسم ، عروہ اور اسود سے بواسطہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا تھا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) was asked about the slaughtering, shaving (of the head), and the doing of Rami before or after the due times. He said, "There is no harm in that."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ابن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کرنے ، سر منڈانے ، رمی جمار کرنے اور ان سے آگے پیچھے کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) was asked (as regards the ceremonies of Hajj) at Mina on the Day of Nahr and he replied that there was no harm. Then a man said to him, "I got my head shaved before slaughtering." He replied, "Slaughter (now) and there is no harm in it." (Another) man said, "I did the Rami (of the Jimar) after midday." The Prophet (ﷺ) replied, "There was no harm in it."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے خالد نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر میں منیٰ میں مسائل پوچھے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے تو آپ نے اس کے جواب میں بھی یہی فرمایا کہ جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں اور اس نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے کنکریاں شام ہونے کے بعد ہی مار لی ہیں ، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) stopped (for a while near the Jimar at Mina) during his last Hajj and the people started asking him questions. A man said, "Ignorantly I got my head shaved before slaughtering." The Prophet replied, "Slaughter (now) and there is no harm in it." Another man said, "Unknowingly I slaughtered the Hadi before doing the Rami." The Prophet (ﷺ) said, "Do Rami now and there is no harm in it." So, on that day, when the Prophet (ﷺ) was asked about anything (about the ceremonies of Hajj) done before or after (its stated time) his reply was, "Do it (now) and there is no harm."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عیسیٰ بن طلحہ نے ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر ( اپنی سواری ) پر بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل معلوم کئے جا رہے تھے ۔ ایک شخص نے کہا حضور مجھ کو معلوم نہ تھا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ، دوسرا شخص آیا اور بولا حضور مجھے خیال نہ رہا اور رمی جمار سے پہلے ہی میں نے قربانی کر دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں ، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے آگے پیچھے کرنے کے متعلق سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اب کر لو کوئی حرج نہیں ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As رضی اللہ عنہما :
I witnessed the Prophet (ﷺ) when he was delivering the sermon on the Day of Nahr. A man stood up and said, "I thought that such and such was to be done before such and such. I got my hair shaved before slaughtering." (Another said), "I slaughtered the Hadi before doing the Rami." So, the people asked about many similar things. The Prophet (ﷺ) said, "Do it (now) and there is no harm in all these cases." Whenever the Prophet (ﷺ) was asked about anything on that day, he replied, "Do it (now) and there is no harm in it."
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے تو وہ وہاں موجود تھے ۔ ایک شخص نے اس وقت کھڑے ہو کر پوچھا کہ میں اس خیال میں تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے ، چنانچہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈالیا ، رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی ، اور مجھے اس میں شک ہوا ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب کر لو ۔ ان سب میں کوئی حرج نہیں ۔ اسی طرح کے دوسرے سوالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے جواب میں یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کر لو ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) stopped while on his she-camel (the sub-narrator then narrated the Hadith as above, i.e. 793). Mamar corroborated him from Zuhri.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ، ان سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے بتلایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سواری پر سوا رہو کر ٹھہرے رہے پھر پوری حدیث بیان کی ۔ اس کی متابعت معمر نے زہری سے روایت کر کے کی ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما:
"Allah's Messenger (ﷺ) delivered a sermon on the Day of Nahr, and said, 'O people! (Tell me) what is the day today?' The people replied, 'It is the forbidden (sacred) day.' He asked again, 'What town is this?' They replied, 'It is the forbidden (Sacred) town.' He asked, 'Which month is this?' They replied, 'It is the forbidden (Sacred) month.' He said, 'No doubt! Your blood, your properties, and your honor are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this (sacred) town (Mecca) of yours, in this month of yours.' The Prophet (ﷺ) repeated his statement again and again. After that he raised his head and said, 'O Allah! Haven't conveyed (Your Message) to them'. Haven't I conveyed Your Message to them?' " Ibn `Abbas added, "By Him in Whose Hand my soul is, the following was his will (Prophet's will) to his followers:--It is incumbent upon those who are present to convey this information to those who are absent Beware don't renegade (as) disbelievers (turn into infidels) after me, Striking the necks (cutting the throats) of one another.' "
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے فضل بن غزوان نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
دسویں تاریخ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ دیا ، خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو ! آج کون سا دن ہے ؟ لوگ بولے یہ حرمت کا دن ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا اور یہ شہر کون سا ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا شہر ہے ، آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا مہینہ ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس تمہارا خون تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت ، اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے ، اس کلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا اے اللہ ! کیا میں نے ( تیرا پیغام ) پہنچا دیا اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس ذا ت کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت اپنی تمام امت کے لیے ہے ، لہٰذا حاضر ( اور جاننے والے ) غائب ( اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام ) پہنچا دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon at `Arafat. Ibn-e-Oyainah corroborated him from Amr.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی ، کہا کہ میں نے جابر بن زید سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ
میدان عرفات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ میں نے خود سنا تھا ۔ اس کی متابعت ابن عیینہ نے عمرو سے کی ہے ۔
Narrated Abu Bakra رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) delivered to us a sermon on the Day of Nahr. He said, "Do you know what is the day today?" We said, "Allah and His Apostle know better." He remained silent till we thought that he might give that day another name. He said, "Isn't it the Day of Nahr?" We said, "It is." He further asked, "Which month is this?" We said, "Allah and His Apostle know better." He remained silent till we thought that he might give it another name. He then said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We replied: "Yes! It is." He further asked, "What town is this?" We replied, "Allah and His Apostle know it better." He remained silent till we thought that he might give it another name. He then said, "Isn't it the forbidden (Sacred) town (of Mecca)?" We said, "Yes. It is." He said, "No doubt, your blood and your properties are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this month of yours, in this town of yours, till the day you meet your Lord. No doubt! Haven't I conveyed Allah's message to you? They said, "Yes." He said, "O Allah! Be witness. So it is incumbent upon those who are present to convey it (this information) to those who are absent because the informed one might comprehend it (what I have said) better than the present audience, who will convey it to him. Beware! Do not renegade (as) disbelievers after me by striking the necks (cutting the throats) of one another."
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا ، ان سے قرہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ایک اور شخص نے جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن سے بھی افضل ہے یعنی حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ سنایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو ! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ قربانی کا دن نہیں ۔ ہم بولے ہاں ضرور ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے لیے ۔ آپ اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا نام کوئی اور نام رکھیں گے ، لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ؟ ہم بولے کیوں نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ شہر کون سا ہے ؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے ، تاآنکہ تم اپنے رب سے جاملو ۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا ؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! تو گواہ رہنا اور ہاں ! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ ( پیغام کو ) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی ( ناحق ) گردنیں مارنے لگو ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
At Mina, the Prophet (ﷺ) said, "Do you know what is the day today?" The people replied, "Allah and His Apostle know it better." He said, "It is the forbidden (sacred) day. And do you know what town is this?" They replied, "Allah and His Apostle know it better." He said, "This is the forbidden (Sacred) town (Mecca). And do you know which month is this?" The people replied, "Allah and His Apostle know it better." He said, "This is the forbidden (sacred) month." The Prophet (ﷺ) added, "No doubt, Allah made your blood, your properties, and your honor sacred to one another like the sanctity of this day of yours in this month of yours in this town of yours." Narrated Ibn `Umar: On the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja), the Prophet (ﷺ) stood in between the Jamrat during his Hajj which he performed (as in the previous Hadith) and said, "This is the greatest Day (i.e. 10th of Dhul-Hijjah)." The Prophet (ﷺ) started saying repeatedly, "O Allah! Be Witness (I have conveyed Your Message)." He then bade the people farewell. The people said, "This is Hajjat-al-Wada`)."
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی ، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے ! آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے ، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون ! تمہارا مال اور عزت ایک دوسرے پر ( ناحق ) اس طرح حرام کر دی ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے ۔ ہشام بن غاز نے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ دیکھو ! یہ ( «يوم النحر» ) حج اکبر کا دن ہے ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے کہ اے اللہ ! گواہ رہنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر چونکہ لوگوں کو رخصت کیا تھا ۔ ( آپ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا ) جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے ۔