Back to Sahih Bukhari

To make the Heart Tender (Ar-Riqaq)

كتاب الرقاق

Chapter 82

Hadith 6432
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّاب ٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Khabbab رضی اللہ عنہ :

We migrated with the Prophet..(This narration is related in the chapter of migration).

Urdu

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے ، ان سے اعمش نے ان سے ابووائل نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی اور اس کا قصہ بیان کیا ۔

Hadith 6433
Sahih
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ ابْنَ أَبَانَ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بِطَهُورٍ وَهْوَ جَالِسٌ عَلَى الْمَقَاعِدِ، فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَهْوَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ هَذَا الْوُضُوءِ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَغْتَرُّوا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn-e-Aban:

I brought water to `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ to perform the ablution while he was sitting on his seat. He performed the ablution in a perfect way and said, "I saw the Prophet (ﷺ) performing the ablution in this place and he performed it in a perfect way and said, "Whoever performs the ablution as I have done this time and then proceeds to the mosque and offers a two-rak`at prayer and then sits there (waiting for the compulsory congregational prayers), then all his past sins will be forgiven." The Prophet (ﷺ) further added, "Do not be conceited (thinking that your sins will be forgiven because of your prayer). He states that the prophet ﷺ said: Don't get deceived.

Urdu

ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابراہیم قرشی نے بیان کیا کہ مجھے معاذ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، انہیں حمران بن ابان نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ

میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے وضو کا پانی لے کر آیا وہ چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے ، پھر انہوں نے اچھی طرح وضو کیا ۔ اس کے بعد کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو کیا ۔ پھر فرمایا کہ جس نے اس طرح وضو کیا اور پھر مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر یہ بھی فرمایا کہ اس پر مغرورنہ ہو جاؤ ۔

Hadith 6434
Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مِرْدَاسٍ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ، وَيَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ، لاَ يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بَالَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ حُفَالَةٌ وَحُثَالَةٌ‏.‏
English

Narrated Mirdas Al-Aslami رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The righteous (pious people will depart (die) in succession one after the other, and there will remain (on the earth) useless people like the useless husk of barley seeds or bad dates, and Allah will not care even the least for them. Imam Bukhari said: ''حُفَالَةٌ '' means the useless part.

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے بیان بن بشر نے ، ا ن سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعدجو کہ بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے جن کی اللہ پاک کو کچھ ذرا بھی پروا نہ ہو گی ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حفالہ اور حثالہ دونوں کے ایک معنیٰ ہیں ۔

Hadith 6435
Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَالْقَطِيفَةِ وَالْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Perish the slave of Dinar, Dirham, Qatifa (thick soft cloth), and Khamisa (a garment), for if he is given, he is pleased; otherwise he is dissatisfied."

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی ، انہیں ابو حصین ( عثمان بن عاصم ) نے ، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دینار و درہم کے بندے ، عمدہ ریشمی چادروں کے بندے ، سیاہ کملی کے بندے ، تباہ ہو گئے کہ اگر انہیں دیا جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض رہتے ہیں ۔

Hadith 6436
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى ثَالِثًا، وَلاَ يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

I heard the Prophet (ﷺ) saying, "If the son of Adam (the human being) had two valleys of money, he would wish for a third, for nothing can fill the belly of Adam's son except dust, and Allah forgives him who repents to Him."

Urdu

ہم سے ابو عاصم نبیل نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے کہا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو ( دل سے ) سچی توبہ کرتا ہے ۔

Hadith 6437
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ مِثْلَ وَادٍ مَالاً لأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ، وَلاَ يَمْلأُ عَيْنَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلاَ أَدْرِي مِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لاَ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "If the son of Adam had money equal to a valley, then he will wish for another similar to it, for nothing can satisfy the eye of Adam's son except dust. And Allah forgives him who repents to Him." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said: I do not know whether this saying was quoted from the Qur'an or not. `Ata' said, "I heard Ibn Az Zubair رضی اللہ عنہما saying this narration while he was on the pulpit."

Urdu

مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے عطاء سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، کہا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر انسان کے پاس مال ( بھیڑ بکری ) کی پوری وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اسے ویسی ہی ایک اور مل جائے اور انسان کی آنکھ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ سے توبہ کرتا ہے ، وہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں ۔ بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہماکو یہ منبر پر کہتے سنا تھا ۔

Hadith 6438
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، عَلَى الْمِنْبَرِ بِمَكَّةَ فِي خُطْبَتِهِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ أُعْطِيَ وَادِيًا مَلأً مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَانِيًا، وَلَوْ أُعْطِيَ ثَانِيًا أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَالِثًا، وَلاَ يَسُدُّ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Sahl bin Sa`d:

I heard Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہما who was on the pulpit at Mecca, delivering a sermon, saying, "O men! The Prophet used to say, "If the son of Adam were given a valley full of gold, he would love to have a second one; and if he were given the second one, he would love to have a third, for nothing fills the belly of Adam's son except dust. And Allah forgives he who repents to Him." Ubai said, "We considered this as a saying from the Qur'an till the Sura (beginning with) 'The mutual rivalry for piling up of worldly things diverts you..' (102.1) was revealed."

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن غسیل نے بیان کیا ، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے بیان کیاانہوں نے کہا کہ

میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مکہ مکرمہ میں منبرپر یہ کہتے سنا ۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اے لوگو ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر انسان کو ایک وادی سونا بھرکے دے دیا جائے تو وہ دوسری کا خواہشمند رہے گا اگر دوسری دے دی جائے تو تیسری کا خواہشمند رہے گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ پاک اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے ۔

Hadith 6439
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ، وَلَنْ يَمْلأَ فَاهُ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Adam's son had a valley full of gold, he would like to have two valleys, for nothing fills his mouth except dust. And Allah forgives him who repents to Him."

Urdu

ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبردی

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ دو ہو جائیں اور اس کا منہ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے ۔

Hadith 6440
Sahih
وَقَالَ لَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُبَىٍّ، قَالَ كُنَّا نَرَى هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ حَتَّى نَزَلَتْ ‏{‏أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ‏}‏
English

Narrated Ubayy رضی اللہ عنہ :

We would consider it a part of the Quran until the chapter ''Takathur'' was revealed.

Urdu

اور ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، ان سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہ

ہم اسے قرآن ہی میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ آیت ” الھکم التکاثر “ نازل ہوئی ۔

Hadith 6441
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ هَذَا الْمَالُ ـ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ لِي يَا حَكِيمُ ـ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ‏"‏‏.‏
English

Narrated Hakim bin Hizam:

I asked the Prophet (for some money) and he gave me, and then again I asked him and he gave me, and then again I asked him and he gave me and he then said, "This wealth is (like) green and sweet (fruit), and whoever takes it without greed, Allah will bless it for him, but whoever takes it with greed, Allah will not bless it for him, and he will be like the one who eats but is never satisfied. And the upper (giving) hand is better than the lower (taking) hand."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے زہری سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ مجھے عروہ اور سعید بن مسیب نے خبر دی ، انہیں حکیم بن حزام نے ، کہا کہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگاتو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطاء فرمایا ۔ میں نے پھر مانگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطاء فرمایا ۔ پھر میں نے مانگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطاء فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ مال ۔ اور بعض اوقات سفیان نے یوں بیان کیا کہ ( حکیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ) اے حکیم ! یہ مال سرسبز اور خوشگوار نظر آتا ہے پس جو شخص اسے نیک نیتی سے لے اس میں برکت ہوتی ہے اور جو لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس شخص جیسا ہو جاتا ہے جو کھاتا جا تا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے ۔

Hadith 6442
Sahih
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "Who among you considers the wealth of his heirs dearer to him than his own wealth?" They replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! There is none among us but loves his own wealth more." The Prophet (ﷺ) said, "So his wealth is whatever he spends (in Allah's Cause) during his life (on good deeds) while the wealth of his heirs is whatever he leaves after his death."

Urdu

مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا ، ان سے حارث بن سوید نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پیارا ہو ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم میں کوئی ایسانہیں جسے مال زیادہ پیارا نہ ہو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر اس کا مال وہ ہے جو اس نے ( موت سے ) پہلے ( اللہ کے راستہ میں خرچ ) کیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو وہ چھوڑ کر مرا ۔

Hadith 6443
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي وَحْدَهُ، وَلَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ ـ قَالَ ـ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ ـ قَالَ ـ فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلاَّ مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا، فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ لِي ‏"‏ اجْلِسْ هَا هُنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِي ‏"‏ اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لاَ أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللُّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهْوَ مُقْبِلٌ وَهْوَ يَقُولُ ‏"‏ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ‏"‏‏.‏ قَالَ فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَلِكَ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، قَالَ بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ نَعَمْ، وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ. قَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَالأَعْمَشُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، بِهَذَا‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، مُرْسَلٌ، لاَ يَصِحُّ، إِنَّمَا أَرَدْنَا لِلْمَعْرِفَةِ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ‏.‏ قِيلَ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ مُرْسَلٌ أَيْضًا لاَ يَصِحُّ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ‏.‏ وَقَالَ اضْرِبُوا عَلَى حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ هَذَا‏.‏ إِذَا مَاتَ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ عِنْدَ الْمَوْتِ‏.‏
English

Narrated Abu Dhar رضی اللہ عنہ :

Once I went out at night and found Allah's Messenger (ﷺ) walking all alone accompanied by nobody, and I thought that perhaps he disliked that someone should accompany him. So I walked in the shade, away from the moonlight, but the Prophet (ﷺ) looked behind and saw me and said, "Who is that?" I replied, "Abu Dhar, let Allah get me sacrificed for you!" He said, "O Abu Dhar, come here!" So I accompanied him for a while and then he said, "The rich are in fact the poor (little rewarded) on the Day of Resurrection except him whom Allah gives wealth which he gives (in charity) to his right, left, front and back, and does good deeds with it. I walked with him a little longer. Then he said to me, "Sit down here." So he made me sit in an open space surrounded by rocks, and said to me, "Sit here till I come back to you." He went towards Al-Harra till I could not see him, and he stayed away for a long period, and then I heard him saying, while he was coming, "Even if he had committed theft, and even if he had committed illegal sexual intercourse?" When he came, I could not remain patient and asked him, "O Allah's Prophet! Let Allah get me sacrificed for you! Whom were you speaking to by the side of Al-Harra? I did not hear anybody responding to your talk." He said, "It was Gabriel who appeared to me beside Al-Harra and said, 'Give the good news to your followers that whoever dies without having worshipped anything besides Allah, will enter Paradise.' I said, 'O Gabriel! Even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse?' He said, 'Yes.' I said, 'Even if he has committed theft or committed illegal sexual intercourse?' He said, 'Yes.' I said, 'Even if he has committed theft or committed illegal sexual intercourse?' He said, 'Yes.' "And though he imbibies. Habeeb bin Abu Thabit, Aamash and Abdul Aziz bin Rafi reported it from Zaid bin Wahab. Imam Bukhari said: The Hadith which Abu Sualih has reported from Abu Derda is Mursal and is not authentic. We have mentioned it only for awareness. The authentic one is that of Hadrat Abu Dharr. It was said to Imam Bukhari: Ata bin Yasar has also reported it from Hadrat Abu Derda. He, thereupon, replied: That is Mursal, too. Hadrat Abu Dharr's Hadith is the authentic one. He further said: Add this to Hadrat Abu Derda's Hadith: When this to Hadrat Abu Derda's Hadith: When someone dies and pronounce ''لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّ'' while dying.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن رفیع نے ، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ایک روز میں باہر نکلاتو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا ۔ ابوذررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے ۔ اس لئے میں چاند کے سائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ اس کے بعد آپ مڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ابوذر ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ابوذر ! یہاں آؤ ۔ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جو لوگ ( دنیا میں ) زیادہ مال و دولت جمع کئے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے ۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیاہو اور انہوں نے اسے دائیں بائیں ، آگے پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو ۔ ( ابوذر رضی اللہ عنہ نے ) بیان کیا کہ پھر تھوڑی دیر تک میں آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں بیٹھ جاؤ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا کہ یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ آؤں ۔ پھر آپ پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ آپ وہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے ۔ پھر میں نے آپ سے سنا ، آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے ” چاہے چوری ہو ، چاہے زنا ہو “ ابوذر کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے ۔ اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے ۔ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” یہ جبرائیل علیہ السلام تھے ۔ پتھریلی زمین ( حرہ ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوشخبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔ میں نے عرض کیا اے جبرائیل ! خواہ اس نے چوری کی ہو ، زناکیا ہو ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ہاں ، خواہ اس نے شراب ہی پی ہو ۔ “ نضرنے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ( کہا ) ہم سے حبیب بن ابی ثابت ، اعمش اور عبد العزیز بن رفیع نے بیان کیا ، ان سے زید بن وہب نے اسی طرح بیان کیا ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابوصالح نے جو اسی باب میں ابودرداء سے روایت کی ہے وہ منقطع ہے ( ابوصالح نے ابودرداء سے نہیں سنا ) اور صحیح نہیں ہے ہم نے یہ بیان کر دیا تاکہ اس حدیث کا حال معلوم ہو جائے اور صحیح ابوذر کی حدیث ہے ( جو اوپر مذکورہوئی ) کسی نے امام بخاری سے پوچھا عطاء بن یسار نے بھی تو یہ حدیث ابودرداء سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا وہ بھی منقطع ہے اور صحیح نہیں ہے ۔ آخر صحیح وہی ابوذر کی حدیث نکلی ۔ امام بخاری نے کہا ابودرداء کی حدیث کو چھوڑو ( وہ سند لینے کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ منقطع ہے ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ابوذر کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مرتے وقت آدمی لا الٰہ الا اللہ کہے اور توحید پر خاتمہ ہو ( تو وہ ایک نہ ایک دن ضرور جنت میں جائے گا گو کتنا ہی گنہگار ہو ) ۔ بعض نسخوں میں یہ ہے ھذا اذا تاب وقال لاالٰہ الا اللہ عند الموت یعنی ابوذرکی حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جو گناہ سے توبہ کرے اور مرتے وقت لا الٰہ الا اللہ کہے ۔

Hadith 6444
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا، تَمْضِي عَلَىَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، إِلاَّ شَيْئًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ، إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ‏.‏ ثُمَّ مَشَى فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ـ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ـ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ مَكَانَكَ لاَ تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ انْطَلَقَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى فَسَمِعْتُ صَوْتًا قَدِ ارْتَفَعَ، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ لِي ‏"‏ لاَ تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ‏"‏ فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَتَانِي، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتًا تَخَوَّفْتُ، فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ وَهَلْ سَمِعْتَهُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Dhar رضی اللہ عنہ :

While I was walking with the Prophet (ﷺ) in the Harra of Medina, Uhud came in sight. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dhar!" I said, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "I would not like to have gold equal to this mountain of Uhud, unless nothing of it, not even a single Dinar of it remains with me for more than three days, except something which I will keep for repaying debts. I would have spent all of it (distributed it) amongst Allah's Slaves like this, and like this, and like this." The Prophet (ﷺ) pointed out with his hand towards his right, his left and his back (while illustrating it). He proceeded with his walk and said, "The rich are in fact the poor (little rewarded) on the Day of Resurrection except those who spend their wealth like this, and like this, and like this, to their right, left and back, but such people are few in number." Then he said to me, "Stay at your place and do not leave it till I come back." Then he proceeded in the darkness of the night till he went out of sight, and then I heard a loud voice, and was afraid that something might have happened to the Prophet (ﷺ) .1 intended to go to him, but I remembered what he had said to me, i.e. 'Don't leave your place till I come back to you,' so I remained at my place till he came back to me. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I heard a voice and I was afraid." So I mentioned the whole story to him. He said, "Did you hear it?" I replied, "Yes." He said, "It was Gabriel who came to me and said, 'Whoever died without joining others in worship with Allah, will enter Paradise.' I asked (Gabriel), 'Even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse? Gabriel said, 'Yes, even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse."

Urdu

ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالاحوص ( سلام بن سلیم ) نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے زید بن وہب نے کہ حضرت ابوذرغفار ی رضی اللہ عنہ نے کہا

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے علاقہ میں چل رہا تھا کہ احد پہاڑ ہمارے سامنے آ گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے دریافت فرمایا ابوذر ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس سے بالکل خوشی نہیں ہو گی کہ میرے پاس اس احد کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گذر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوا اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے چھوڑ دوں بلکہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح خرچ کروں اپنی دائیں طرف سے ، بائیں طرف سے اور پیچھے سے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ، اس کے بعد فرمایا زیادہ مال جمع رکھنے والے ہی قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوا اس شخص کے جو اس مال کو اس اس طرح دائیں طرف سے ، بائیں طرف سے اور پیچھے سے خرچ کرے اور ایسے لوگ کم ہیں ۔ پھر مجھ سے فرمایا ، یہیں ٹھہرے رہو ، یہا ں سے اس وقت تک نہ جانا جب تک میں آنہ جاؤں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی جو بلند تھی ۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دشواری نہ پیش آ گئی ہو ۔ میں نے آپ کی خدمت میں پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کا ارشاد یاد آیا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا ، جب تک میں نہ آ جاؤں ۔ چنانچہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا ۔ پھر آپ آئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے ایک آواز سنی تھی ، مجھے ڈر لگا لیکن پھر آپ کا ارشاد یاد آیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے سنا تھا ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ۔ فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو جنت میں جائے گا ۔ میں نے پوچھا خواہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو ۔

Hadith 6445
Sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ،‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لاَ تَمُرَّ عَلَىَّ ثَلاَثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَىْءٌ، إِلاَّ شَيْئًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah Apostle said, "If I had gold equal to the mountain of Uhud, it would not please me that anything of it should remain with me after three nights (i.e., I would spend all of it in Allah's Cause) except what I would keep for repaying debts."

Urdu

مجھ سے احمد بن شبیب نے بیان کیا ، کہامجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے یونس نے اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے اس میں خوشی ہو گی کہ تین دن بھی مجھ پر اس حال میں نہ گزرنے پائیں کہ اس میں سے میرے پاس کچھ بھی باقی بچے ۔ البتہ اگر کسی کا قرض دورکرنے کے لئے کچھ رکھ چھوڑوں تو یہ اور بات ہے ۔

Hadith 6446
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Riches does not mean, having a great amount of property, but riches is selfcontentment."

Urdu

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو حصین نے بیان کیا ، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تونگری یہ نہیں ہے کہ سامان زیادہ ہو ، بلکہ امیری یہ ہے کہ دل غنی ہو ۔

Hadith 6447
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ ‏"‏ مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ، هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ‏.‏ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لاَ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لاَ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لاَ يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`id رضی اللہ عنہ :

A man passed by Allah's Messenger (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) asked a man sitting beside him, "What is your opinion about this (passer-by)?" He replied, "This (passer-by) is from the noble class of people. By Allah, if he should ask for a lady's hand in marriage, he ought to be given her in marriage, and if he intercedes for somebody, his intercession will be accepted. Allah's Messenger (ﷺ) kept quiet, and then another man passed by and Allah's Messenger (ﷺ) asked the same man (his companion) again, "What is your opinion about this (second) one?" He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This person is one of the poor Muslims. If he should ask a lady's hand in marriage, no-one will accept him, and if he intercedes for somebody, no one will accept his intercession, and if he talks, no-one will listen to his talk." Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "This (poor man) is better than such a large number of the first type (i.e. rich men) as to fill the earth."

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبد العزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے جو آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے ، پوچھا کہ اس شخص ( گزرے والے ) کے متعلق تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ یہ معزز لوگوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم یہ اس قابل ہے کہ اگر یہ پیغام نکاح بھیجے تو اس سے نکاح کر دیا جائے ۔ اگر یہ سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کر لی جائے ۔ بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے ۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گزرے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے متعلق بھی پوچھا کہ ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا ، یا رسول اللہ ! یہ صاحب مسلمانوں کے غریب طبقہ سے ہیں اور یہ ایسے ہیں کہ اگریہ نکاح کاپیغام بھیجیں تو ان کا نکاح نہ کیا جائے ، اگر یہ کسی کی سفارش کریں تو ان کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر کچھ کہیں تو ان کی بات نہ سنی جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا ۔ اللہ کے نزدیک یہ پچھلا محتاج شخص اگلے مالدا ر شخص سے گو ویسے آدمی زمین بھر کر ہوں ، بہتر ہے ۔

Hadith 6448
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ عُدْنَا خَبَّابًا فَقَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ نَمِرَةً فَإِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدُبُهَا‏.‏
English

Narrated Khabbab رضی اللہ عنہ :

"We migrated with the Prophet (ﷺ) for Allah's Sake and our wages became due on Allah. Some of us died without having received anything of the wages, and one of them was Mus`ab bin `Umar رضی اللہ عنہ , who was martyred on the day of the battle of Uhud, leaving only one sheet (to shroud him in). If we covered his head with it, his feet became uncovered, and if we covered his feet with it, his head became uncovered. So the Prophet (ﷺ) ordered us to cover his head with it and put some Idhkhir (a kind of grass) over his feet. On the other hand, some of us have had the fruits (of our good deed) and are plucking them (in this world).

Urdu

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے ، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا ، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیاکہ

ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی ۔ چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ذمہ رہا ۔ پس ہم میں سے کوئی تو گزر گیا اور اپنا اجر ( اس دنیا میں ) نہیں لیا ۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ( انہی ) میں سے تھے ، وہ جنگ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے اور ایک چادر چھوڑی تھی ( اس چادرکا ان کو کفن دیا گیا تھا ) اس چادرسے ہم اگر ان کا سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں اور کوئی ہم میں سے ایسے ہوئے جن کے پھل خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں ۔

Hadith 6449
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَيُّوبُ وَعَوْفٌ، وَقَالَ صَخْرٌ وَحَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏.‏
English

Narrated `Imran bin Husain رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "I looked into Paradise and found that the majority of its dwellers were the poor people, and I looked into the (Hell) Fire and found that the majority of its dwellers were women."Ayyub and Auf have also reported it. Abu Raja has reported it from Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما .

Urdu

ہم سے ابو ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلم بن زریر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو رجاء عمران بن تمیم نے بیان کیا ، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت میں جھانکا تو اس میں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو اس کی رہنے والیاں اکثر عورتیں تھیں ۔ ابورجاء کے ساتھ اس حدیث کو ایوب سختیانی اور عوف اعرابی نے بھی روایت کیا ہے اورصخر بن جویریہ اور حماد بن نجیح دونوں اس حدیث کو ابورجاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کیا ۔

Hadith 6450
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمْ يَأْكُلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ، وَمَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) did not eat at a table till he died, and he did not eat a thin nicely baked wheat bread till he died.

Urdu

ہم سے ابو معمر عبداللہ بن محمد بن عمرو بن حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور نہ وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی باریک چپاتی تناول فرمائی ۔

Hadith 6451
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَىْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلاَّ شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَىَّ، فَكِلْتُهُ، فَفَنِيَ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

When the Prophet (ﷺ) died, nothing which can be eaten by a living creature was left on my shelf except some barley grain. I ate of it for a period and when I measured it, it finished.

Urdu

ہم سے ابوبکر عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھا جو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا ، سوا تھوڑے سے جو کے میرے توشہ خانہ میں تھے ، میں ان میں ہی سے کھاتی رہی آخر اکتا کر جب بہت دن ہو گئے تو میں نے انہیں ناپا تو وہ ختم ہو گئے ۔