Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
It (i.e. Al-Abtah) was a place where the Prophet (ﷺ) used to camp so that it might be easier for him to depart (to Madinah Munawwarah: Irfan) is Abtah.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے کوچ کر کے یہاں محصب میں اس لیے اترے تھے تاکہ آسانی کے ساتھ مدینہ کو نکل سکیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ابطح میں اترنے سے تھی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Staying at Al-Mahassab is not one of the ceremonies (of Hajj), but Al-Mahassab is a place where Allah's Messenger (ﷺ) camped (during his Hajjat-al-Wida).
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
محصب میں اترنا حج کی کوئی عبادت نہیں ہے ، یہ تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی جگہ تھی ۔
Narrated Nafi`:
Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to spend the night at Dhi-Tuwa in between the two Thaniyas and then he would enter Mecca through the Thaniya which is at the higher region of Mecca, and whenever he came to Mecca for Hajj or `Umra, he never made his she camel kneel down except near the gate of the Masjid (Sacred Mosque) and then he would enter (it) and go to the Black (stone) Corner and start from there circumambulating the Ka`ba seven times: hastening in the first three rounds (Ramal) and walking in the last four. On finishing, he would offer two rak`at prayer and set out to perform Tawaf between Safa and Marwa before returning to his dwelling place. On returning (to Medina) from Hajj or `Umra, he used to make his camel kneel down at Al-Batha which is at Dhul-Hulaifa, the place where the Prophet used to make his camel kneel down.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے کہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ جاتے وقت ذی طویٰ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان رات گزارتے تھے اور پھر اس پہاڑی سے ہو کر گزرتے جو مکہ کے اوپر کی طرف ہے اور جب مکہ میں حج یا عمرہ کا احرام باندھنے آتے تو اپنی اونٹنی مسجد کے دروازہ پر لا کر بٹھاتے پھر حجراسود کے پاس آتے اور یہیں سے طواف شروع کرتے ، طواف سات چکروں میں ختم ہوتا جس کے شروع میں رمل کرتے اور چار میں معمول کے مطابق چلتے ، طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے پھر ڈیرہ پر واپس ہونے سے پہلے صفا اور مروہ کی دوڑ کرتے ۔ جب حج یا عمرہ کر کے مدینہ واپس ہوتے تو ذو الحلیفہ کے میدان میں سواری بٹھاتے ، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ( مکہ سے مدینہ واپس ہوتے ہوئے ) اپنی سواری بٹھایا کرتے تھے ۔
Narrated Nafi` :
'Allah's Messenger (ﷺ)s, `Umar and Ibn `Umar رضی اللہ عنہم camped there." Nafi` added, "Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to offer the Zuhr and `Asr prayers at it (i.e. Al-Mahassab)." I think he mentioned the Maghrib prayer also. I said, "I don't doubt about `Isha' (i.e. he used to offer it there also), and he used to sleep there for a while. He used to say, 'The Prophet (ﷺ) used to do the same.' "
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ عبیداللہ سے محصب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نافع سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے محصب میں قیام فرمایا تھا ۔ نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں ظہر اور عصر پڑھتے تھے ۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے مغرب ( پڑھنے کا بھی ) ذکر کیا ، خالد نے بیان کیا کہ عشاء میں مجھے کوئی شک نہیں ۔ اس کے پڑھنے کا ذکر ضرور کیا پھر تھوڑی دیر کے لیے وہاں سو رہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی مذکور ہے ۔
Narrated Nafi':
Whenver Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما approached (Makkah) he used to pass the night at Dhi-Tuwa till dawn, and then he would enter Makkah. On his return, he used to pass by Dhi-Tuwa and pass the night there till dawn, and he used to say that the Prophet (ﷺ) used to do the same.
اور محمد بن عیسیٰ نے کہا کہ ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا کہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مدینہ سے مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے اور جب صبح صادق ہوتی تو مکہ میں داخل ہوتے ۔ اسی طرح مکہ سے واپسی میں بھی ذی طویٰ سے گزرتے اور وہیں رات گزارتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے ۔
Narrated Ibn ' `Abbas رضی اللہ عنہما :
Dhul-Majaz and `Ukaz were the markets of the people during the Pre-Islamic period of ignorance. When the people embraced Islam, they disliked to do bargaining there till the following Holy Verses were revealed:-- There is no harm for you If you seek of the bounty Of your Lord (during Hajj by trading, etc.) (2.198)
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ذو المجاز اور عکاظ عہد جاہلیت کے بازار تھے جب اسلام آیا تو گویا لوگوں نے ( جاہلیت کے ان بازاروںمیں ) خریدوفروخت کو برا خیال کیا اس پر ( سورۃ البقرہ کی ) یہ آیت نازل ہوئی ” تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل کی تلاش کرو ، یہ حج کے زمانہ کے یے تھا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Safiya رضی اللہ عنہا got her menses on the night of Nafr (departure from Hajj), and she said, "I see that I will detain you." The Prophet (ﷺ) said, "Aqra Halqa! Did she perform the Tawaf on the Day of Nahr (slaughtering)?" Somebody replied in the affirmative. He said, "Then depart." (Different narrators mentioned that) `Aisha رضی اللہ عنہا said, "We set out with Allah''s Apostle (from Medina) with the intention of performing Hajj only. When we reached Mecca, he ordered us to finish the Ihram. When it was the night of Nafr (departure), Safiya bint Huyay got her menses. The Prophet (ﷺ) said, "Halqa Aqra! I think that she will detain you," and added, "Did you perform the Tawaf (Al-Ifada) on the Day of Nahr (slaughtering)?" She replied, "Yes." He said, "Then depart." I said, "O Allah''s Apostle! I have not (done the Umra)." He replied, "Perform `Umra from Tan`im." My brother went with me and we came across the Prophet (ﷺ) in the last part of the night. He said, "Wait at such and such a place."
ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا ، ان سے اسود نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
مکہ سے روانگی کی رات صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں ، انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے روکنے کا باعث بن جاؤں گی ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا ، محمد بن سلام نے ( اپنی روایت میں ) یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے محاضر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حجۃ الوادع ) میں مدینہ سے نکلے تو ہماری زبانوں پر صر ف حج کا ذکر تھا ۔ جب ہم مکہ پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول دینے کا حکم دیا ( افعال عمرہ کے بعد جن کے ساتھ قربانی نہیں تھی ) روانگی کی رات صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں ، آنحضرت صلی اللہ علی وسلم نے اس پر فرمایا «عقرى حلقى» ایسا معلوم ہوتا کہ تم ہمیں روکنے کا باعث بنو گی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا قربانی کے دن تم نے طواف الزیارۃ کر لیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلی چلو ! ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق کہا کہ ) میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں نے احرام نہیں کھولا ہے آپ نے فرمایا کہ تم تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھ لو ( اور عمرہ کر لو ) چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کے بھائی گئے ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا کہ ہم رات کے آخر میں واپس لوٹ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم تمہار انتظار فلاں جگہ کریں گے ۔
We asked Jabir bin `Abdullah (the same question) and he said, "He (that man) should not come near (his wife) till he has completed Tawaf between Safa and Marwa."
ہم نے اس کے متعلق جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ
صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے بیوی کے قریب بھی نہ جائے ۔