Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) used to enter Mecca from the high Thaniya and used to leave Mecca from the low Thaniya.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، ان سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بلند گھاٹی ( یعنی جنت المعلیٰ ) کی طرف سے داخل ہوتے اور نکلتے ”ثنیہ سفلیٰ“ کی طرف سے یعنی نیچے کی گھاٹی ( باب شبیکہ ) کی طرف سے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) entered Mecca from Kada' from the highest Thaniya which is at Al-Batha' and used to leave Mecca from the low Thaniya.
ہم سے مسدد بن مسرہد بصریٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ثنیہ علیا“ یعنی مقام کداء کی طرف سے داخل ہوتے جو بطحاء میں ہے اور ”ثنیہ سفلیٰ“ کی طرف سے نکلتے تھے یعنی نیچے والی گھاٹی کی طرف سے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When the Prophet (ﷺ) came to Mecca he entered from its higher side and left from its lower side.
ہم حمیدی اور محمدبن مثنیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو اوپر کی بلند جانب سے شہر کے اندر داخل ہوئے اور ( مکہ سے ) واپس جب گئے تو نیچے کی طرف سے نکل گئے ۔
Narrated `Aisha' رضی اللہ عنہا :
In the year of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) entered Mecca from Kada' and left Mecca from Kuda, from the higher part of Mecca.
ہم سے محمود بن غیلان مروزی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ۔ ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر شہر میں کداء کی طرف سے داخل ہوئے اور کدیٰ کی طرف سے نکلے جو مکہ کے بلند جانب ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
In the year of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) entered Mecca from Kada' at the higher place of Mecca. (Hisham, a sub-narrator said, " `Urwa used to enter (Mecca) from both Kada' and Kuda and he often entered through Kada' which was nearer to his dwelling place.)"
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ ابن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی اور انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ موقع پر داخل ہوتے وقت مکہ کے بالائی علاقہ کداء سے داخل ہوئے ۔ ہشام نے بیان کیا کہ عروہ اگرچہ کداء اور کدیٰ دونوں طرف سے داخل ہوتے تھے لیکن اکثر کدیٰ سے داخل ہوتے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا ۔
Narrated `Urwa:
"The Prophet (ﷺ) entered Mecca in the year of the conquest of Mecca from the side of Kada' which is at the higher part of Mecca." `Urwa often entered from Kada' which was nearer of the two to his dwelling place.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے ہشام سے بیان کیا ، ان سے عروہ نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ کے بالائی علاقہ کداء کی طرف سے داخل ہوئے تھے ۔ لیکن عروہ اکثر کدیٰ کی طرف سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا ۔
Narrated Hisham from his father:
In the year of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) entered Mecca from the side of Kada. `Urwa used to enter through both places and he often entered through Kada' which was nearer of the two to his dwelling place. Imam Abu Abdullah Bukhari said: Kada and Kuda both are places.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ہشام نے اپنے باپ سے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر کداء سے داخل ہوئے تھے ۔ عروہ خود اگرچہ دونوں طرف سے ( کداء اور کدیٰ ) داخل ہوتے لیکن اکثر آپ کدیٰ کی طرف سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا ۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ کداء اور کدیٰ دو مقامات کے نام ہیں ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
When the Ka`ba was built, the Prophet (ﷺ) and `Abbas رضی اللہ عنہ went to bring stones (for its construction). Al `Abbas رضی اللہ عنہ said to the Prophet, "Take off your waist sheet and put it on your neck." (When the Prophet (ﷺ) took it off) he fell on the ground with his eyes open towards the sky and said, "Give me my waist sheet." And he covered himself with it.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عمرو بن دینا ر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
( زمانہ جاہلیت میں ) جب کعبہ کی تعمیر ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عباس رضی اللہ عنہ بھی پتھر اٹھا کر لا رہے تھے ۔ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنا تہبند اتار کر کاندھے پر ڈال لو ( تاکہ پتھر اٹھانے میں تکلیف نہ ہو ) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ننگے ہوتے ہی بیہوش ہو کر آپ زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں ۔ آپ کہنے لگے مجھے میرا تہبند دے دو ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مضبوط باندھ لیا ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet):
"Do you know that when your people (Quraish) rebuilt the Ka`ba, they decreased it from its original foundation laid by Abraham?" I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why don't you rebuild it on its original foundation laid by Abraham?" He replied, "Were it not for the fact that your people are close to the Pre-Islamic Period of ignorance (i.e. they have recently become Muslims) I would have done so." The sub-narrator, `Abdullah (bin `Umar ) stated: `Aisha 'must have heard this from Allah's Messenger (ﷺ) for in my opinion Allah's Messenger (ﷺ) had not placed his hand over the two corners of the Ka`ba opposite Al-Hijr only because the Ka`ba was not rebuilt on its original foundations laid by Abraham. Hadrat Abdullah said: If Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا heard from Allah Apostle (ﷺ) then I think this is the reason that Allah Apostle abandoned to kiss (touch with respect) these both pillars which are closed to the Black stone for Allah's House was not lifted up on the foundations laid by Hadrat Ibrahim.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے سالم بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن محمد بن ابی بکر نے انہیں خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبردی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ
تجھے معلوم ہے جب تیری قوم نے کعبہ کی تعمیر کی تو بنیاد ابراہیم کو چھوڑ دیا تھا ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر آپ بنیاد ابراہیم پر اس کو کیوں نہیں بنا دیتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے بالکل نزدیک نہ ہوتا تو میں بیشک ایسا کر دیتا ۔ ¤ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ( اور یقیناً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سچی ہیں ) تو میں سمجھتا ہوں یہی وجہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے متصل جو دیواروں کے کونے ہیں ان کو نہیں چومتے تھے ۔ کیونکہ خانہ کعبہ ابراہیمی بنیادوں پر پورا نہ ہوا تھا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I asked the Prophet (ﷺ) whether the round wall (near Ka`ba) was part of the Ka`ba. The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative. I further said, "What is wrong with them, why have they not included it in the building of the Ka`ba?" He said, "Don't you see that your people (Quraish) ran short of money (so they could not include it inside the building of Ka`ba)?" I asked, "What about its gate? Why is it so high?" He replied, "Your people did this so as to admit into it whomever they liked and prevent whomever they liked. Were your people not close to the Pre-Islamic Period of ignorance (i.e. they have recently embraced Islam) and were I not afraid that they would dislike it, surely I would have included the (area of the) wall inside the building of the Ka`ba and I would have lowered its gate to the level of the ground."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم جعفی نے بیان کیا ، ان سے اشعت نے بیان کیا ، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، پھر میں نے پوچھا کہ پھر لوگوں نے اسے کعبے میں کیوں نہیں شامل کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کی کمی پڑ گئی تھی ۔ پھر میں نے پوچھا کہ یہ دروازہ کیوں اونچا بنایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی تمہاری قوم ہی نے کیا تاکہ جسے چاہیں اندر آنے دیں اور جسے چاہیں روک دیں ۔ اگر تمہاری قوم کی جاہلیت کا زمانہ تازہ تازہ نہ ہوتا اور مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل بگڑ جائیں گے تو اس حطیم کو بھی میں کعبہ میں شامل کر دیتا اور کعبہ کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "Were your people not close to the Pre-Islamic period of ignorance, I would have demolished the Ka`ba and would have rebuilt it on its original foundations laid by Abraham (for Quraish had curtailed its building), and I would have built a back door (too)." Moaviyah reported from Hisham that خَلْفًا means a door.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ، اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے ابھی تازہ نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو توڑ کر اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر بناتا کیونکہ قریش نے اس میں کمی کر دی ہے ۔ اس میں ایک دروازہ اور اس دروازے کے مقابل رکھتا ۔ ابومعاویہ نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ۔ حدیث میں «خلف» سے دروازہ مراد ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said to her, "O Aisha! Were your nation not close to the Pre-Islamic Period of Ignorance, I would have had the Ka`ba demolished and would have included in it the portion which had been left, and would have made it at a level with the ground and would have made two doors for it, one towards the east and the other towards the west, and then by doing this it would have been built on the foundations laid by Abraham." That was what urged Ibn-Az-Zubair رضی اللہ عنہما to demolish the Ka`ba. Yazeed said, "I saw Ibn-Az-Zubair رضی اللہ عنہما when he demolished and rebuilt the Ka`ba and included in it a portion of Al-Hijr (the unroofed portion of Ka`ba which is at present in the form of a compound towards the northwest of the Ka`ba). I saw the original foundations of Abraham which were of stones resembling the humps of camels." So Jarir asked Yazid, "Where was the place of those stones?" Jazz said, "I will just now show it to you." So Jarir accompanied Yazid and entered Al-Hijr, and he pointed to a place and said, "Here it is." Jarir said, "It appeared to me about six cubits from Al-Hijr or so."
ہم سے بیان بن عمرو نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہاروں نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن رومان نے بیان کیا ، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عائشہ ! اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت ابھی تازہ نہ ہوتا ، تو میں بیت اللہ کو گرانے کا حکم دے دیتا تاکہ ( نئی تعمیر میں ) اس حصہ کو بھی داخل کر دوں جو اس سے باہر رہ گیا ہے اور اس کی کرسی زمین کے برابر کر دوں اور اس کے دو دروازے بنا دوں ، ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں ۔ اس طرح ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر اس کی تعمیر ہو جاتی ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا کعبہ کو گرانے سے یہی مقصد تھا ۔ یزید نے بیان کیا کہ میں اس وقت موجود تھا جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرایا تھا اور اس کی نئی تعمیر کر کے حطیم کو اس کے اندر کر دیا تھا ۔ میں نے ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کے پائے بھی دیکھے جو اونٹ کی کوہان کی طرح تھے ۔ جریر بن حازم نے کہا کہ میں نے ان سے پوچھا ، ان کی جگہ کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ابھی دکھاتا ہوں ۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ حطیم میں گیا اور آپ نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ وہ جگہ ہے ۔ جریر نے کہا کہ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ جگہ حطیم میں سے چھ ہاتھ ہو گی یا ایسی ہی کچھ ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
On the Day of the Conquest of Mecca, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has made this town a sanctuary. Its thorny bushes should not be cut, its game should not be chased, and its fallen things should not be picked up except by one who would announce it publicly."
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے بیان کیا ان سے مجاہد نے ، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ پر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر ( مکہ ) کو حرمت والا بنایا ہے ( یعنی عزت دی ہے ) پس اس کے ( درختوں کے ) کانٹے تک بھی نہیں کاٹے جا سکتے یہاں کے شکار بھی نہیں ہنکائے جا سکتے ۔ اور ان کے علاوہ جو اعلان کر کے ( مالک تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہوں ) کوئی شخص یہاں کی گری پڑی چیز بھی نہیں اٹھا سکتا ہے ۔
Narrated 'Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما :
I asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Where will you stay in Mecca? Will you stay in your house in Mecca?" He replied, "Has `Aqil left any property or house?" `Aqil along with Talib had inherited the property of Abu Talib. Jafar and `Ali رضی اللہ عنہما did not inherit anything as they were Muslims and the other two were non-believers. `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ used to say, "A believer cannot inherit (anything from an) infidel." Ibn Shihab, (a sub-narrator) said, "They (`Umar and others) derived the above verdict from Allah's Statement: "Verily! those who believed and Emigrated and strove with their life And property in Allah's Cause, And those who helped (the emigrants) And gave them their places to live in, These are (all) allies to one another." (8.72)
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، انہیں یونس نے ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں علی بن حسین نے ، انہیں عمرو بن عثمان نے اور انہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ
انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ مکہ میں کیا اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقیل نے ہمارے لیے محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے ۔ ( سب بیچ کھوچ کر برابر کر دئیے ) عقیل اور طالب ، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے ۔ جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا ، کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے تھے اور عقیل رضی اللہ عنہ ( ابتداء میں ) اور طالب اسلام نہیں لائے تھے ۔ اسی بنیاد پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا ۔ ابن شہاب نے کہا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے دلیل لیتے ہیں کہ ” جو لوگ ایمان لائے ، ہجرت کی اور اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی ، وہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ۔“
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
When Allah's Messenger (ﷺ) intended to enter Mecca he said, "Our destination tomorrow, if Allah wished, will be Khaif Bani Kinana where (the pagans) had taken the oath of Kufr." (Against the Prophet (ﷺ) i.e. to be loyal to heathenism by boycotting Bani Hashim, the Prophet's folk) (See Hadith 3882)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ( منیٰ سے لوٹتے ہوئے حجتہ الوداع کے موقع پر ) مکہ آنے کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ کل انشاءاللہ ہمارا قیام اسی خیف بنی کنانہ ( یعنی محصب ) میں ہو گا جہاں ( قریش نے ) کفر پر اڑے رہنے کی قسم کھائی تھی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
On the Day of Nahr at Mina, the Prophet (ﷺ) said, "Tomorrow we shall stay at Khaif Bani Kinana where the pagans had taken the oath of Kufr (heathenism)." He meant (by that place) Al-Muhassab where the Quraish tribe and Bani Kinana concluded a contract against Bani Hashim and Bani `Abdul-Muttalib or Bani Al-Muttalib that they would not intermarry with them or deal with them in business until they handed over the Prophet (ﷺ) to them. salamah, Uqail and Yahya bin Dahhaak, Auzai, Ibne Shihab report that Bani Hisham and Bani Abdull Muttalib. Imam Abdullah Bukhari said: Bani Al-Muttalib is more appropriate.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولیدبن مسلم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
گیارہویں کی صبح کو جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں تھے تو یہ فرمایا تھا کہ کل ہم خیف بنی کنانہ میں قیام کریں گے جہاں قریش نے کفر کی حمایت کی قسم کھائی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد محصب سے تھی کیونکہ یہیں قریش اور کنانہ نے بنوہاشم اور بنو عبدالمطلب یا ( راوی نے ) بنوالمطلب ( کہا ) کے خلاف حلف اٹھایا تھا کہ جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالہ نہ کر دیں ، ان کے یہاں شادی بیاہ نہ کریں گے اور نہ ان سے خریدوفروخت کریں گے ۔ اور سلامہ بن روح نے عقیل اور یحییٰ بن ضحاک سے روایت کیا ، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی ، انہوں نے ( اپنی روایت میں ) بنوہاشم اور بنوالمطلب کہا ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ بنوالمطلب زیادہ صحیح ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet;; said, "Dhus-Suwaiqa-tain (literally: One with two lean legs) from Ethiopia will demolish the Ka`ba."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے زیاد بن سعد نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا ایک حقیر حبشی تباہ کر دے گا ۔“
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The people used to fast on 'Ashura (the tenth day of the month of Muharram) before the fasting of Ramadan was made obligatory. And on that day the Ka`ba used to be covered with a cover. When Allah made the fasting of the month of Ramadan compulsory, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever wishes to fast (on the day of 'Ashura') may do so; and whoever wishes to leave it can do so."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ( دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ) اور مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن ابی حفصہ نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ
رمضان ( کے روزے ) فرض ہونے سے پہلے مسلمان عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے ۔ عاشوراء ہی کے دن ( جاہلیت میں ) کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے رمضان فرض کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ ”اب جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے چھوڑ دے ۔“
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said "The people will continue performing the Hajj and `Umra to the Ka`ba even after the appearance of Gog and Magog." Narrated Shu`ba extra: The Hour (Day of Judgment) will not be established till the Hajj (to the Ka`ba) is abandoned. Imam Abu Abdullah said: Qatadah heard from Abdullah and Abdullah is the father of saeed.
ہم سے احمد بن حفص نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ، ان سے حجاج بن حجاج اسلمی نے ، ان سے قتادہ نے ، ان سے عبداللہ بن ابی عتبہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت اللہ کا حج اور عمرہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی ہوتا رہے گا ۔ عبداللہ بن ابی عتبہ کے ساتھ اس حدیث کو ابان اور عمران نے قتادہ سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن نے شعبہ کے واسطہ سے یوں بیان کیا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بیت اللہ کا حج بند نہ ہو جائے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی روایت زیادہ راویوں نے کی ہے اور قتادہ نے عبداللہ بن عتبہ سے سنا اور عبداللہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ۔
Narrated Abu Wail:
(One day) I sat along with Shaiba on the chair inside the Ka`ba. He (Shaiba) said, "No doubt, `Umar رضی اللہ عنہ sat at this place and said, 'I intended not to leave any yellow (i.e. gold) or white (i.e. silver) (inside the Ka`ba) undistributed.' I said (to `Umar), 'But your two companions (i.e. The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ) did not do so.' `Umar said, They are the two persons whom I always follow.' "
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے واصل احدب نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں شیبہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( دوسری سند ) اور ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان نے واصل سے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ
میں شیبہ کے ساتھ کعبہ میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا تو شیبہ نے فرمایا کہ اسی جگہ بیٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ نے ( ایک مرتبہ ) فرمایا کہ میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ کعبہ کے اندر جتنا سونا چاندی ہے اسے نہ چھوڑوں ( جسے زمانہ جاہلیت میں کفار نے جمع کیا تھا ) بلکہ سب کو نکال کر ( مسلمانوں میں ) تقسیم کر دوں ۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے ساتھیوں ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے تو ایسا نہیں کیا ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں بھی انہیں کی پیروی کر رہا ہوں ( اسی لیے میں اس کے ہاتھ نہیں لگاتا ) ۔