Narrated Mujahid:
I was in the company of Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما and the people talked about Ad-Dajjal and said, "Ad-Dajjal will come with the word Kafir (non-believer) written in between his eyes." On that Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "I have not heard this from the Prophet (ﷺ) but I heard him saying, 'As if I saw Moses just now entering the valley reciting Talbyia. ' "
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن عدی نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عون نے ان سے مجاہد نے بیان کیا ، کہا کہ
ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے ۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو یہ نہیں سنا ۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ وادی میں اترے تو لبیک کہہ رہے ہیں ۔
Narrated Aisha the wife of the Prophet (ﷺ) :
We set out with the Prophet (ﷺ) in his last Hajj and we assumed Ihram for Umra. The Prophet (ﷺ) then said, "Whoever has the Hadi with him should assume Ihram for Hajj along with `Umra and should not finish the Ihram till he finishes both." I was menstruating when I reached Mecca, and so I neither did Tawaf round the Ka`ba nor Tawaf between Safa and Marwa. I complained about that to the Prophet (ﷺ) on which he replied, "Undo and comb your head hair, and assume Ihram for Hajj (only) and leave the Umra." So, I did so. When we had performed the Hajj, the Prophet sent me with my brother `Abdur-Rahman bin Abu Bakr to Tan`im. So I performed the `Umra. The Prophet (ﷺ) said to me, "This `Umra is instead of your missed one." Those who had assumed Ihram for `Umra (Hajj-atTamattu) performed Tawaf round the Ka`ba and between Safa and Marwa and then finished their Ihram. After returning from Mina, they performed another Tawaf (between Safa and Marwa). Those who had assumed Ihram for Hajj and `Umra together (Hajj-al-Qiran) performed only one Tawaf (between Safa and Marwa).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہیں عروہ بن زبیر نے ، ان سے نبی کریم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ہم حجتہ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ پہلے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی ہو تو اسے عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہئے ۔ ایسا شخص درمیان میں حلال نہیں ہو سکتا بلکہ حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ حلال ہو گا ۔ میں بھی مکہ آئی تھی اس وقت میں حائضہ ہو گئی ، اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی ۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا سر کھول ڈال ، کنگھا کر اور عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھ لے ۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا ۔ میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا ( اور عمرہ ادا کیا ) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے ۔ ( جسے تم نے چھوڑ دیا تھا ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے ( حجۃ الوداع میں ) صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا ، وہ بیت اللہ کا طواف صفا اور مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے ۔ پھر منیٰ سے واپس ہونے پر دوسرا طواف ( یعنی طواف الزیارۃ ) کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا ، انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا یعنی طواف الزیارۃ کیا ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) ordered `Ali رضی اللہ عنہ to keep on assuming his Ihram." The narrator then informed about the narration of Suraqa.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ کہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں ۔ انہوں نے سراقہ کا قول بھی ذکر کیا تھا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
`Ali رضی اللہ عنہ came to the Prophet (ﷺ) from Yemen (to Mecca). The Prophet (ﷺ) asked `Ali, "With what intention have you assumed Ihram?" `Ali replied, "I have assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet (ﷺ)." The Prophet (ﷺ) said, "If I had not the Hadi with me I would have finished the Ihram." Muhammad bin Bakr narrated extra from Ibn Juraij, "The Prophet (ﷺ) said to `Ali, "With what intention have you assumed the Ihram, O `Ali?" He replied, "With the same (intention) as that of the Prophet." The Prophet (ﷺ) said, "Have a Hadi and keep your Ihram as it is."
ہم سے حسن بن علی خلال ہذلی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے مروان اصفر سے سنا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کیا تھا کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کس طرح کا احرام باندھا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح کا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا ۔محمد بن بکرابی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:’’اےعلی!تم نے کس چیزکااحرام باندھا ہے؟انہوں نے عرض کیاکہ جس چیز نبیﷺ کا احرام باندھا ہے .رسول اللہﷺ نےحضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا:اپنی قربانی کو قابورکھواورجیسے اس وقت ہواسی حالت میں محرم رہو۔
Narrated Abu Musa:
The Prophet (ﷺ) sent me to some people in Yemen and when I returned, I found him at Al-Batha. He asked me, "With what intention have you assumed Ihram (i.e. for Hajj or for Umra or for both?") I replied, "I have assumed Ihram with an intention like that of the Prophet." He asked, "Have you a Hadi with you?" I replied in the negative. He ordered me to perform Tawaf round the Ka`ba and between Safa and Marwa and then to finish my Ihram. I did so and went to a woman from my tribe who combed my hair or washed my head. Then, when `Umar came (i.e. became Caliph) he said, "If we follow Allah's Book, it orders us to complete Hajj and Umra; as Allah says: "Perform the Hajj and Umra for Allah." (2.196). And if we follow the tradition of the Prophet (ﷺ) who did not finish his Ihram till he sacrificed his Hadi."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے قیس بن مسلم نے ، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ
مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے پاس یمن بھیجا تھا ۔ جب ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطحاء میں ملاقات ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس کا احرام باندھا ہے ؟ میں نے عرض کی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا باندھا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ قربانی ہے ؟ میں نے عرض کی کہ نہیں ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں بیت اللہ کا طواف ، صفا اور مروہ کی سعی کروں چنانچہ میں اپنی قوم کی ایک خاتون کے پاس آیا ۔ انہوں نے میرے سر کا کنگھا کیا یا میرا سرد ھویا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ کی کتاب پر عمل کریں تو وہ یہ حکم دیتی ہے کہ حج اور عمرہ پورا کرو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ اور حج اور عمرہ پورا کرو اللہ کی رضا کے لیے ۔ “ اور اگر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی سے فراغت نہیں حاصل فرمائی ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
"We set out with Allah's Messenger (ﷺ)s in the months of Hajj, and (in) the nights of Hajj, and at the time and places of Hajj and in a state of Hajj. We dismounted at Sarif (a village six miles from Mecca). The Prophet (ﷺ) then addressed his companions and said, "Anyone who has not got the Hadi and likes to do Umra instead of Hajj may do so (i.e. Hajj-al-Tamattu`) and anyone who has got the Hadi should not finish the Ihram after performing ' `Umra). (i.e. Hajj-al-Qiran). Aisha رضی اللہ عنہا نadded, "The companions of the Prophet (ﷺ) obeyed the above (order) and some of them (i.e. who did not have Hadi) finished their Ihram after Umra." Allah's Messenger (ﷺ) and some of his companions were resourceful and had the Hadi with them, they could not perform Umra (alone) (but had to perform both Hajj and Umra with one Ihram). Aisha added, "Allah's Messenger (ﷺ) came to me and saw me weeping and said, "What makes you weep, O Hantah?" I replied, "I have heard your conversation with your companions and I cannot perform the Umra." He asked, "What is wrong with you?' I replied, ' I do not offer the prayers (i.e. I have my menses).' He said, ' It will not harm you for you are one of the daughters of Adam, and Allah has written for you (this state) as He has written it for them. Keep on with your intentions for Hajj and Allah may reward you that." Aisha further added, "Then we proceeded for Hajj till we reached Mina and I became clean from my menses. Then I went out from Mina and performed Tawaf round the Ka`ba." Aisha added, "I went along with the Prophet (ﷺ) in his final departure (from Hajj) till he dismounted at Al-Muhassab (a valley outside Mecca), and we too, dismounted with him." He called ' `Abdur-Rahman bin Abu Bakr and said to him, ' Take your sister outside the sanctuary of Mecca and let her assume Ihram for ' `Umra, and when you had finished ' `Umra, return to this place and I will wait for you both till you both return to me.' " ' Aisha added, " So we went out of the sanctuary of Mecca and after finishing from the ' `Umra and the Tawaf we returned to the Prophet (ﷺ) at dawn. He said, 'Have you performed the ' `Umra?' We replied in the affirmative. So he announced the departure amongst his companions and the people set out for the journey, and the Prophet: too left for Medina.''(Imam Abu Abdullah bukhari said) it is also said. وَضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا is derived from. It is also said: ضَارَ يَضُورُ ضَوْرًا and ضَرَّيَضُرُّ ضَرًّا .
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں حج کی راتوں میں اور حج کے دنوں میں نکلے ۔ پھر سرف میں جا کر اترے ۔ آپ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو اور وہ چاہتا ہو کہ اپنے احرام کو صرف عمرہ کا بنا لے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہ کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے اس فرمان پر عمل کیا اور بعض نے نہیں کیا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعض اصحاب جو استطاعت و حوصلہ والے تھے ( کہ وہ احرام کے ممنوعات سے بچ سکتے تھے ۔ ) ان کے ساتھ ہدی بھی تھی ، اس لیے وہ تنہا عمرہ نہیں کر سکتے تھے ( پس انہوں نے احرام نہیں کھولا ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ( اے بھولی بھالی عورت ! تو ) رو کیوں رہی ہے ؟ میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کے اپنے صحابہ سے ارشاد کو سن لیا ، اب تو میں عمرہ نہ کر سکوں گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا میں نماز پڑھنے کے قابل نہ رہی ( یعنی حائضہ ہو گئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں ۔ آخر تم بھی تو آدم کی بیٹیوں کی طرح ایک عورت ہو اور اللہ نے تمہارے لیے بھی وہ مقدر کیا ہے جو تمام عورتوں کے لیے کیا ہے ۔ اس لیے ( عمرہ چھوڑ کر ) حج کرتی رہ اللہ تعالیٰ تمہیں جلد ہی عمرہ کی توفیق دیدے گا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بیان کیا کہ ہم حج کے لیے نکلے ۔ جب ہم ( عرفات سے ) منیٰ پہنچے تو میں پاک ہو گئی ۔ پھر منٰی سے جب میں نکلی تو بیت اللہ کا طواف الزیارۃ کیا ۔ آپ نے بیان کیا کہ آخر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب واپس ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی محصب میں آن کر اترے ۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلا کر کہا کہ اپنی بہن کو لے کر حرم سے باہر جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ پھر عمرہ سے فارغ ہو کر تم لوگ یہیں واپس آ جاؤ ، میں تمہارا انتظار کرتا رہوں گا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم ( آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ) چلے اور جب میں اور میرے بھائی طواف سے فارغ ہو لیے تو میں سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ فارغ ہو لیں ؟ میں نے کہا ہاں ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے سفر شروع کر دینے کے لیے کہا ۔ سفر شروع ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری ) نے کہا کہ جو «لايضيرک» ہے وہ «ضار يضير ضيراا» سے مشتق ہے ضار يضور ضورا» بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اور جس روایت میں «لايضرک» ہے وہ «ضر يضر ضرا» سے نکلا ہے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا:
We went out with the Prophet (from Medina) with the intention of performing Hajj only and when we reached Mecca we performed Tawaf round the Ka`ba and then the Prophet (ﷺ) ordered those who had not driven the Hadi along with them to finish their Ihram. So the people who had not driven the Hadi along with them finished their Ihram. The Prophet's wives, too, had not driven the Hadi with them, so they too, finished their Ihram." `Aisha added, "I got my menses and could not perform Tawaf round the Ka`ba." So when it was the night of Hasba (i.e. when we stopped at Al-Muhassab), I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Everyone is returning after performing Hajj and `Umra but I am returning after performing Hajj only.' He said, 'Didn't you perform Tawaf round the Ka`ba the night we reached Mecca?' I replied in the negative. He said, 'Go with your brother to Tan`im and assume the Ihram for `Umra, (and after performing it) come back to such and such a place.' On that Safiya said, 'I feel that I will detain you all.' The Prophet (ﷺ) said, 'O 'Aqra Halqa! Didn't you perform Tawaf of the Ka`ba on the day of sacrifice? (i.e. Tawaf-al-ifada) Safiya رضی اللہ عنہا replied in the affirmative. He said, (to Safiya). 'There is no harm for you to proceed on with us.' " `Aisha رضی اللہ عنہا added, "(after returning from `Umra), the Prophet (ﷺ) met me while he was ascending (from Mecca) and I was descending to it, or I was ascending and he was descending."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
ہم حج کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ( اور لوگوں نے ) بیت اللہ کا طواف کیا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۔ چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہو گئے ۔ ( افعال عمرہ کے بعد ) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہدی نہیں لے گئی تھیں ، اس لیے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی تھیں اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی ( یعنی عمرہ چھوٹ گیا اور حج کرتی چلی گئی ) جب محصب کی رات آئی ، میں نے کہا یا رسول اللہ ! اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کر سکی تھی ؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ ( پھر عمرہ ادا کر ) ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے اور صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ ( لوگوں ) کو روکنے کا سبب بن جاؤں گی ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے یوم نحر کا طواف نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں میں تو طواف کر چکی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں چل کوچ کر ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصہ پر چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس چڑھاؤ کے بعد اتر رہے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
We set out with Allah's Messenger (ﷺ)s (to Mecca) in the year of the Prophet's Last Hajj. Some of us had assumed Ihram for `Umra only, some for both Hajj and `Umra, and others for Hajj only. Allah's Apostle assumed Ihram for Hajj. So whoever had assumed Ihram for Hajj or for both Hajj and `Umra did not finish the Ihram till the day of sacrifice. (See Hadith No. 631, 636, and 639).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ہم حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے ۔ کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا ، کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا اور کچھ نے صرف حج کا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پہلے ) صرف حج کا احرام باندھا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ بھی شریک کر لیا ، پھر جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا ، ان کا احرام دسویں تاریخ تک نہ کھل سکا ۔
Narrated Marwan bin Al-Hakam:
I saw `Uthman and `Ali. `Uthman رضی اللہ عنہما used to forbid people to perform Hajj-at-Tamattu` and Hajj-al- Qiran (Hajj and `Umra together), and when `Ali رضی اللہ عنہما saw (this act of `Uthman), he assumed Ihram for Hajj and `Umra together saying, "Lubbaik for `Umra and Hajj," and said, "I will not leave the tradition of the Prophet (ﷺ) on the saying of somebody."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے ، ان سے علی بن حسین ( حضرت زین العابدین ) نے اور ان سے مروان بن حکم نے بیان کیا کہ
حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو میں نے دیکھا ہے ۔ عثمان رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے سے روکتے تھے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا اور کہا «لبيك بعمرة وحجة» آپ نے فرمایا تھا کہ میں کسی ایک شخص کی بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں چھوڑ سکتا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The people (of the Pre-Islamic Period) used to think that to perform `Umra during the months of Hajj was one of the major sins on earth. And also used to consider the month of Safar as a forbidden (i.e. sacred) month and they used to say, "When the wounds of the camel's back heal up (after they return from Hajj) and the signs of those wounds vanish and the month of Safar passes away then (at that time) `Umra is permissible for the one who wishes to perform it." In the morning of the 4th of Dhul- Hijja, the Prophet (ﷺ) and his companions reached Mecca, assuming Ihram for Hajj and he ordered his companions to make their intentions of the Ihram for `Umra only (instead of Hajj) so they considered his order as something great and were puzzled, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What kind (of finishing) of Ihram is allowed?" The Prophet (ﷺ) replied, "Finish the Ihram completely like a non-Muhrim (you are allowed everything)."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
عرب سمجھتے تھے کہ حج کے دنوں میں عمرہ کرنا روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ ہے ۔ یہ لوگ محرم کو صفر بنا لیتے اور کہتے کہ جب اونٹ کی پیٹھ سستا لے اور اس پر خوب بال اگ جائیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے ( یعنی حج کے ایام گزر جائیں ) تو عمرہ حلال ہوتا ہے ۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ چوتھی کی صبح کو حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حج کو عمرہ بنا لیں ، یہ حکم ( عرب کے پرانے رواج کی بنا پر ) عام صحابہ پر بڑا بھاری گزرا ۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! عمرہ کر کے ہمارے لیے کیا چیز حلال ہو گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
I came to the Prophet (from Yemen and was assuming Ihram for Hajj) and he ordered me to finish the Ihram (after performing the `Umra).
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر غندر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قیس بن مسلم نے ، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( حجتہ الوداع کے موقع پر یمن سے ) حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ کو عمرہ کے بعد ) احرام کھول دینے کا حکم دیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Hafsa رضی اللہ عنہا the wife of the Prophet (ﷺ) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why have the people finished their Ihram after performing `Umra but you have not finished your Ihram after performing `Umra?" He replied, "I have matted my hair and garlanded my Hadi. So I will not finish my Ihram till I have slaughtered (my Hadi). "
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ ! کیا بات ہے اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے ؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کی تلبید ( بالوں کو جمانے کے لیے ایک لیس دار چیز کا استعمال کرنا ) کی ہے اور اپنے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) لایا ہوں اس لیے میں قربانی کرنے سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا ۔
Narrated Abu Jamra Nasr bin `Imran Ad-Duba'i:
"I intended to perform Hajj-at-Tamattu` and the people advised me not to do so. I asked Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما regarding it and he ordered me to perform Hajj-at- Tammatu'. Later I saw in a dream someone saying to me, 'Hajj-Mabrur (Hajj performed in accordance with the Prophet's tradition without committing sins and accepted by Allah) and an accepted `Umra.' So I told that dream to Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما . He said, 'This is the tradition of Abul-Qasim.' Then he said to me, 'Stay with me and I shall give you a portion of my property.' " I (Shu`ba) asked, "Why (did he invite you)?" He (Abu Jamra) said, "Because of the dream which I had seen."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصربن عمران ضبعی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
میں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تو کچھ لوگوں نے مجھے منع کیا ۔ اس لیے میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا ۔ آپ نے تمتع کرنے کے لیے کہا ۔ پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ مجھ سے کہہ رہا ہے ” حج بھی مبرور ہوا اور عمرہ بھی قبول ہوا “ میں نے یہ خواب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنایا ، تو آپ نے فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میرے یہاں قیام کر ، میں اپنے پاس سے تمہارے لیے کچھ مقرر کر کے دیا کروں گا ۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے ( ابوجمرہ سے ) پوچھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کیوں کیا تھا ؟ ( یعنی مال کس بات پر دینے کے لیے کہا ) انہوں نے بیان کیا کہ اسی خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھا تھا ۔
Narrated Abu Shihab:
I left for Mecca for Hajj-at-Tamattu` assuming Ihram for `Umra. I reached Mecca three days before the day of Tarwiya (8th Dhul-Hijja). Some people of Mecca said to me, "Your Hajj will be like the Hajj performed by the people of Mecca (i.e. you will lose the superiority of assuming Ihram from the Miqat). So I went to `Ata' asking him his view about it. He said, "Jabir bin `Abdullah narrated to me, 'I performed Hajj with Allah's Messenger (ﷺ) on the day when he drove camels with him. The people had assumed Ihram for Hajj-al-Ifrad. The Prophet (ﷺ) ordered them to finish their Ihram after Tawaf round the Ka`ba, and between Safa and Marwa and to cut short their hair and then to stay there (in Mecca) as non-Muhrims till the day of Tarwiya (i.e. 8th of Dhul-Hijja) when they would assume Ihram for Hajj and they were ordered to make the Ihram with which they had come as for `Umra only. They asked, 'How can we make it `Umra (Tamattu`) as we have intended to perform Hajj?' The Prophet (ﷺ) said, 'Do what I have ordered you. Had I not brought the Hadi with me, I would have done the same, but I cannot finish my Ihram till the Hadi reaches its destination (i.e. is slaughtered).' So, they did (what he ordered them to do)." Imam Abu Abdullah Bukhari said: Abu shihab does not have any Musnad Hadith expect for this one.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، ان سے ابوشہاب نے کہا کہ
میں تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھ کے یوم ترویہ سے تین دن پہلے مکہ پہنچا ۔ اس پر مکہ کے کچھ لوگوں نے کہا اب تمہارا حج مکی ہو گا ۔ میں عطاء بن ابی رباح کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ یہی پوچھنے کے لیے ۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ حج کیا تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ قربانی کے اونٹ لائے تھے ( یعنی حجتہ الوداع ) صحابہ نے صرف مفرد حج کا احرام باندھا تھا ۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ( عمرہ کا احرام باندھ لو اور ) بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد اپنے احرام کھول ڈالو اور بال ترشوا لو ۔ یوم ترویہ تک برابر اسی طرح حلال رہو ، پھر یوم ترویہ میں مکہ ہی سے حج کا احرام باندھو اور اس طرح اپنے حج مفرد کو جس کی تم نے پہلے نیت کی تھی ، اب اسے تمتع بنا لو ۔ صحابہ نے عرض کی کہ ہم اسے تمتع کیسے بنا سکتے ہیں ؟ ہم تو حج کا احرام باندھ چکے ہیں ۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح میں کہہ رہا ہوں ویسے ہی کرو ۔ اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو خود میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح تم سے کہہ رہا ہوں ۔ لیکن میں کیا کروں اب میرے لیے کوئی چیز اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی جب تک میرے قربانی کے جانوروں کی قربانی نہ ہو جائے ۔ چنانچہ صحابہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ ابوشہاب کی اس حدیث کے سوا اور کوئی مرفوع حدیث مروی نہیں ہے ۔
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:
`Ali and `Uthman رضی اللہ عنہما differed regarding Hajj-at-Tamattu` while they were at 'Usfan (a familiar place near Mecca). `Ali رضی اللہ عنہما said, "I see you want to forbid people to do a thing that the Prophet (ﷺ) did?" When `Ali saw that, he assumed Ihram for both Hajj and `Umra.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، ان سے سعید بن مسیب نے کہ
حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما عسفان آئے تو ان میں باہم تمتع کے سلسلے میں اختلاف ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہا ہے اس سے آپ کیوں روک رہے ہیں ؟ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اپنے حال پر رہنے دو ۔ یہ دیکھ کر علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
We came with Allah's Messenger (ﷺ) (to Mecca) and we were saying: 'Labbaika Allahumma Labbaik' for Hajj. Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to perform `Umra with that Ihram (instead of Hajj).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا ، انہوں نے کہا ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے تو ہم نے حج کی لبیک پکاری ۔ پھر رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہم نے اسے عمرہ بنا لیا ۔
Narrated `Imran:
We performed Hajj-at-Tamattu` in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and then the Qur'an was revealed (regarding Hajj-at-Tamattu`) and somebody said what he wished (regarding Hajj-at-Tamattu`) according his own opinion.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا کہا کہ مجھ سے مطرف نے عمران بن حصین سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے تمتع کیا تھا اور خود قرآن میں تمتع کا حکم نازل ہوا تھا ۔ اب ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا ۔
Hadrat Ikrimah reports that Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما was asked about Hajj-e-t
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said that he has been asked regarding Hajj-at-Tamattu' on which he said, "The Muhajirin and the Ansar and the wives of the Prophet (ﷺ) and we did the same. When we reached Makkah, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Give up your intention of doing the Hajj (at this moment) and perform 'Umra, except the one who had garlanded the Hady." So, we performed Tawaf round the Ka'bah and [Sa'y] between As-safa and Al-MArwa, slept with our wives and wore ordinary (stitched) clothes. The Prophet (ﷺ) added, "Whoever has garlanded his Hady is not allowed to finish the Ihram till the Hady has reached its destination (has been sacrificed)". Then on the night of Tarwiya (8th Dhul Hijjah, in the afternoon) he ordered us to assume Ihram for Hajj and when we have performed all the ceremonies of Hajj, we came and performed Tawaf round the Ka'bah and (Sa'y) between As-Safa and Al-Marwa, and then our Hajj was complete, and we had to sacrifice a Hady according to the statement of Allah: "... He must slaughter a Hady such as he can afford, but if he cannot afford it, he should observer Saum (fasts) three days during the Hajj and seven days after his return (to his home)…." (V. 2:196). And the sacrifice of the sheep is sufficient. So, the Prophet (ﷺ) and his Companions honied the two religious deeds, (i.e. Hajj and 'Umra) in one year, for Allah revealed (the permissibility) of such practice in His book and in the Sunna (legal ways) of His Prophet (ﷺ) and rendered it permissible for all the people except those living in Makkah. Allah says: "This is for him whose family is not present at the Al-Masjid-Al-Haram, (i.e. non resident of Makkah)." The months of Hajj which Allah mentioned in His book are: Shawwal, Dhul-Qa'da and Dhul-Hijjah. Whoever performed Hajj-at-Tamattu' in those months, then slaughtering or fasting is compulsory for him. The words: 1. Ar-Rafatha means sexual intercourse. 2. Al-Fasuq means all kinds of sin, and 3. Al-Jidal means to dispute.
اور ابو کامل فضیل بن حسین بصریٰ نے کہا کہ ہم سے ابو معشر یوسف بن یزید براء نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عثمان بن غیاث نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ،
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حج میں تمتع کے متعلق پوچھا گیا ۔ آپ نے فرمایا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر مہاجرین انصار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اور ہم سب نے احرام باندھا تھا ۔ جب ہم مکہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے احرام کو حج اور عمرہ دونوں کے لیے کر لو لیکن جو لوگ قربانی کا جانور اپنے ساتھ لائے ہیں ۔ ( وہ عمرہ کرنے کے بعد حلال نہیں ہوں گے ) چنانچہ ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو اپنا احرام کھول ڈالا اور ہم اپنی بیویوں کے پاس گئے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ لے ( یعنی قربانی نہ ہولے ) ہمیں ( جنہوں نے ہدی ساتھ نہیں لی تھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھویں تاریخ کی شام کو حکم دیا کہ ہم حج کا احرام باندھ لیں ۔ پھر جب ہم مناسک حج سے فارغ ہو گئے تو ہم نے آ کر بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر ہمارا حج پورا ہو گیا اور اب قربانی ہم پر لازم ہوئی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” جسے قربانی کا جانور میسر ہو ( تو وہ قربانی کرے ) اور اگر کسی کو قربانی کی طاقت نہ ہو تو تین روزے حج میں اور سات دن گھر واپس ہونے پر رکھے ( قربانی میں ) بکری بھی کافی ہے ۔ تو لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں عبادتیں ایک ہی سال میں ایک ساتھ ادا کیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر خود عمل کر کے تمام لوگوں کے لیے جائز قرار دیا تھا ۔ البتہ مکہ کے باشندوں کا اس سے استثناء ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجدالحرام کے پاس رہنے والے نہ ہوں “ ۔ اور حج کے جن مہینوں کا قرآن میں ذکر ہے وہ شوال ، ذیقعدہ اور ذی الحجہ ہیں ۔ ان مہینوں میں جو کوئی بھی تمتع کرے وہ یا قربانی دے یا اگر مقدور نہ ہو تو روزے رکھے ۔ اور «رفث» کا معنی جماع ( یا فحش باتیں ) اور «فسوق» گناہ اور «جدال» لوگوں سے جھگڑنا ۔
Narrated Nafi`:
On reaching the sanctuary of Mecca, Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to stop, reciting Talbiya and then he would pass the night at Dhi-Tuwa and then offer the Fajr prayer and take a bath. He used to say that the Prophet (ﷺ) used to do the same.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، انہیں ایوب سختیانی نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہوں نے بیان کیا کہ
جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حرم کی سرحد کے قریب پہنچتے تو تلبیہ کہنا بند کر دیتے ۔ رات ذی طویٰ میں گزارتے ، صبح کی نماز وہیں پڑھتے اور غسل کرتے ( پھر مکہ میں داخل ہوتے ) آپ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
"The Prophet (ﷺ) passed the night at Dhi-Tuwa till it was dawn and then he entered Mecca." Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to do the same.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ میں رات گزاری ۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے ۔