Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
A group of three men came to the houses of the wives of the Prophet (ﷺ) asking how the Prophet (ﷺ) worshipped (Allah), and when they were informed about that, they considered their worship insufficient and said, "Where are we from the Prophet (ﷺ) as his past and future sins have been forgiven." Then one of them said, "I will offer the prayer throughout the night forever." The other said, "I will fast throughout the year and will not break my fast." The third said, "I will keep away from the women and will not marry forever." Allah's Messenger (ﷺ) came to them and said, "Are you the same people who said so-and-so? By Allah, I am more submissive to Allah and more afraid of Him than you; yet I fast and break my fast, I do sleep and I also marry women. So he who does not follow my tradition in religion, is not from me (not one of my followers).
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، کہا ہم کو حمید بن ابی حمید طویل نے خبر دی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
تین حضرات ( علی بن ابی طالب ، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے ، جب انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیاتو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات پھر نماز پڑھا کروں گا ۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا ۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں ؟ سن لو ! اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں ۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں ۔ نماز پڑھتا ہوں ( رات میں ) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں ۔ میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے ۔
Narrated 'Urwa:
He asked `Aisha رضی اللہ عنہا about the Statement of Allah: 'If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls, then marry (other) women of your choice, two or three or four; but if you fear that you shall not be able to deal justly (with them), then only one, or (the captives) that your right hands possess. That will be nearer to prevent you from doing injustice.' (4.3) `Aisha رضی اللہ عنہا said, "O my nephew! (This Verse has been revealed in connection with) an orphan girl under the guardianship of her guardian who is attracted by her wealth and beauty and intends to marry her with a Mahr less than what other women of her standard deserve. So they (such guardians) have been forbidden to marry them unless they do justice to them and give them their full Mahr, and they are ordered to marry other women instead of them."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے حسان بن ابراہیم سے سنا ، انہوں نے یونس بن یزید ایلی سے ، ان سے زہری نے ، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی
اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء کے متعلق پوچھا ” اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں سے انصاف نہ کرسکوگے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو ۔ دودو سے ، خواہ تین تین سے ، خواہ چار چار سے ، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکوگے تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو ، اس صورت میں قوی امید ہے کہ تم ظلم وزیادتی نہ کر سکوگے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بھانجے ! آیت میں ایسی یتیم مالدار لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو ۔ وہ لڑکی کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہو اور اس سے معمولی مہر پر شادی کر نا چاہتا ہو تو ایسے شخص کو اس آیت میں ایسی لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ہا ں اگر اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو اور پورا مہر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اجازت ہے ، ورنہ ایسے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اپنی پرورش میں یتیم لڑکیوں کے سوا اور دوسری لڑکیوں سے شادی کر لیں ۔
Narrated 'Alqama:
While I was with `Abdullah رضی اللہ عنہما , `Uthman رضی اللہ عنہ met him at Mina and said, "O Abu `Abdur-Rahman ! I have something to say to you." So both of them went aside and `Uthman رضی اللہ عنہ said, "O Abu `Abdur-Rahman! Shall we marry you to a virgin who will make you remember your past days?" When `Abdullah رضی اللہ عنہ felt that he was not in need of that, he beckoned me (to join him) saying, "O 'Alqama!" Then I heard him saying (in reply to `Uthman رضی اللہ عنہ), "As you have said that, (I tell you that) the Prophet (ﷺ) once said to us, 'O young people! Whoever among you is able to marry, should marry, and whoever is not able to marry, is recommended to fast, as fasting diminishes his sexual power.
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے علقمہ بن قیس نے بیان کیا کہ
میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، ان سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا اے ابوعبدالرحمن ! مجھے آپ سے ایک کام ہے پھر وہ دونوں تنہائی میں چلے گئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن ! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کر دیں جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے ۔ چونکہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے اس لئے انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور کہا علقمہ ! میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا اے نوجوانو ! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ خواہش نفسانی کو توڑ دے گا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
We were with the Prophet (ﷺ) while we were young and had no wealth whatever. So Allah's Messenger (ﷺ) said, "O young people! Whoever among you can marry, should marry, because it helps him lower his gaze and guard his modesty (i.e. his private parts from committing illegal sexual intercourse etc.), and whoever is not able to marry, should fast, as fasting diminishes his sexual power."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے علقمہ اور اسود ( رحمہم اللہ ) کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے ہم سے کہا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ، نوجوانوں کی جماعت ! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لئے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا ۔
Narrated 'Ata:
We presented ourselves along with Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما at the funeral procession of Maimuna رضی اللہ عنہا at a place called Sarif. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "This is the wife of the Prophet (ﷺ) so when you lift her bier, do not Jerk it or shake it much, but walk smoothly because the Prophet (ﷺ) had nine wives and he used to observe the night turns with eight of them, and for one of them there was no night turn."
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطابن ابی رباح نے خبر دی کہا کہ
ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو زور زور سے حرکت نہ دینا بلکہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ جنازہ کو لے کر چلنا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں آٹھ کے لئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باری مقرر کر رکھی تھی لیکن ایک کی باری نہیں تھی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to go round (have sexual relations with) all his wives in one night, and he had nine wives. Khaleefah Yazeed bin Zuhrai, Saeed, Qatadah, Hadrat Anas رضی اللہ عنہ reported from the prophet ﷺ similarly.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ا ن سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں ۔ حضرت امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ ابن خیاط نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث بیان کی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"Are you married?" I replied, "No." He said, "Marry, for the best person of this (Muslim) nation (i.e., Muhammad) of all other Muslims, had the largest number of wives."
ہم سے علی بن حکم انصاری نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے رقبہ نے ، ان سے طلحہ الیامی نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ
تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شادی کر لو کیونکہ اس امت کے بہترین شخص جو تھے ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کی بہت سی بیویاں تھیں ۔ بعضوں نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اس امت میں اچھے وہی لوگ ہیں جن کی بہت عورتیں ہوں ۔
Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The rewards (of deeds) are according to the intention, and everybody will get the reward for what he has intended. So whoever emigrated for Allah's and His Apostle's sake, his emigration was for Allah and His Apostle; and whoever emigrated for worldly benefits, or to marry a woman, then his emigration was for the thing for what he emigrated for." (1)
ہم سے یحی بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے یحی بن سعید نے ، ان سے محمدبن ابراہیم بن حارث نے ، ان سے علقمہ بن وقاص نے اور ان سے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کا دار ومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے اس لئے جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو ، اسے اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل ہو گی لیکن جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کی نیت سے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے اردہ سے ہو ، اس کی ہجرت اسی کے لئے ہے جس کے لئے اس نے ہجرت کی ۔
Narrated Ibn Masud رضی اللہ عنہما :
We used to fight in the holy battles in the company of the Prophet (ﷺ) and we had no wives with us. So we said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we get castrated?" The Prophet (ﷺ) forbade us to do so.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے قیس نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا کرتے تھے اور ہمار ے ساتھ بیویاں نہیں تھیں ۔ اس لئے ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم اپنے آپ کو خصی کیوں نہ کر لیں ؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرمایا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
`Abdur-Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ came (from Mecca to Medina) and the Prophet (ﷺ) made a bond of brotherhood between him and Sa`d bin Ar-Rabi` Al-Ansari رضی اللہ عنہ . Al-Ansari had two wives, so he suggested that `Abdur- Rahman رضی اللہ عنہ take half, his wives and property. `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ replied, "May Allah bless you with your wives and property. Kindly show me the market." So `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ went to the market and gained (in bargains) some dried yoghurt and some butter. After a few days the Prophet (ﷺ) saw `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ with some yellow stains on his clothes and asked him, "What is that, O `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ ?" He replied, "I had married an Ansari woman." The Prophet (ﷺ) asked, "How much Mahr did you give her?" He replied, "The weight of one (date) stone of gold." The Prophet (ﷺ) said, "Offer a banquet, even with one sheep."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، ان سے حمید طویل نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، بیان کیا کہ
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( ہجرت کر کے مدینہ ) آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا ۔ سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دو بیو یاں تھیں ۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے اہل ( بیوی ) اور مال میں سے آدھے لیں ۔ اس پر عبد الر حمن نے کہا کہ اللہ تعا لیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت دے ، مجھے تو بازار کا راستہ بتا دو ۔ چنانچہ آپ بازار آئے اور یہاں آپ نے کچھ پنیر اور کچھ گھی کی تجارت کی اور نفع کمایا ۔ چند دنوں کے بعد ان پر زعفران کی زردی لگی ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبدالرحمٰن یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصار ی خاتون سے شادی کر لی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو ۔
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade `Uthman bin Maz'un to abstain from marrying (and other pleasures) and if he had allowed him, we would have gotten ourselves castrated.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےعثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو نکاح تبتل یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع فرمایا تھا ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم تو خصی ہی ہو جاتے ۔
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) prevented `Uthman bin Mazun رضی اللہ عنہ from that (not marrying), and had he allowed him, we would have got ourselves castrated.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو عورت سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے کو خصی بنا لیتے ۔
Narrated 'Abdullah رضی اللہ عنہما :
We used to participate in the holy battles led by Allah's Messenger (ﷺ) and we had nothing (no wives) with us. So we said, "Shall we get ourselves castrated?" He forbade us that and then allowed us to marry women with a temporary contract (2) and recited to us: -- 'O you who believe ! Make not unlawful the good things which Allah has made lawful for you and cross not limit. Undoubtedly, Allah likes not those who cross the limit'. (5.87)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے ، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد بجلی نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کو جایا کرتے تھے اور ہمارے پاس روپیہ نہ تھا ( کہ ہم شادی کر لیتے ) اس لئے ہم نے عرض کیا ہم اپنے کو خصی کیوں نہ کرالیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ۔ پھر ہمیں اس کی اجازت دے دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے پر ( ایک مدت تک کے لئے ) نکاح کر لیں ۔ آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنا ئی کہ ” ایمان لانے والو ! وہ پاکیزہ چیزیں مت حرام کرو جو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو ، بیشک اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا “ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I am a young man and I am afraid that I may commit illegal sexual intercourse and I cannot afford to marry." He kept silent, and then repeated my question once again, but he kept silent. I said the same (for the third time) and he remained silent. Then repeated my question (for the fourth time), and only then the Prophet said, "O Abu Huraira! The pen has dried after writing what you are going to confront. So (it does not matter whether you) get yourself castrated or not."
اور اصبغ نے کہا کہ مجھے ابن وہب نے خبر دی ، انہیں یونس بن یزید نے ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نوجوان ہوں اور مجھے اپنے پر زنا کا خوف رہتا ہے ۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں کسی عورت سے شادی کر لوں ۔ آپ میری یہ بات سن کر خاموش رہے ۔ دوبارہ میں نے اپنی یہی بات دہرائی لیکن آپ اس مر تبہ بھی خاموش رہے ۔ سہ بارہ میں نے عرض کیا آپ پھر بھی خاموش رہے ۔ میں نے چو تھی مرتبہ عرض کیا آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ ! جو کچھ تم کرو گے اسے ( لوح محفوظ میں ) لکھ کر قلم خشک ہوچکاہے ۔ خواہ اب تم خصی ہو جاؤ یا باز رہو ۔ یعنی خصی ہونا بیکار محض ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Suppose you landed in a valley where there is a tree of which something has been eaten and then you found trees of which nothing has been eaten, of which tree would you let your camel graze?" He said, "(I will let my camel graze) of the one of which nothing has been eaten before." (The sub-narrator added: `Aisha meant that Allah's Messenger (ﷺ) had not married a virgin besides herself .)
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے سلیمان بن بلال نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فرمائیے اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ اپنا اونٹ ان درختوںمیں سے کس درخت میں چرائیں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں سے ابھی چرا یا نہیں گیا ہو ۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said (to me), "You have been shown to me twice in (my) dreams. A man was carrying you in a silken cloth and said to me, 'This is your wife.' I uncovered it; and behold, it was you. I said to myself, 'If this dream is from Allah, He will cause it to come true.' "
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! مجھے خواب میں دو مرتبہ تم دکھائی گئیں ۔ ایک شخص ( جبرائیل ) تمہاری صورت حریر کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہے میں نے جو اس کپڑے کو کھولا تو اس میں تم تھیں ۔ میں نے خیا ل کیا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کر کے رہے گا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullahرضی اللہ عنہما :
While we were returning from a Ghazwa (Holy Battle) with the Prophet, I started driving my camel fast, as it was a lazy camel A rider came behind me and pricked my camel with a spear he had with him, and then my camel started running as fast as the best camel you may see. Behold! The rider was the Prophet (ﷺ) himself. He said, 'What makes you in such a hurry?" I replied, I am newly married " He said, "Did you marry a virgin or a matron? I replied, "A matron." He said, "Why didn't you marry a young girl so that you may play with her and she with you?" When we were about to enter (Medina), the Prophet (ﷺ) said, "Wait so that you may enter (Medina) at night so that the lady of unkempt hair may comb her hair and the one whose husband has been absent may shave her pubic region.
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سیا ر بن ابی سیار نے بیان کیا ، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد سے واپس ہو رہے تھے ۔ میں اپنے اونٹ کو ، جو سست تھا تیز چلانے کی کو شش کر رہا تھا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار مجھ سے آکرملا اور اپنا نیزہ میرے اونٹ کو چبھو دیا ۔ اس کی وجہ سے میرا اونٹ تیز چل پڑا جیسا کہ کسی عمدہ قسم کے اونٹ کی چال تم نے دیکھی ہو گی ۔ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا ابھی میری شادی نئی ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایاکنواری سے یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کسی کنواری سے کیوں نہ کی تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی ۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے تو آپ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ اور رات ہو جائے تب داخل ہو تاکہ پریشان بالوں والی کنگھا کر لیوے اورجن کے شوہرموجود نہیں تھے وہ اپنے بال صاف کر لیں ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
When I got married, Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "What type of lady have you married?" I replied, "I have married a matron' He said, "Why, don't you have a liking for the virgins and for fondling them?" Jabir also said: Allah's Messenger (ﷺ) said, "Why didn't you marry a young girl so that you might play with her and she with you?' When I (Shobah) narrated this Hadith to Amr bin Dinaar, he said that he heard that Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما say: Allah's Apostle said to me: Why don't you marry a young girl so that you may play with her, and she may play with you?'
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے عرض کیا کہ
میں نے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کس سے شادی کی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک عورت سے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہ کی کہ اس کے ساتھ تم کھیل کو د کرتے ۔ محارب نے کہا کہ پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عمرو بن دینا ر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے سناہے ۔ مجھ سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس طرح بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی ۔
Narrated 'Urwa:
The Prophet (ﷺ) asked Abu Bakr رضی اللہ عنہ for `Aisha's hand in marriage. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said "But I am your brother." The Prophet (ﷺ) said, "You are my brother in Allah's religion and His Book, but she (Aisha) is lawful for me to marry."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے ، ان سے یزید بن حبیب نے ، ان سے عراک بن مالک نے اور ان سے عروہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے شادی کے لئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں آپ کا بھائی ہوں ۔ ( تو عائشہ کیسے نکاح کریں گے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ میرے لئے حلال ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The best women are the riders of the camels and the righteous among the women of Quraish. They are the kindest women to their children in their childhood and the more careful women of the property of their husbands."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سوار ہونے والی ( عرب ) عورتوں میں بہترین عورت قریش کی صالح عورت ہوتی ہے جو اپنے بچے سے بہت زیا دہ محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال اسباب میں اس کی بہت عمدہ نگہبان و نگراں ثابت ہوتی ہے ۔