Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "As if I were looking at him, a black person with thin legs plucking the stones of the Ka`ba one after another. "
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن اخنس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” گویا میری نظروں کے سامنے وہ پتلی ٹانگوں والا سیاہ آدمی ہے جو خانہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو اکھاڑ پھینکے گا ۔“
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Dhus-Suwaiqatain (the thin legged man) from Ethiopia will demolish the Ka`ba."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا ۔“
Narrated `Abis bin Rabi`a:
`Umar رضی اللہ عنہ came near the Black Stone and kissed it and said "No doubt, I know that you are a stone and can neither benefit anyone nor harm anyone. Had I not seen Allah's Messenger (ﷺ) kissing you I would not have kissed you."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابراہیم نے ، انہیں عابس نے ، انہیں ربیعہ نے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجراسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا ”میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے ، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا ۔“
Narrated Salim that his father said:
"Allah's Messenger (ﷺ), Usama bin Zaid, Bilal, and `Uthman bin abu Talha رضی اللہ عنہم entered the Ka`ba and then closed its door. When they opened the door I was the first person to enter (the Ka`ba). I met Bilal رضی اللہ عنہ and asked him, "Did Allah's Messenger (ﷺ) offer a prayer inside (the Ka`ba)?" Bilal replied in the affirmative and said, "(The Prophet (ﷺ) offered the prayer) in between the two right pillars."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسامہ بن زید اور بلال و عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ کے اندر گئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا ۔ پھر جب دروازہ کھولا تو میں پہلا شخص تھا جو اندر گیا ۔ میری ملاقات بلال رضی اللہ عنہ سے ہوئی ۔ میں نے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اندر ) نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے بتلایا کہ ” ہاں ! دونوں یمنی ستونوں کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے ۔“
Narrated Nafi`:
Whenever Ibn `Umar رضی اللہ عنہما entered the Ka`ba he used to walk straight keeping the door at his back on entering, and used to proceed on till about three cubits from the wall in front of him, and then he would offer the prayer there aiming at the place where Allah's Messenger (ﷺ) prayed, as Bilal رضی اللہ عنہ had told him. There is no harm for any person to offer the prayer at any place inside the Ka`ba.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے کہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ کے اندر داخل ہوتے تو سامنے کی طرف چلتے اور دروازہ پیٹھ کی طرف چھوڑ دیتے ۔ آپ اسی طرح چلتے رہتے اور جب سامنے کی دیوار تقریباً تین ہاتھ رہ جاتی تو نماز پڑھتے تھے ۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے جس کے متعلق بلال رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز پڑھی تھی ۔ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کعبہ میں جس جگہ بھی کوئی چاہے نماز پڑھ لے ۔
Narrated `Abdullah bin Abu `Aufa:
"Allah's Messenger (ﷺ) performed the `Umra. He performed Tawaf of the Ka`ba and offered two rak`at behind the Maqam (Abraham's place) and was accompanied by those who were screening him from the people." Somebody asked `Abdullah, "Did Allah's Messenger (ﷺ) enter the Ka`ba?" `Abdullah replied in the negative.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی ، انہیں عبداللہ ابن ابی اوفی نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ ”نہیں ۔“
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When Allah's Messenger (ﷺ) came to Mecca, he refused to enter the Ka`ba with idols in it. He ordered (idols to be taken out). So they were taken out. The people took out the pictures of Abraham and Ishmael holding Azlams in their hands. Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah curse these people. By Allah, both Abraham and Ishmael never did the game of chance with Azlams." Then he entered the Ka`ba and said Takbir at its corners but did not offer the prayer in it.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ، آپ نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( فتح مکہ کے دن ) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے ، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے ۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر دے رکھے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے ، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When Allah's Messenger (ﷺ) and his companions came to Mecca, the pagans circulated the news that a group of people were coming to them and they had been weakened by the Fever of Yathrib (Medina). So the Prophet ordered his companions to do Ramal in the first three rounds of Tawaf of the Ka`ba and to walk between the two corners (The Black Stone and Yemenite corner). The Prophet (ﷺ) did not order them to do Ramal in all the rounds of Tawaf out of pity for them.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
( عمرۃ القضاء 7 ھ میں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آئے ہیں ، ان کے ساتھ ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب ( مدینہ منورہ ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے ۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل ( تیز چلنا جس سے اظہار قوت ہو ) کریں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں اس لیے کہ ان پر آسانی ہو ۔
Narrated Salim that his father said:
I saw Allah's Messenger (ﷺ) arriving at Mecca; he kissed the Black Stone Corner first while doing Tawaf and did ramal in the first three rounds of the seven rounds (of Tawaf).
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، انہیں یونس نے ، انہیں زہری نے ، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لاتے تو پہلے طواف شروع کرتے وقت حجراسود کو بوسہ دیتے اور سات چکروں میں سے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے تھے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) did Ramal in (first) three rounds (of Tawaf), and walked in the remaining four, in Hajj and Umra. Laith corroborated him and said: Katheer bin Ferqad narratedd this Hadith to me and he from Hadrat Ibn-e-Umer رضی اللہ عنہما and he from the prophet (ﷺ).
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سریج بن نعمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور بقیہ چار چکروں میں حسب معمول چلے ، حج اور عمرہ دونوں میں ۔ سریج کے ساتھ اس حدیث کو لیث نے روایت کیا ہے ۔ کہا کہ مجھ سے کثیر بن فرقد نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ۔
Narrated Zaid bin Aslam from his father who said:
"`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ addressed the Corner (Black Stone) saying, 'By Allah! I know that you are a stone and can neither benefit nor harm. Had I not seen the Prophet (ﷺ) touching (and kissing) you, I would never have touched (and kissed) you.' Then he kissed it and said, 'There is no reason for us to do Ramal (in Tawaf) except that we wanted to show off before the pagans, and now Allah has destroyed them.' `Umar added, '(Nevertheless), the Prophet (ﷺ) did that and we do not want to leave it (i.e. Ramal).'
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجراسود کو خطاب کر کے فرمایا ” بخدا مجھے خوب معلوم ہے کہ تو صرف ایک پتھر ہے جو نہ کوئی نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی بوسہ نہ دیتا ۔“ اس کے بعد آپ نے بوسہ دیا ۔ پھر فرمایا ” اور اب ہمیں رمل کی بھی کیا ضرورت ہے ۔ ہم نے اس کے ذریعہ مشرکوں کو اپنی قوت دکھائی تھی تو اللہ نے ان کو تباہ کر دیا ۔“ پھر فرمایا ” جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اسے اب چھوڑنا بھی ہم پسند نہیں کرتے ۔“
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
"I have never missed the touching of these two stones of Ka`ba (the Black Stone and the Yemenite Corner) both in the presence and the absence of crowds, since I saw the Prophet (ﷺ) touching them." I asked Nafi`: "Did Ibn `Umar رضی اللہ عنہما use to walk between the two Corners?" Nafi` replied, "He used to walk in order that it might be easy for him to touch it (the Corner Stone)."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ۔
جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکن یمانی کو چومتے ہوئے دیکھا میں نے بھی اس کے چومنے کو خواہ سخت حالات ہوں یا نرم نہیں چھوڑا ۔ میں نے نافع سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں یمنی رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے تھے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ معمول کے مطابق اس لیے چلتے تھے تاکہ حجراسود کو چھونے میں آسانی رہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
In his Last Hajj the Prophet (ﷺ) performed Tawaf of the Ka`ba riding a camel and touched the Black stone with his stick. Darawardi has corroborated him from Zohri's nephnew and he from his uncle.
ہم سے احمد بن صالح اور یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی پر طواف کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجراسود کا استلام ایک چھڑی کے ذریعہ کر رہے تھے.اور یونس کے ساتھ اس حدیث کو دراوردی نے زہری کے بھتیجے سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے چچا ( زہری ) سے ۔
Narrator Abu Ash-Sha'tha
"Who keeps away from some portion of the Ka'bah?" Mu'awiya رضی اللہ عنہ used to touch the four corners of the Ka'bah, Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said to him, "These two corners (the one facing the Hijr) are not to be touched." Mu'awiya رضی اللہ عنہ said, "Nothing is untouchable in the Ka'bah." And Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہما used to touch all the corners of the Ka'bah.
اور محمد بن بکر نے کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھ کو عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ابوالشعثاء نے کہا
بیت اللہ کے کسی بھی حصہ سے بھلا کون پرہیز کر سکتا ہے ۔ اور معاویہ رضی اللہ عنہ چاروں رکنوں کا استلام کرتے تھے ، اس پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ ہم ان دو ارکان شامی اور عراقی کا استلام نہیں کرتے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیت اللہ کا کوئی جزء ایسا نہیں جسے چھوڑ دیا جائے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تمام ارکان کا استلام کرتے تھے ۔
Narrated Salim bin `Abdullah that his father said:
"I have not seen the Prophet (ﷺ) touching except the two Yemenite Corners (i.e. the ones facing Yemen)."
ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا ، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے ، ان سے ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف دونوں یمانی ارکان کا استلام کرتے دیکھا ۔
Narrated Zaid bin Aslam that his father said:
"I saw `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ kissing the Black Stone and he then said, (to it) 'Had I not seen Allah's Apostle kissing you, (stone) I would not have kissed you.' "
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، انہیں ورقاء نے خبر دی ، انہیں زید بن اسلم نے خبر دی ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجراسود کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا کہ ” اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا ۔“
Narrated Az-Zubair bin 'Arabi:
A man asked Ibn `Umar رضی اللہ عنہما about the touching of the Black Stone. Ibn `Umar said, "I saw Allah's Messenger (ﷺ) touching and kissing it." The questioner said, "But if there were a throng (much rush) round the Ka`ba and the people overpowered me, (what would I do?)" He replied angrily, "Stay in Yemen (as that man was from Yemen). I saw Allah's Messenger (ﷺ) touching and kissing it."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے زبیر بن عربی نے بیان کیا کہ
ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجراسود کے بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کو بوسہ دیتے دیکھا ہے ۔“ اس پر اس شخص نے کہا اگر ہجوم ہو جائے اور میں عاجز ہو جاؤں تو کیا کروں ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ” اس اگر وگر کو یمن میں جا کر رکھو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو بوسہ دیتے تھے ۔“
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) performed Tawaf of the Ka`ba while riding a camel, and whenever he came in front of the Corner, he pointed towards it (with something).
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے عکرمہ سے بیان کیا ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹنی پر ( سوار ہو کر کعبہ کا ) طواف کر رہے تھے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجراسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے تھے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) performed Tawaf of the Ka`ba riding a camel, and every time he came in front of the Corner (having the Black Stone), he pointed towards it with something he had with him and said Takbir. Ibrahim bin Tehman corroborated him from Khalid Al-Khadhdha.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف ایک اونٹنی پر سوار رہ کر کیا ۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجراسود کے سامنے پہنچتے تو کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے ۔ خالد طحان کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن طہمان نے بھی خالد حذاء سے روایت کیا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"The first thing the Prophet (ﷺ) did on reaching Mecca, was the ablution and then he performed Tawaf of the Ka`ba and that was not `Umra (alone), (but Hajj-al-Qiran). `Urwa added: Later Abu Bakr and `Umar رضی اللہ عنہما did the same in their Hajj." And I performed the Hajj with my father Az-Zubair رضی اللہ عنہ , and the first thing he did was Tawaf of the Ka`ba. Later I saw the Muhajirin (Emigrants) and the Ansar doing the same. My mother (Asma') told me that she, her sister (`Aisha), Az-Zubair and such and such persons assumed Ihram for `Umra, and after they passed their hands over the Black Stone Corner (of the Ka`ba) they finished the Ihram. (i.e. After doing Tawaf of the Ka`ba and Sa`i between Safa-Marwa.)
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ سے ( حج کا مسئلہ ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی تھی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ( مکہ ) تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ وضو کیا پھر طواف کیا اور طواف کرنے سے عمرہ نہیں ہوا ۔ اس کے بعد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح حج کیا ۔ پھر عروہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا ، انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا ۔ مہاجرین اور انصار کو بھی میں نے اسی طرح کرتے دیکھا تھا ۔ میری والدہ ( اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ) نے بھی مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) اور زبیر اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا تھا ۔ جب ان لوگوں نے حجراسود کو بوسہ دے لیا تو احرام کھول ڈالا تھا ۔