Back to Sahih Bukhari

Hajj (Pilgrimage)

كتاب الحج

Chapter 26

Hadith 1681
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً بَطِيئَةً، فَأَذِنَ لَهَا، فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ، ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ، فَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

We got down at Al-Muzdalifa and Sauda رضی اللہ عنہا asked the permission of the Prophet (ﷺ) to leave (early) before the rush of the people. She was a slow woman and he gave her permission, so she departed (from Al- Muzdalifa) before the rush of the people. We kept on staying at Al-Muzdalifa till dawn, and set out with the Prophet (ﷺ) but (I suffered so much that) I wished I had taken the permission of Allah's Messenger (ﷺ) as Sauda رضی اللہ عنہا had done, and that would have been dearer to me than any other happiness.

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

جب ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے اژدہام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھیں ، وہ بھاری بھر کم بدن کی خاتون تھیں ، اس لیے آپ نے اجازت دے دی چنانچہ وہ اژدہام سے پہلے روانہ ہو گئیں ۔ لیکن ہم وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اگر میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا ۔

Hadith 1682
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةً بِغَيْرِ مِيقَاتِهَا إِلاَّ صَلاَتَيْنِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيقَاتِهَا‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :

I never saw the Prophet (ﷺ) offering any prayer not at its stated time except two; he prayed the Maghrib and the `Isha' together and he offered the morning prayer before its usual time.

Urdu

ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے عبدالرحمٰن بن یزید سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ

دو نمازوں کے سوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کوئی نماز بغیر وقت نہیں پڑھتے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں اور فجر کی نماز بھی اس دن ( مزدلفہ میں ) معمول کے وقت سے پہلے ادا کی ۔

Hadith 1683
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى مَكَّةَ، ثُمَّ قَدِمْنَا جَمْعًا، فَصَلَّى الصَّلاَتَيْنِ، كُلَّ صَلاَةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، قَائِلٌ يَقُولُ طَلَعَ الْفَجْرُ‏.‏ وَقَائِلٌ يَقُولُ لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ‏.‏ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاَتَيْنِ حُوِّلَتَا عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، فَلاَ يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا، وَصَلاَةَ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الآنَ أَصَابَ السُّنَّةَ‏.‏ فَمَا أَدْرِي أَقَوْلُهُ كَانَ أَسْرَعَ أَمْ دَفْعُ عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ‏.‏
English

Narrated `Abdur-Rahman bin Yazid:

I went out with `Abdullah رضی اللہ عنہ , to Mecca and when we proceeded to am' he offered the two prayers (the Maghrib and the `Isha') together, making the Adhan and Iqama separately for each prayer. He took his supper in between the two prayers. He offered the Fajr prayer as soon as the day dawned. Some people said, "The day had dawned (at the time of the prayer)," and others said, "The day had not dawned." `Abdullah then said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'These two prayers have been shifted from their stated times at this place only (at Al-Muzdalifa); first: The Maghrib and the `Isha'. So the people should not arrive at Al-Muzdalifa till the time of the `Isha' prayer has become due. The second prayer is the morning prayer which is offered at this hour.' " Then `Abdullah stayed there till it became a bit brighter. He then said, "If the chief of the believers hastened onwards to Mina just now, then he had indeed followed the Sunna." I do not know which proceeded the other, his (`Abdullah's) statement or the departure of `Uthman رضی اللہ عنہ . `Abdullah رضی اللہ عنہ was reciting Talbiya till he threw pebbles at the Jamrat-Al- `Aqaba on the Day of Nahr (slaughtering) (that is the 10th of Dhul-Hijja).

Urdu

ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ

ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ( حج شروع کیا ) پھر جب ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے دو نمازیں ( اس طرح ایک ساتھ ) پڑھیں کہ ہر نماز ایک الگ اذان اور ایک الگ اقامت کے ساتھ تھی اور رات کا کھانا دونوں کے درمیان میں کھایا ، پھر طلوع صبح کے ساتھ ہی آپ نے نماز فجر پڑھی ، کوئی کہتا تھا کہ ابھی صبح صادق نہیں ہوئی اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ہو گئی ۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ دونوں نمازیں اس مقام سے ہٹا دی گئیں ہیں ، یعنی مغرب اور عشاء ، مزدلفہ میں اس وقت داخل ہوں کہ اندھیرا ہو جائے اور فجر کی نماز اس وقت ۔ پھر عبداللہ اجالے تک وہیں مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور کہا کہ اگر امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت چلیں تو یہ سنت کے مطابق ہو گا ۔ ( حدیث کے راوی عبدالرحمٰن بن یزید نے کہا ) میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ الفاظ ان کی زبان سے پہلے نکلے یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی ، آپ دسویں تاریخ تک جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر لبیک پکارتے رہے ۔

Hadith 1684
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يَقُولُ شَهِدْتُ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ صَلَّى بِجَمْعٍ الصُّبْحَ، ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لاَ يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ‏.‏ وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَالَفَهُمْ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ‏.‏
English

Narrated `Amr bin Maimun:

I saw `Umar رضی اللہ عنہ , offering the Fajr (morning) prayer at Jam'; then he got up and said, "The pagans did not use to depart (from Jam') till the sun had risen, and they used to say, 'Let the sun shine on Thabir (a mountain).' But the Prophet (ﷺ) contradicted them and departed from Jam' before sunrise."

Urdu

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے ، انہوں نے عمرو بن میمون کو یہ کہتے سنا کہ

جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھی تو میں بھی موجود تھا ، نماز کے بعد آپ ٹھہرے اور فرمایا کہ مشرکین ( جاہلیت میں یہاں سے ) سورج نکلنے سے پہلے نہیں جاتے تھے کہتے تھے اے ثبیر ! تو چمک جا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے ۔

Hadith 1685
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْدَفَ الْفَضْلَ، فَأَخْبَرَ الْفَضْلُ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) made Al-Fadl ride behind him, and Al-Fadl informed that he (the Prophet (ﷺ) ) kept on reciting Talbiya till he did the Rami of the Jamra. (Jamrat-Al-`Aqaba.)

Urdu

ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، انہیں عطاء نے ، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مزدلفہ سے لوٹتے وقت ) فضل ( بن عباس رضی اللہ عنہما ) کو اپنے پیچھے سوار کرایا تھا ۔ فضل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمرہ تک برابر لبیک پکارتے رہے ۔

Hadith 1686, 1687
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ الأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى ـ قَالَ ـ فَكِلاَهُمَا قَالاَ لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

"Usama bin Zaid rode behind the Prophet (ﷺ) from `Arafat to Al-Muzdalifa; and then from Al-Muzdalifa to Mina, Al-Fadl rode behind him." He added, "Both of them (Usama and Al-Fadl) said, 'The Prophet (ﷺ) was constantly reciting Talbiya till he did Rami of the Jamarat-Al-`Aqaba."

Urdu

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا ، ان سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ، ان سے یونس ایلی نے ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عرفات سے مزدلفہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے منی جاتے وقت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل لبیک کہتے رہے ۔

Hadith 1688
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَأَمَرَنِي بِهَا، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْهَدْىِ، فَقَالَ فِيهَا جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ قَالَ وَكَأَنَّ نَاسًا كَرِهُوهَا، فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ إِنْسَانًا يُنَادِي حَجٌّ مَبْرُورٌ، وَمُتْعَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ‏.‏ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَقَالَ آدَمُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَغُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ‏.‏
English

Narrated Abu Jamra:

I asked Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما about Hajj-at-Tamattu`. He ordered me to perform it. I asked him about the Hadi (sacrifice). He said, "You have to slaughter a camel, a cow or a sheep, or you may share the Hadi with the others." It seemed that some people disliked it (Hajj-at-Tamattu`). I slept and dreamt as if a person was announcing: "Hajj Mabrur and accepted Mut'ah (Hajj-at-Tamattu`)" I went to Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما and narrated it to him. He said, "Allah is Greater. (That was) the tradition of Abu Al-Qasim (i.e. Prophet). Narrated Shu`ba that the call in the dream was. "An accepted `Umra and Hajj-Mabrur. "

Urdu

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے خبر دی ، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا ، کہا کہ

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے اس کے کرنے کا حکم دیا ، پھر میں نے قربانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمتع میں ایک اونٹ ، یا ایک گائے یا ایک بکری ( کی قربانی واجب ہے ) یا کسی قربانی ( اونٹ ، یا گائے بھینس کی ) میں شریک ہو جائے ، ابوجمرہ نے کہا کہ بعض لوگ تمتع کو ناپسندیدہ قرار دیتے تھے ۔ پھر میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص پکار رہا ہے یہ حج مبرور ہے اور یہ مقبول تمتع ہے ۔ اب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : اللہ اکبر ! یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ کہا کہ وہب بن جریر اور غندر نے شعبہ کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے «عمرة متقبلة ،‏‏‏‏ وحج مبرور‏» ( اس میں عمرہ کا ذکر پہلے ہے یعنی یہ عمرہ مقبول اور حج مبرور ہے ) ۔

Hadith 1689
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ ‏"‏‏.‏ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الثَّانِيَةِ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira' رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) saw a man driving his Badana (sacrificial camel). He said, "Ride on it." The man said, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it." He (the man) said, "It is a Badana." The Prophet said, "Ride on it." And on the second or the third time he (the Prophet (ﷺ) ) added, "Woe to you."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قربانی کاجانور لے جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا ۔ اس شخص نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے ، آپ صلی اللہ عیلیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جانا ۔ اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا افسوس ! سوار بھی ہو جاؤ ( «ويلك» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا ۔

Hadith 1690
Sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏‏.‏ ثَلاَثًا‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) saw a man driving a Badana. He said, "Ride on it." The man replied, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said (again), "Ride on it." He (the man) said, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said thrice, "Ride on it."

Urdu

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشام اور شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا جانور لیے جا رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوا ر ہو جا اس نے پھر عرض کیا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا کہ سوار ہو جا ۔

Hadith 1691
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ ‏ "‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِشَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏‏.‏ فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

During the last Hajj (Hajj-al-Wada`) of Allah's Messenger (ﷺ) he performed `Umra and Hajj. He drove a Hadi along with him from Dhul-Hulaifa. Allah's Messenger (ﷺ) started by assuming Ihram for `Umra and Hajj. And the people, too, performed the `Umra and Hajj along with the Prophet. Some of them brought the Hadi and drove it along with them, while the others did not. So, when the Prophet (ﷺ) arrived at Mecca. he said to the people, "Whoever among you has driven the Hadi, should not finish his Ihram till he completes his Hajj. And whoever among you has not (driven) the Hadi with him, should perform Tawaf of the Ka`ba and the Tawaf between Safa and Marwa, then cut short his hair and finish his Ihram, and should later assume Ihram for Hajj; but he must offer a Hadi (sacrifice); and if anyone cannot afford a Hadi, he should fast for three days during the Hajj and seven days when he returns home. The Prophet (ﷺ) performed Tawaf of the Ka`ba on his arrival (at Mecca); he touched the (Black Stone) corner first of all and then did Ramal (fast walking with moving of the shoulders) during the first three rounds round the Ka`ba, and during the last four rounds he walked. After finishing Tawaf of the Ka`ba, he offered a two rak`at prayer at Maqam Ibrahim, and after finishing the prayer he went to Safa and Marwa and performed seven rounds of Tawaf between them and did not do any deed forbidden because of Ihram, till he finished all the ceremonies of his Hajj and sacrificed his Hadi on the day of Nahr (10th day of Dhul-Hijja). He then hastened onwards (to Mecca) and performed Tawaf of the Ka`ba and then everything that was forbidden because of Ihram became permissible. Those who took and drove the Hadi with them did the same as Allah's Messenger (ﷺ) did.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا یعنی عمرہ کر کے پھر حج کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ قربانی لے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کے لیے احرام باندھا ، پھر حج کے لیے لبیک پکارا ۔ لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا یعنی عمرہ کر کے حج کیا ، لیکن بہت سے لوگ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے گئے تھے اور بہت سے نہیں لے گئے تھے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو لوگوں سے کہا کہ جو شخص قربانی ساتھ لایا ہو اس کے لیے حج پورا ہونے تک کوئی بھی ایسی چیز حلال نہیں ہو سکتی جسے اس نے اپنے اوپر ( احرام کی وجہ سے ) حرام کر لیا ہے لیکن جن کے ساتھ قربانی نہیں ہے تو وہ بیت اللہ کا طوف کر لیں اور صفا اور مروہ کی سعی کر کے بال ترشوا لیں اور حلال ہو جائیں ، پھر حج کے لیے ( از سر نو آٹھویں ذی الحجہ کو احرام باندھیں ) ایسا شخص اگر قربانی نہ پائے تو تین دن کے روزے حج ہی کے دنوں میں اور سات دن کے روزے گھر واپس آ کر رکھے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا پھر حجراسود کو بوسہ دیا ، تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا اور باقی چار میں معمولی رفتار سے چلے ، پھر بیت اللہ کا طواف پورا کر کے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی سلام پھیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف آئے اور صفا اور مروہ کی سعی بھی سات چکروں میں پوری کی ۔ جن چیزوں کو ( احرام کی وجہ سے اپنے پر ) حرام کر لیا تھا ان سے اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال نہیں ہوئے جب تک حج بھی پورا نہ کر لیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) میں قربانی کا جانور بھی ذبح نہ کر لیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ واپس ) آئے اور بیت اللہ کا جب طواف افاضہ کر لیا تو ہر وہ چیز آپ کے لیے حلال ہو گئی جو احرام کی وجہ سے حرام تھی جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر گئے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔

Hadith 1692
Sahih
وَعَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated 'Urwa:

" 'Aishah رضی اللہ عنہا informed me about the Hajj and 'Umra (together) of the Prophet (ﷺ) and so did the people who were with him (during the Hajj and 'Umra) and narration similar to the narration of the Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما (previous hadith)

Urdu

عروہ سے روایت ہے کہ

عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کی خبر دی کہ اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا تھا ، بالکل اسی طرح جیسے مجھے سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی ۔

Hadith 1693
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ لأَبِيهِ أَقِمْ، فَإِنِّي لاَ آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدُّ عَنِ الْبَيْتِ‏.‏ قَالَ إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ قَالَ اللَّهُ ‏{‏لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‏}‏ فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي الْعُمْرَةَ‏.‏ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَقَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ‏.‏ ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْىَ مِنْ قُدَيْدٍ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا‏.‏
English

Narrated `Abdullah (bin `Abdullah) bin `Umar رضی اللہ عنہما :

"Stay here, for I am afraid that it (affliction between Ibn Zubair and Al-Hajjaj) might prevent you from reaching the Ka`ba." Ibn `Umar said, "(In this case) I would do the same as Allah's Messenger (ﷺ) did, and Allah has said, 'Verily, in Allah's Messenger (ﷺ), you have a good example (to follow).' So, I make you, people, witness that I have made `Umra compulsory for me." So he assumed lhram for `Umra. Then he went out and when he reached Al- Baida', he assumed Ihram for Hajj and `Umra (together) and said, "The conditions (requisites) of Hajj and `Umra are the same." He, then brought a Hadi from Qudaid. Then he arrived (at Mecca) and performed Tawaf (between Safa and Marwa) once for both Hajj and `Umra and did not finish the lhram till he had finished both Hajj and `Umra.

Urdu

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حمادنے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا ( جب وہ حج کے لیے نکل رہے تھے ) کہ آپ نہ جائیے کیوں کہ

میرا خیال ہے کہ ( بدامنی کی وجہ سے ) آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا ۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر میں بھی وہی کام کروں گا جو ( ایسے موقعہ پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے “ میں اب تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے ، چنانچہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا ، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نکلے اور جب بیداء پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا اور فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں اس کے بعد قدید پہنچ کر ہدی خریدی پھر مکہ آ کر دونوں کے لیے طواف کیا اور درمیان میں نہیں بلکہ دونوں سے ایک ہی ساتھ حلال ہوئے ۔

Hadith 1694, 1695
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ، قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْهَدْىَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ‏.‏
English

Narrated Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہما and Marwan:

The Prophet (ﷺ) set out from Medina with over one thousand of his companions (at the time of the Treaty of Hudaibiya) and when they reached Dhul-Hulaifa, the Prophet (ﷺ) garlanded his Hadi and marked it and assumed Ihram for `Umra.

Urdu

ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے ، اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے تقریباً اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ ( حج کے لیے نکلے ) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا پھر عمرہ کا احرام باندھا ۔

Hadith 1696
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

I twisted with my own hands the garlands for the Budn of the Prophet (ﷺ) who garlanded and marked them, and then made them proceed to Mecca; Yet no permissible thing was regarded as illegal for him then.

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے افلح نے بیان کیا ، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار میں نے اپنے ہاتھ سے خود بٹے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہار پہنایا ، اشعار کیا ، ان کو مکہ کی طرف روانہ کیا پھر بھی آپ کے لیے جو چیزیں حلال تھیں وہ ( احرام سے پہلے صرف ہدی سے ) حرام نہیں ہوئیں ۔

Hadith 1697
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، رضى الله عنهم قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Hafsa رضی اللہ عنہا :

I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What is wrong with the people, they have finished their Ihram but you have not?" He said, "I matted my hair and I have garlanded my Hadi, so I will not finish my Ihram till I finished my Hajj ."

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے کہ مجھے نافع نے خبر دی انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہا میں نے کہا :

یا رسول اللہ ! اور لوگ تو حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی ہدی کو قلادہ پہناد یا ہے ، اس لیے جب تک حج سے بھی حلال نہ ہو جاؤں میں ( درمیان میں ) حلال نہیں ہو سکتا ، ( گوند لگا کر سر کے بالوں کا جما لینا اس کو تلبید کہتے ہیں ) ۔

Hadith 1698
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Allah's Messenger (ﷺ) used to send the Hadi from Medina and I used to twist the garlands for his Hadi and he did not keep away from any of these things which a Muhrim keeps away from.

Urdu

ہم سے عبدا اللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی ساتھ لے کر چلتے تھے اور میں ان کے قلادے بٹا کرتی تھی پھر بھی آپ ( احرام باندھنے سے پہلے ) ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے ایک محرم پرہیز کرتا ہے ۔

Hadith 1699
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ـ أَوْ قَلَّدْتُهَا ـ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حِلٌّ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

I twisted the garlands for the Hadis of the Prophet (ﷺ) and then he marked and garlanded them (or I garlanded them) and then made them proceed to the Ka`ba but he remained in Medina and no permissible thing was regarded as illegal for him then .

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا ، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے خود بٹے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشعار کیا اور ہار پہنایا ، یا میں نے ہار پہنایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے لیے انہیں بھیج دیا اور خود مدینہ میں ٹھہر گئے لیکن کوئی بھی ایسی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حرام نہیں ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی ۔

Hadith 1700
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ‏.‏ قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَيْهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ‏.‏
English

Narrated "Zaid bin Abu Sufyan wrote to `Aisha that `Abdullah bin `Abbas :

'Whoever sends his Hadi (to the Ka`ba), all the things which are illegal for a (pilgrim) become illegal for that person till he slaughters it (i.e. till the 10th of Dhul-Hijja).' " `Amra added, `Aisha رضی اللہ عنہا said, 'It is not like what Ibn `Abbas رضی اللہ عنہا had said: I twisted the garlands of the Hadis of Allah's Messenger (ﷺ) with my own hands. Then Allah's Messenger (ﷺ) put them round their necks with his own hands, sending them with my father; Yet nothing permitted by Allah was considered illegal for Allah's Apostle till he slaughtered the Hadi.' "

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے خبر دی ، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ زیاد بن ابی سفیان نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ

جس نے ہدی بھیج دی اس پر وہ تمام چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو ایک حاجی پر حرام ہوتی ہیں تاآنکہ اس کی ہدی کی قربانی کر دی جائے ، عمرہ نے کہا کہ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جو کچھ کہا مسئلہ اس طرح نہیں ہے ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے خود بٹے ہیں ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے ان جانوروں کو قلادہ پہنایا اور میرے والد محترم ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ انہیں بھیج دیا لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کیا جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کی تھی ، اور ہدی کی قربانی بھی کر دی گئی ۔

Hadith 1701
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَهْدَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرَّةً غَنَمًا‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Once the Prophet (ﷺ) sent sheep as Hadi.

Urdu

ہم سے نعیم نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے لیے ( بیت اللہ ) بکریاں بھیجی تھیں ۔

Hadith 1702
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلاَئِدَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُقَلِّدُ الْغَنَمَ، وَيُقِيمُ فِي أَهْلِهِ حَلاَلاً‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

I used to make the garlands for (the Hadis of) the Prophet (ﷺ) and he would garland the sheep (with them) and would stay with his family as a non-Muhrim.

Urdu

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادہ خود بٹا کرتی تھی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کو بھی قلادہ پہنایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے گھر اس حال میں مقیم تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال تھے ۔