Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) used to go (for Hajj) via Ash-Shajara way and return via Muarras way; and no doubt, whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to Mecca, he used to offer the prayer in the Mosque of Ash-Shajara; and on his return, he used to offer the prayer at Dhul-Hulaifa in the middle of the valley, and pass the night there till morning.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ کے راستے سے گزرتے ہوئے ” معرس “ کے راستے سے مدینہ آتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ جاتے تو شجرہ کی مسجد میں نماز پڑھتے لیکن واپسی میں ذوالحلیفہ کے نشیب میں نماز پڑھتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات وہیں گزارتےچنانچہ صبح ہو جاتی ۔
Narrated `Umar رضی اللہ عنہ :
In the valley of Al-`Aqiq I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "To night a messenger came to me from my Lord and asked me to pray in this blessed valley and to assume Ihram for Hajj and `Umra together. "
ہم سے ابوبکر عبداللہ حمیدی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ولید اور بشر بن بکر تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان کا بیان تھا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی عقیق میں سنا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ رات میرے پاس میرے رب کا ایک فرشتہ آیا اور کہا کہ اس ” مبارک وادی “ میں نماز پڑھ اور اعلان کر کہ عمرہ حج کا احرام ایک ساتھ باندھوں۔
Narrated Salim bin `Abdullah's father:
"The Prophet (ﷺ) said that while resting in the bottom of the valley at Muarras in Dhul-Hulaifa, he had been addressed in a dream: 'You are verily in a blessed valley.' " Salim made us to dismount from our camels at the place where `Abdullah used to dismount, aiming at the place where Allah's Messenger (ﷺ) had rested and it was below the Mosque situated in the middle of the valley in between them (the residence) and the road.
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کہ
معرس کے قریب ذوالحلیفہ کی بطن وادی ( وادی عقیق ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب دکھایا گیا ۔ ( جس میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تھا کہ آپ اس وقت ” بطحاء مبارکہ “ میں ہیں ۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ سالم نے ہم کو بھی وہاں ٹھہرایا وہ اس مقام کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں عبداللہ اونٹ بٹھایا کرتے تھے یعنی جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اترا کرتے تھے ۔ وہ مقام اس مسجد کے نیچے کی طرف میں ہے جو نالے کے نشیب میں ہے ۔ اترنے والوں اور راستے کے بیچوں بیچ ( وادی عقیق مدینہ سے چار میل بقیع کی جانب ہے ) ۔
Narrated Ya'la said to 'Umar رضی اللہ عنہ :
"Show me the Prophet (ﷺ) when he is being inspired Divinely." While the Prophet (ﷺ) was at Ji'rana (in the company of some of his Companions) a person came and asked, "O Allah's Messenger! What is your verdict regarding that person who assumes Ihram for 'Umra and is scented with perfume ?" The Prophet (ﷺ) kept quiet for a while and he was Divinely inspired (then). 'Umar رضی اللہ عنہ beckoned Ya'la رضی اللہ عنہ . So he came, and the Allah's Messenger (ﷺ) was shaded with sheet. Ya'la put his head in and saw that the face of Allah's Messenger was red and he was snoring. When the state of the Prophet (ﷺ) was over, he (ﷺ) asked, "Where is the person who asked about 'Umra?" Then that person was brought and the Prophet (ﷺ) said, "Wash the perfume off your body thrice and take off the cloak and do the same in 'Umra as you do in Hajj." I asked Ata whether the Prophet's order to wash three times meant complete cleanliness. So he said yes.
ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعاصم ، ضحاک بن مخلد نبیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبرد ی ، انہیں صفوان بن یعلیٰ نے ، کہا کہ ان کے باپ یعلیٰ بن امیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ
کبھی آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دکھایئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا یا رسول اللہ ! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے جس نے عمرہ کا احرام اس طرح باندھا کہ اس کے کپڑے خوشبو میں بسے ہوئے ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا ۔ یعلیٰ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑا تھا جس کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے ۔ انہوں نے کپڑے کے اندر اپنا سر کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ روئے مبارک سرخ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لے رہے ہیں ۔ پھر یہ حالت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے جس نے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا ۔ شخص مذکور حاضر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوشبو لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو لے اور اپنا جبہ اتار دے ۔ عمرہ میں بھی اسی طرح کر جس طرح حج میں کرتے ہو ۔ میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تین مرتبہ دھونے کے حکم سے پوری طرح صفائی مراد تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں ۔
Narrated Sa`id bin Jubair:
Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to apply oil. When I mention it to Ibrahim, he said: What will you interpret of his saying? Hadrat Aswad report that Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا said: As if still were observing the glisten of the scent in the parting of Allah's Apostle ﷺ while he was wearing Ehram (pilgrim grab).
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سادہ تیل استعمال کرتے تھے ( احرام کے باوجود ) میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات نقل کرتے ہو ۔مجھ سے تو اسود نے بیان کیا ، اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محرم ہیں اور گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں ۔
Narrated `Aisha( the wife of the Prophet ﷺ) رضی اللہ عنہا :
The Prophet,s wife, said: I used to perfume Allah's Apostle ﷺ when he would wear Ehram and when he would take off the Ehram before his making the circuits rounds Allah's House.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے لیے اور اسی طرح بیت اللہ کے طواف زیارت سے پہلے حلال ہونے کے لیے ، خوشبو لگایا کرتی تھیں ۔
Narrated Salim from his father:
I heard that Allah's Messenger (ﷺ) was pronouncing Labbaik (to end) with his hair gelled.
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں عبدللہ بن وہب نے خبر دی ، انہیں یونس نے ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد نے فرمایا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبید کی حالت میں لبیک کہتے سنا ۔
Narrated Salim bin `Abdullah heard his father :
"Never did Allah's Messenger (ﷺ) assume Ihram except at the Mosque, that is, at the Mosque of Dhul-Hulaifa.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے ، انہوں نے اپنے باپ سے سنا ، کہ وہ کہہ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے قریب ہی پہنچ کر احرام باندھا تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
A man asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What kind of clothes should a Muhrim wear?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "He should not wear a shirt, a turban, trousers, a headcloak or leather socks except if he can find no slippers, he then may wear leather socks after cutting off what might cover the ankles. And he should not wear clothes which are scented with saffron or Wars (kinds of Perfumes) . "
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! محرم کو کس طرح کا کپڑا پہننا چاہئے ؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کرتہ پہنے ، نہ عمامہ باندھے ، نہ پاجامہ پہنے ، نہ باران کوٹ ، نہ موزے ۔ لیکن اگر اس کے پاس جوتی نہ ہو تو وہ موزے اس وقت پہن سکتا ہے جب ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ لیا ہو ۔ ( اور احرام میں ) کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہوا ہو ۔
Narrated Ibn `Abbas' رضی اللہ عنہما :
"Usama رضی اللہ عنہما rode behind Allah's Messenger (ﷺ) from `Arafat to Al-Muzdalifa; and then Al-Fadl rode behind Allah's Messenger (ﷺ) from Al-Muzdalifa to Mina." Ibn `Abbas added, "Both of them said, 'The Prophet kept on reciting Talbiya till he did the Rami of Jamrat-Al-`Aqaba.' "
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، ان سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد جریر بن حازم نے بیان کیا ۔ ان سے یونس بن زید نے ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
عرفات سے مزدلفہ تک اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ پھر مزدلفہ سے منیٰ تک حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما پیچھے بیٹھ گئے تھے ، دونوں حضرات نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک برابر تلبیہ کہتے رہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) with his companions started from Medina after combing and oiling his hair and putting on two sheets of lhram (upper body cover and waist cover). He did not forbid anyone to wear any kind of sheets except the ones colored with saffron because they may leave the scent on the skin. And so in the early morning, the Prophet (ﷺ) mounted his Mount while in Dhul-Hulaifa and set out till they reached Baida', where he and his companions recited Talbiya, and then they did the ceremony of Taqlid (which means to put the colored garlands around the necks of the Budn (camels for sacrifice). And all that happened on the 25th of Dhul-Qa'da. And when he reached Mecca on the 4th of Dhul-Hijja he performed the Tawaf round the Ka`ba and performed the Tawaf between Safa and Marwa. And as he had a Badana and had garlanded it, he did not finish his Ihram. He proceeded towards the highest places of Mecca near Al-Hujun and he was assuming the Ihram for Hajj and did not go near the Ka`ba after he performed Tawaf (round it) till he returned from `Arafat. Then he ordered his companions to perform the Tawaf round the Ka`ba and then the Tawaf of Safa and Marwa, and to cut short the hair of their heads and to finish their Ihram. And that was only for those people who had not garlanded Budn. Those who had their wives with them were permitted to contact them (have sexual intercourse), and similarly perfume and (ordinary) clothes were permissible for them.
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے کریب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ
حجتہ الوداع میں ظہر اور عصر کے درمیان ہفتہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنگھا کرنے اور تیل لگانے اور ازار اور رداء پہننے کے بعد اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت زعفران میں رنگے ہوئے ایسے کپڑے کے سوا جس کا رنگ بدن پر لگتا ہو کسی قسم کی چادر یا تہبند پہننے سے منع نہیں کیا ۔ دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچ گئے ( اور رات وہیں گزاری ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیداء سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے لبیک کہا اور احرام باندھا اور اپنے اونٹوں کو ہار پہنایا ۔ ذی قعدہ کے مہینے میں اب پانچ دن رہ گئے تھے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کے چار دن گزر چکے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی حلال نہیں ہوئے کیونکہ قربانی کے جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن میں ہار ڈال دیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجون پہاڑ کے نزدیک مکہ کے بالائی حصہ میں اترے ۔ حج کا احرام اب بھی باقی تھا ۔ بیت اللہ کے طواف کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس وقت تک تشریف نہیں لے گئے جب تک میدان عرفات سے واپس نہ ہو لیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کریں اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کریں ، پھر اپنے سروں کے بال ترشوا کر حلال ہو جائیں ۔ یہ فرمان ان لوگوں کے لیے تھا جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے ۔ اگر کسی کے ساتھ اس کی بیوی تھی تو وہ اس سے ہمبستر ہو سکتا تھا ۔ اسی طرح خوشبودار اور ( سلے ہوئے ) کپڑے کا استعمال بھی اس کے لیے جائز تھا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) offered four rak`at in Medina and then two rak`at at Dhul Hulaifa and then passed the night at Dhul-Hulaifa till it was morning and when he mounted his Mount and it stood up, he started to recite Talbiya.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں لیکن ذوالحلیفہ میں دو رکعت ادا فرمائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں گزاری ۔ صبح کے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکاری ۔
Narrated Anas bin Malik:
"The Prophet (ﷺ) offered four rak`at of the Zuhr prayer in Medina and two rak`at of `Asr prayer at Dhul-Hulaifa." I think that the Prophet (ﷺ) passed the night there till morning.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی لیکن ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت ۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ رات صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذولحلیفہ میں ہی گزار دی ۔
Narrated Anas رضى الله عنه :
The Prophet (ﷺ) offered four rak`at of the Zuhr prayer in Medina and two rak`at of the `Asr prayer in Dhul-Hulaifa and I heard people pronouncing both(Hajj and Umra: Irfan) in extremely loud voice.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ابوایوب نے ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر مدینہ منورہ میں چار رکعت پڑھی ۔ لیکن نماز عصر ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی ۔ میں نے خود سنا کہ لوگ بلند آواز سے حج اور عمرہ دونوں کے لیے لبیک کہہ رہے تھے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Talbiya of Allah's Messenger (ﷺ) was : 'Labbaika Allahumma labbaik, Labbaika la sharika Laka labbaik, Inna-l-hamda wan-ni'mata Laka walmulk, La sharika Laka' (I respond to Your call O Allah, I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, You have no partner, I respond to Your call All the praises and blessings are for You, All the sovereignty is for You, And You have no partners with you.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللهم لبيك ، لبيك لا شريك لك لبيك ، إن الحمد والنعمة لك والملك ، لا شريك لك» ” حاضر ہوں اے اللہ ! حاضر ہوں میں ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔ حاضر ہوں ، تمام حمد تیرے ہی لیے ہے اور تمام نعمتیں تیری ہی طرف سے ہیں ، بادشاہت تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں ۔ “
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I know how the Prophet (ﷺ) used to say (Talbiya) and it was: 'Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika Laka labbaik, Inna-l-hamda wan-ni'mata Laka walmu Lk, La sharika Laka'. Abu Muaviyah corroborated him from Aamash. Shobah, Sulaiman, Khaithama, Abu Atiyya heard it from Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا .
ہم سے محمدبن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اعمش سے بیان کیا ، ان سے عمارہ نے ان سے ابوعطیہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
میں جانتی ہوں کہ کس طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ کہتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے تھے «لبيك اللهم لبيك ، لبيك لا شريك لك لبيك ، إن الحمد والنعمة لك» ( ترجمہ گزر چکا ہے ) اس کی متابعت سفیان ثوری کی طرح ابومعاویہ نے اعمش سے بھی کی ہے ۔ اور شعبہ نے کہا کہ مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی کہ میں نے خیثمہ سے سنا اور انہوں نے ابوعطیہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ پھر یہی حدیث بیان کی ۔
Narrated Anas bin Malik:
Allah's Messenger (ﷺ) offered four rak`at of Zuhr prayer at Medina and we were in his company, and two rak`at of the `Asr prayer at Dhul-Hulaifa and then passed the night there till it was dawn; then he rode, and when he reached Al-Baida', he praised and glorified Allah and said Takbir (i.e. Al hamdu-li l-lah and Subhanallah(1) and Allahu-Akbar). Then he and the people along with him recited Talbiya with the intention of performing Hajj and Umra. When we reached (Mecca) he ordered us to finish the lhram (after performing the Umra) (only those who had no Hadi (animal for sacrifice) with them were asked to do so) till the day of Tarwiya that is 8th Dhul-Hijja when they assumed Ihram for Hajj. The Prophet sacrificed many camels (slaughtering them) with his own hands while standing. While Allah's Apostle was in Medina he sacrificed two horned rams black and white in color in the Name of Allah." Imam Abu Abdullah said: Some have reported it from Ayyub and a person has reported it from Hadrat Anas
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، مدینہ میں ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو وہیں رہے ۔ صبح ہوئی تو مقام بیداء سے سواری پر بیٹھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد ، اس کی تسبیح اور تکبیر کہی ۔ پھر حج اور عمرہ کے لیے ایک ساتھ احرام باندھا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا ( یعنی قران کیا ) جب ہم مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ( جن لوگوں نے حج تمتع کا احرام باندھا تھا ان ) سب نے احرام کھول دیا ۔ پھر آٹھویں تاریخ میں سب نے حج کا احرام باندھا ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کھڑے ہو کر بہت سے اونٹ نحر کئے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عیدالاضحی کے دن ) مدینہ میں بھی دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے تھے ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ بعض لوگ اس حدیث کو یوں روایت کرتے ہیں ایوب سے ، انہوں نے ایک شخص سے ، انہوں نے ا.نس سے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) recited Talbiya when he had mounted his Mount and was ready to set out. The Prophet (ﷺ) pronounced Talbiyah when his mount stood aright.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے صالح بن کیسان نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پوری طرح کھڑی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکارا۔
Narrated Nafi:
'Whenever Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما finished his morning Salat at Dhul-Hulaifa he would get his Rahila (mount) prepared. Then, he would ride on it, and after it had stood up straight (ready to set out), he would face Al-Qiblah (the Ka,bah at Makkah) while sitting (on his mount) and recite Talbiya. When he had reached the boundaries of the Haram (or Makkah), he would stop recitation of Talbiya till he reached Dhi-Tuwa (near Makkah) where he would pass the night till it was dawn. After offering the morning Salat, he would take a bath. He claimed that Allah's Messenger (ﷺ) had done the same. Ismaieel corroborated him from Ayyub about bath.
اور ابومعمر نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے نافع سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھ چکے تو اپنی اونٹنی پر پالان لگانے کا حکم فرمایا ، سواری لائی گئی تو آپ اس پر سوار ہوئے اور جب وہ آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تو آپ کھڑے ہو کر قبلہ رو ہو گئے اور پھر لبیک کہنا شروع کیا تاآنکہ حرم میں داخل ہو گئے ۔ وہاں پہنچ کر آپ نے لبیک کہنا بند کر دیا ۔ پھرذی طویٰ میں تشریف لا کر رات وہیں گزارتے صبح ہوتی تو نماز پڑھتے اور غسل کرتے ( پھر مکہ میں داخل ہوتے ) آپ یقین کے ساتھ یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا ۔ عبدالوارث کی طرح اس حدیث کو اسماعیل نے بھی ایوب سے روایت کیا ۔ اس میں غسل کا ذکر ہے ۔
Narrated Nafi`:
Whenever Ibn `Umar رضی اللہ عنہما intended to go to Mecca he used to oil himself with a sort of oil that had no pleasant smell, then he would go to the Mosque of Al-Hulaita and offer the prayer, and then ride. When he mounted well on his Mount and the Mount stood up straight, he would proclaim the intention of assuming Ihram, and he used to say that he had seen the Prophet (ﷺ) doing the same.
ہم سے ابوالربیع سلیمان بن داود نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا کہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ جانے کا ارادہ کرتے تھے پہلے خوشبو کے بغیر تیل استعمال کرتے ۔ اس کے بعد مسجد ذوالحلیفہ میں تشریف لاتے یہاں صبح کی نماز پڑھتے ، پھر سوار ہوتے ، جب اونٹنی آپ کو لے کر پوری طرح کھڑی ہو جاتی تو احرام باندھتے ۔ پھر فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا تھا ۔